مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 5 از 9

فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ الْمَرَضُ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَن يُصَلِّی بِالنَّاسِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمَيْنِ۔

ترجمہ: پھر جب حضورِ اکرمﷺ کا مرض سخت ہو گیا تو آپ نے ابوبکرؓ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس کے بعد حضرت محمدﷺ کی زندگی میں تمام لوگوں کو دو دن تک نماز پڑھاتے رہے پھر حضورِ اکرمﷺ کی وفات ہو گئی۔

تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو یہ امامت اور منبر و مصلے کی نیابت خود حضورِ اکرمﷺ نے عطا فرمائی تھی اور امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے نمازیں ادا کرتے تھے، جیسا کہ احتجاج طبرسی کے صفحہ 60 پر اور غر و درر واحۃ حیدری صفحہ 62 پر ہے ضمیمہ مقبول ترجمہ کے صفحہ 315 پر ثابت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ مسجدِ نبوی میں آ کر سیدنا صدیق اکبرؓ کے پیچھے نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ 

علاوہ ازیں سیدنا حسینؓ کے الفاظ جو اس روایت میں ہیں وہ خود صاف دلالت کرتے ہیں کہ ان حضرات کی یہ بات محض بطورِ طفولیت اور بچپن کی تھی کہ پہلے اس منبر پر ہمارے نانا بیٹھتے تھے، اب صدیقِ اکبرؓ کیوں بیٹھے ہیں؟ ورنہ اگر وہ یہ بات سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے ناحق ہونے کے لیے کہتے تو یوں کہتے: ہمارے والد بزرگوار سیدنا علی المرتضیٰؓ کے منبر سے اُتر آؤ، اس پر تم کیوں بیٹھے ہو؟ کیونکہ خلافت ان کا حق ہے۔ 

ہم تو کہتے ہیں کہ اگر بالفرض اُس وقت منبرِ نبوی پر سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی بیٹھے ہوتے تو ان کو بھی سیدنا حسینؓ اسی طرح کہتے کہ تم کیوں ہمارے نانا کے منبر پر بیٹھے ہو؟ اس بات سے خلافت کے حق یا ناحق ہونے کا کون سا ثبوت ہو جاتا ہے؟

مناظر شیعہ:

اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 91 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ دونوں کو كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا کہا تو جن کو امیر المؤمنین علی المرتضیٰؓ اس قسم کا سمجھیں ان کی خلافت کیسے حق ہو سکتی ہے؟  

2: عقد الفرید کے صفحہ 63 پر ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ حضرت فاطمہؓ کا گھر جلانے کے لیے آئے کیونکہ سیدہ فاطمہؓ کے گھر میں مشورے ہوتے تھے تو سیدنا عمرؓ نے کہا میں تمہارے گھر کو جلا دوں گا اور الفاروق کے صفحہ 91 پر ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کو کہا کہ میں تیرا گھر جلا دوں گا۔  

3: اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم کی جلد 2 صفحہ 129 پر ہے کہ امام و امراء جب تک نمازیں پڑھتے رہیں اور علانیہ کفر ظاہر نہ کریں ان سے جنگ نہ کرو اصحابِ ثلاثہؓ چونکہ انشِ اسم کے تھے، اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ ان سے آمد و رفت اور تعلقات رکھتے تھے، اور ان سے جنگ نہ کی۔

مناظر اہل سنت:

مناظرِ اہلِ سنت مولوی اسماعیل صاحب نے اب تک آیتِ استخلاف کا کوئی صحیح مصداق نہیں بتلایا۔ کیونکہ خلفائے راشدینؓ کے سوا کوئی اس آیت کا مصداق حاضرین میں سے بن ہی نہیں سکتا نیز سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں، اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

1: مولوی اسماعیل نے یہ بات بالکل غلط کہی ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب، آثم، غادر، خائن وغیرہ کہا صحیح مسلم شریف میں کسی جگہ یہ نہیں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو ایسا کہا بلکہ یہ الفاظ خود سیدنا عمر فاروقؓ نے اس وقت کہے جب اس سے پہلے سیدنا عمر فاروقؓ نے فِدک کی زمین سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کے سپرد کر دی تھی اور ان کا آپس میں کچھ جھگڑا ہو گیا تو سیدنا عباسؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دوسری دفعہ پھر سیدنا عمر فاروقؓ کے دربار میں لائے۔ 

جس پر سیدنا عمر فاروقؓ نے ان دونوں حضرات کو مخاطب کر کے حضرت عباسؓ کو تنبیہ کرنے کے لیے فرمایا: تم جو اس وقت دوسری دفعہ میرے پاس آئے ہو حالانکہ اس کا فیصلہ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی کر چکے ہیں اور میں بھی کر چکا ہوں کیا تم نے ہمارے فیصلوں کو غلط سمجھا ہے کہ اب پھر تیسری بار آگئے ہو؟ کیا تمہارے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ اور میرا پہلا فیصلہ بے انصافی اور خیانت اور گناہ پر مبنی تھا، اور تم ہم کو کاذب، آثم، غادر و خائن سمجھتے ہو؟ 

تو حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول یا تو بطورِ استفہام ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہے کہ انہوں نے رات کے وقت ستارہ کو دیکھ کر فرمایا:

هٰذَا رَبِّىۡ ‌الخ۔ (سورۃ الانعام: آیت 77)

کیا یہ میرا رب ہے؟ تو جس طرح اس کلام میں استفہام ہے مگر حرفِ استفہام مذکور نہیں اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ کے ان الفاظ میں بھی استفہام مقصود ہے اگرچہ حرفِ استفہام مذکور نہیں۔ 

اور یا سیدنا عمر فاروقؓ کا کلام بطورِ تنبیہ ہے کہ بار بار جو تم ہمارے پاس فِدک کے فیصلہ کے واسطے آتے ہو تو تم ہم کو گویا کاذب، غادر، آثم، خائن سمجھتے ہو جس میں صرف حضرت عباسؓ کو تنبیہ کرنا مقصود تھا جو کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو مجبور کر کے لائے تھے۔ 

اس روایتِ مسلم میں کسی جگہ یہ ثابت نہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کبھی کسی وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب و آثم، غادر و خائن کہا ہو۔ 

سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کی طرف اپنے متعلق کاذب، آثم، غادر، خائن ان الفاظ کی نسبت اسی طرح دی ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق ان کی ظاہری حالت کو مدنظر رکھ کر فرمایا: 

فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ الخ۔(سورۃ الانبیاء: آیت 87)

تو یونس علیہ السلام نے یہ خیال کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ اس پر ہرگز قادر نہیں ہیں۔ 

صفحہ 5 از 9