مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 6 از 9

تو غور کیجیے! نبی بھی کبھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ خدا اس پر قادر نہیں ہے؟ اگر ایک عام شخص بھی اس قسم کا خیال کرے کہ خدا اس پر قادر نہیں ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے چہ جائیکہ ایک نبی ایسا خیال کرے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام فی الواقع اللہ تعالیٰ کو قادر نہ سمجھتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری عمل اور عملی اقدام کو مدنظر رکھ کر تنبیہ فرما رہے ہیں کہ گویا انہوں نے جو یہ عمل کیا اس قسم کا خیال جیسے کسی کے دل میں آگیا ہو ورنہ حقیقت میں ان کے دل میں یہ خیال تو ہرگز نہ آ سکتا تھا۔

تو سیدنا عمر فاروقؓ بھی اسی طرح سیدنا عباسؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو فرما رہے ہیں کہ گویا تمہارا بار بار فِدک کے لیے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور میں نے جو پہلے فیصلے دیے ہیں اُن میں ہم کاذب، آثم، غادر و خائن تھے ورنہ فی الواقع نہ سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا عباسؓ نے ایسا کہا اور نہ ایسا سمجھا یہ صرف ان دونوں حضرات خصوصاً سیدنا عباسؓ کو تنبیہ تھی جو کہ واضح فیصلوں کے بعد پھر فیصلہ کے لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دربار میں لائے تھے۔ 

ورنہ اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کو کاذب و خائن سمجھتے تو کبھی ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے اور نہ ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے اور نہ سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے جو کہ شیعہ کی کتاب نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 24 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ سے فرمایا کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے غزوہِ روم میں خود بنفسِ نفیس شریک ہونے کے لیے یہ مشورہ طلب کیا تو سیدنا علی علیہ السلام نے فرمایا:  

وَقَدْ تَوَكَّلَ اللَّهُ لِأَهْلِ هَذَا الدِّينِ بِإِعْزَازِ الْحَوْزَةِ وَسَتْرِ الْعَوْرَةِ وَالَّذِی نَصَرَهُمْ وَهُمْ قَلِيلٌ لَا يَنْتَصِرُونَ وَمَنَعَهُمْ وَهُمْ قَلِيلٌ لَا يَمْتَنِعُونَ حَی لَا يَمُوتُ إِنَّكَ مَتَى تَسِرْ إِلَى هَذَا الْعَدُوِّ بِنَفْسِكَ فَتَلْقَهُمْ فَتُنْكَبِ الْمُسْلِمِينَ كَاشِفَةً دُونَ أَقْصَى بِلَادِهِمْ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ مَرْجِعٌ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مُجَرَّبًا وَأَحْفِزْ مَعَهُ أَهْلَ الْبَلَاءِ وَالنَّصِيحَةِ فَإِنْ أَظْهَرَهُ اللَّهُ فَذَاكَ مَا تُحِبُّ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى كُنْتَ رِدْءًا لِلنَّاسِ وَمَثَابَةً لِلْمُسْلِمِينَ۔

ترجمہ: بہ تحقیق اللہ اس دین والوں کے لیے ذمہ دار ہے ان کی جماعت کو عزت دینے اور ان کی کمزوریوں کو چھپانے کا اور جس نے ان کو اس حال میں مدد دی جب کہ وہ کم تھے فتح نہیں پا سکتے تھے اور اس حال میں ان کو محفوظ رکھا کہ وہ کم تھے اور محفوظ نہیں رہ سکتے تھے وہ اللہ اب بھی زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا بہ تحقیق جس وقت آپ اس دشمن کے سامنے جائیں گے اور خود ان سے مقابلہ کریں گے تو اگر کہیں آپ شہید ہو گئے تو پھر مسلمانوں کو کوئی جائے پناہ ان کے آخری شہروں تک کہیں نہ ملے گی کیونکہ آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس کی طرف مسلمان رجوع کریں لہٰذا آپ کسی شخصِ تجربہ کار کو ان کی طرف روانہ کیجیے اور اس کے ساتھ آزمودہ کار اور خیر خواہ لوگوں کو بھیجیے تاکہ اگر ان کو اللہ تعالیٰ غلبہ دے تو یہی آپ کا مقصود ہے اور اگر خدا نخواستہ کوئی دوسری صورت ہوئی تو آپ مسلمانوں کے لیے جائے پناہ اور ان کے مرجع موجود رہیں گے۔

