مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 4 از 9

مولوی اسماعیل صاحب! کوئی مجلس پڑھ رہے ہو جو کہتے ہو کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے حق میں یہ آیت آئی ہے، حالانکہ تمہارے عقیدے کے مطابق تو ہرگز نہیں۔ ان کے عہد میں دین کو مضبوطی حاصل نہیں ہوئی بلکہ مسلمان بھی مرتد ہو گئے تمہاری کتابیں تو کہتی ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ تو اس آیت کے قطعاً مصداق نہیں اور تمہارے عقیدے کے مطابق سیدنا حسنؓ کیسے مصداق بن سکتے ہیں؟ کیونکہ ان کی خلافت تو رہی ہی نہیں بلکہ آپ کی کتابوں میں ہے کہ سیدنا حسنؓ کو سیدنا امیرِ معاویہ امیرِ شام رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی پڑی۔ جیسا کہ تمہاری معتبر کتاب رجالِ کشی کے صفحہ 264 پر ہے کہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ 

باقی رہے سیدنا حسینؓ! تو ان کو کب خلافت فی الارض ملی اور کیسے تمكين فى الارض حاصل ہوئی کہ اس آیت کا وہ مصداق بن سکیں؟ اور تمہارے عقائد کے لحاظ سے تو ان تینوں حضرات کی زندگیوں میں وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ الخ۔(سورة النور: آیت 55) 

کی صفت بالکل حاصل نہیں ہوئی، بلکہ یہ تینوں حضرات خوف و خطر کی زندگی بسر کر کے دنیا سے گئے۔

3: مولوی اسماعیل صاحب سورہ محمد کی آیت:

فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ ۞(سورۃ محمد: آیت 22)

سے بحث کرتے ہیں کہ قرآن نے منافقوں کو فرما دیا ہے کہ تم بادشاہ بنو گے اور تم پر اللہ کی لعنت ہوگی یہ بات قطعاً غلط ہے اور قرآن پر بہتان ہے خدا جانے اس بے چارے کو قرآن میں اَنۡ کا لفظ نظر نہیں آتا، یا اس کے معنیٰ اور ترجمہ نہیں آتا، یا خواہ مخواہ قصداً قرآن پر بہتان لگا کر اپنی فیس کو حلال کر رہا ہے۔ 

آیت کے معنیٰ تو یہ ہیں: پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو فتنہ و فساد کرو گے ملک میں اور قطع کرو گے اپنی قرابتیں تو اس آیت میں یہ کہاں سے کہ اے منافقو! تم بادشاہ بنو گے؟ بلکہ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تمہارا حال ایسا ہوگا اس جگہ حکومت ملنے کا وعدہ کہاں ہے؟ کیا مولوی اسماعیل صاحب آیت:

وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِىۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 120)

 کے العیاذ باللہ یہ معنیٰ کریں گے کہ حضورِ اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تو لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگے گا اور ظالم ہو جائے گا؟

4: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا زبیرؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مخالفت کی، لہٰذا وہ بھی فاسق ہوں گے مولوی اسماعیل صاحب! غور کرو۔ المنجد لغت کی کتاب میں لکھا ہے: خَالَفَ بِمَعْنَى تَخَلَّفَ خالف تخلف کے معنیٰ سے آتا ہے اور تخلف کے معنیٰ دیر اور تاخیر کرکے آنا ہوا کرتا ہے۔ 

تو بخاری شریف کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا زبیرؓ رضی اللہ عنہ اس جماعت میں نہیں تھے جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر پہلے پہلے بیعت کی تھی بلکہ بعد میں بیعت کرنے والوں میں شامل ہوئے۔ تو پھر وہ فاسق کیسے ہو گئے؟ یہاں مخالفت کے معنیٰ نہیں کہ ان پر فسق کا فتویٰ لگ سکے۔ 

خود شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی کے صفحہ 55 اور صفحہ 56 پر ثابت ہے اور اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں بھی ثابت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ تو اب بیعت ثابت ہونے کے بعد کیسے فسق کا فتویٰ مولوی اسماعیل صاحب لگاتے ہیں؟ 

نیز شیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی جلد 3 صفحہ 115 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر مجبور ہو کر بیعت کی ادہر تو شیعہ حضرات اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی مشکل کشائی اور امداد کی جیسا کہ تاریخِ ائمہ کے صفحہ 52 پر ہے:  

رسولوں کی ہوئی حاجت روائی 

علی نے نوح کی کی ناخدائی

نہ کرتا گر علی مشکل کشائی  

نہ پاتا چاہ سے یوسف رہائی  

علی کا معجزہ اک اک ہے نادر 

علی کی ذات ہے، ہر شے پہ قادر  

اور ادہر لکھتے ہیں کہ ابوبکر و عمر سے ڈر کر مجبور ہو کر بیعت کی مولوی اسماعیل سے پوچھتا ہوں کہ جب تمہارے نزدیک تمام انبیاء علیہم السلام کا مشکل کشا اور عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞ تھا، اور جس کے بیٹے سیدنا حسینؓ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا مگر یزید فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت نہ کی، تو اس اللہ اور سیدنا حسینؓ کے والد بزرگوار نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر کیوں بیعت کرلی؟

5: سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کا یہ کہنا کہ ہمارے نانا کے منبر پر سے اتر جاؤ، کسی معتبر و مستند کتاب میں نہیں ہے اور اس کے راویوں پر پورا وثوق و اعتبار نہیں بالفرض المحال اگر ایسی روایت کو مان بھی لیا جائے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ حضورِ اکرمﷺ کے انتقال کے وقت چھوٹے چھوٹے کم سن بچے، چھ چھ اور سات سال کی عمر میں تھے۔ تو طفولیت اور بچپن کی وجہ سے اپنے نانا کے منبر پر جہاں حضورِ اکرمﷺ بیٹھا کرتے تھے اور آنحضرتﷺ کے سوا کوئی نہ بیٹھتا تھا، آج سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بیٹھا دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے نانا کا منبر ہے، تو کیوں بیٹھے ہیں؟ کیونکہ بچوں کی یہ عادتِ فطری ہے کہ کسی کو اپنے کسی بزرگ اور محبوب کی جگہ پر بیٹھا ہوا دیکھتے ہیں یا اس کی کوئی چیز استعمال کرتے دیکھتے ہیں، اگرچہ وہ استعمال کرنا اس بزرگ کی مرضی اور اجازت سے ہی کیوں نہ ہو، اس سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس جگہ سے اٹھ جاؤ یا یہ چیز ہمارے بزرگ کی چھوڑ دو ان کی ان باتوں سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ 

سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اگرچہ مراتبِ ایمانی اور کمالِ روحانی میں عام مخلوق سے ممتاز ہیں مگر احکامِ بشری اور خواصِ اصغرِ سنی اور خصائصِ طفولیت ان میں بھی پائے جاتے تھے۔ 

نیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ منبرِ نبوی پر خود بہ خود لوگوں کے کہنے سے تو نہیں بیٹھے بلکہ خود حضورِ اکرمﷺ نے ان کو یہ رتبہ بخشا تھا جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ درہ نجفیہ کے صفحہ 225 پر ہے:  

صفحہ 4 از 9