حضرات! غور کیجیے، سیدنا علی المرتضیٰؓ اگر سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب، غادر اور خائن سمجھتے تو رکنے کی بجائے میدانِ جنگ میں جانے کی ترغیب دیتے اور ان کی شہادت کو مسلمانوں کے لیے راحت سمجھتے مگر اس کے برعکس سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو:  

الف: مسلمانوں کا مرجع اور ملجأ و ماویٰ بتایا۔  

ب: نیز سیدنا عمر فاروقؓ کو بے مثل و بے نظیر خلیفہ جانتے تھے اور ان کا اعتقاد تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد مسلمانوں کو کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔

2: عقد الفرید اور الفاروق سے جو کہانی بی بی فاطمہؓ کے گھر جلانے کی مولوی اسماعیل نے بیان کی ہے یہ سراسر موضوع اور غلط روایت ہے اہلِ سنت کی کسی معتبر مستند کتاب میں یہ روایت نہیں ملتی جہاں بھی یہ لکھی ہوئی ہے شیعہ کی روایت لکھی ہوئی ہے اور خود شیعہ نے بھی اس روایت کو کمزور و ضعیف لکھا ہے۔

علامہ ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 466 پر لکھتے ہیں:  

وَأَمَّا مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْهُجُومِ عَلَى دَارِ فَاطِمَةَ وَجَمْعِ الْحَطَبِ لِتَحْرِيقِهَا فَهُوَ خَبَرٌ وَاحِدٌ غَيْرُ مَوْثُوقٍ بِهِ وَلَا مَعْوَلَ عَلَيْهِ فِی حَقِّ الصَّحَابَةِ بَلْ وَلَا فِی حَقِّ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِمَّنْ ظَهَرَتْ عَدَالَتُهُ۔ 

ترجمہ: بہر حال یہ جو روایت ذکر کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے گھر پر ہجوم کر کے حملہ کیا اور لکڑیاں جمع کی گئیں تاکہ اس گھر کو جلایا جائے تو یہ خبرِ واحد ہے جو معتبر نہیں ہے اور نہ اس خبر پر کوئی اعتماد و اعتبار ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں بلکہ کسی عام مسلمان کے حق میں بھی ایسی روایت قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتی جس کی عدالت اور نیکی ظاہر ہو۔

نیز الفاروق کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: اگرچہ سند کے اعتبار سے اس روایت میں ہم اپنا اعتبار ظاہر نہیں کر سکتے صفحہ 54 الفاروق کے یہ الفاظ صاف طور پر دلالت کرتے ہیں اور شرح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید سے بھی یہی ثابت ہے کہ یہ روایت بالکل غیر معتبر ہے، اس کی سند کا کوئی اعتبار نہیں۔

علاوہ ازیں اگر بالفرض المحال یہ روایت مان بھی لی جائے تو اس روایت میں نہ بی بی فاطمہؓ کا جلانا مقصود ہے اور نہ اُس مکان کا جلانا مقصود ہے جس میں سیدہؓ رہتی تھیں بلکہ ایک مکان کو جلانے کی دھمکی دی گئی تھی جو کہ حضرتِ زہراءؓ کا تھا اور اس میں بعض لوگ جمع ہو کر ایسے مشورے کرتے تھے جو اسلامی مفاد اور وحدتِ قومی اور تنظیمِ ملی کے خلاف تھے اور خاتونِ جنت نے خود اُن لوگوں کو وہاں جمع ہونے سے منع کردیا تھا، جیسا کہ حق الیقین جلد 1 کے صفحہ 140 پر ہے کہ خاتونِ جنت نے ان لوگوں کو فرمایا: 

صفحہ 6 از 9