مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 9

دوسرے مولوی اسماعیل صاحب نے جو حوالہ فتح الباری سے نقل کیا ہے کہ بی بی حفصہؓ کی ہر روایت ضعیف ہے، تو کیا صاحبِ فتح الباری نے شیعہ کتابوں کے راویوں کے متعلق یہ اصول بیان کیا ہے؟ اس نے اگر بالفرض کوئی بات لکھی ہے تو وہ اپنے مذہب کی کتابوں کے راویوں اور روایت کے متعلق لکھی ہے۔ اور میں نے جو روایت پیش کی ہے یہ شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر صافی سے نقل کرکے پیش کی ہے صاحبِ فتح الباری کو شیعہ کتابوں کے راویوں سے کوئی بحث ہی نہیں البتہ مولوی اسماعیل کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی کتابوں سے اس روایت کا ضعف ثابت کرتے اور اگر مولوی اسماعیل صاحب اپنے مذہبِ شیعہ کا بطلان و ضعف اہلِ سنت کی کتابوں سے ثابت کرنا ناجائز سمجھتے ہیں تو پھر اہلِ سنت کی کتابوں کے لحاظ سے تو ان کا تمام مذہب ہی باطل و ناحق ہے۔

6: حضرات! میں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے برحق ہونے کے ثبوت میں حضرت علی المرتضیٰؓ کا بیعت کرنا شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کے صفحہ 54، 55 سے ثابت کیا ہے اور مولوی اسماعیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

حضرات! آپ ان تمام امور پر غور کیجیے کہ اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت ناحق ہوتی تو رسول اللہﷺ بجائے خوش خبری سنانے کے تردید فرماتے کیونکہ نبی کریمﷺ ہر فتنے اور ہر باطل کی تردید کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:

لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ الخ۔(سورۃ لقمان: آیت 13)

وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى الخ۔(سورۃ الاسراء: آیت 32)۔

وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 188)

وغیرہ وغیرہ۔ 

جب نبی کریمﷺ کو علم تھا کہ یہ لوگ خلافت غصب کریں گے اور ظلم کریں گے تو نبی کریمﷺ ضرور ان کی تردید فرماتے اور ان کو مدینہ سے باہر نکالتے اور ان سے برتاؤ، کلام و سلام چھوڑ کر قطعِ تعلقات کر لیتے اور سفر و حضر اور صلح و جنگ کا ساتھی اور وزیر و مشیر نہ بناتے کیونکہ نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ منافقوں کی مسجد میں نماز نہ پڑھو اور منافقوں کا جنازہ بھی نہ پڑھو اور ان کی قبر کے پاس بھی نہ ٹہھرو۔ 

تو جب منافقوں سے زندگی اور موت اور قبر ہر حال میں بائیکاٹ و قطعِ تعلق کرنے کا حکم تھا تو پھر رسول اللہﷺ کا اصحابِ ثلاثہؓ خلفائے راشدینؓ سے محبت، برادری کا تعلق اور سفر و حضر میں مصاحب اور وزیر و مشیر بنانا اور اس کے ساتھ اپنے بعد ان کی خلافت کی خبر دینا صاف بتاتا ہے کہ یہ حضرات مومنِ کامل اور خلفاء برحق ہیں اور مولوی اسماعیل نے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)

کا مصداق اب تک نہیں بتایا اور نہ قیامت تک بتا سکتا ہے اور نہ خلفائے راشدینؓ کے سوا کوئی مصداق بن سکتا ہے۔

مناظر شیعہ:

حضرات میں نے سیدنا جعفر صادقؒ کے قول هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ الخ کا ترجمہ خود امام کے قول سے پیش کیا ہے کیونکہ خود امام نے یہی مراد بیان کی ہے۔

2: مولوی عبدالستار بار بار مجھ سے آیتِ استخلاف کا مصداق پوچھتا ہے کہ وہ کم از کم تین حضرات کون ہیں جو مومنِ صالح بھی ہوں اور اس زمانے میں بھی ہوں اور اس آیت کا مصداق بنیں۔ تو ہماری کتاب اصولِ کافی صفحہ 115 پر ہے کہ بارہ امام خلیفہ بنیں گے اور آیتِ استخلاف کا مصداق ہمارے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ تین خلیفہ ہیں اب تو آیت کا مصداق پورا بتا دیا کیونکہ یہ تینوں حضرات اس زمانے میں بھی تھے اور مومنِ صالح بھی تھے اور تین کا عدد پورا ہو گیا۔

3: سورہ محمد میں ہے: 

فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ ۞(سورۃ محمد: آیت 22)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ منافقو! تم بادشاہ بنو گے، تم پر اللہ کی لعنت ہوگی۔ 

تو جب قرآن کی رو سے منافق بادشاہ بن سکتے ہیں اور اس آیت میں مخاطب حاضرین ہی ہیں تو معلوم ہوا کہ ان حاضرین میں سے بعض منافق بھی بادشاہ بن جائیں گے تو حاضرین میں سے اور کوئی بادشاہ نہیں بنا تو یہی اصحابِ ثلاثہؓ ہی بادشاہ بنے تو وہی اس آیت کے مصداق تھے اور منافق ہی تھے۔

4: مولوی عبد الستار نے کہا کہ اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت کا منکر فاسق ہے اور:

وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ‏ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 47) 

کے یہی معنیٰ کیے ہیں مگر ان کی بخاری شریف جلد 2 صفحہ 1009 پر ہے: 

خالف عَلِی وَالزُّبَيْرُ۔ 

ترجمہ: سیدنا علی المرتضیٰؓ اور زبیرؓ نے ابوبکرؓ کی خلافت کی مخالفت کی تو مولوی عبد الستار صاحب! یا تو ابوبکرؓ کی خلافت کو چھوڑو یا علیؓ اور زبیرؓ کو فاسق کہو۔

5: سیرتِ حلبیہ کے صفحہ 361 پر ہے کہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ نے ابوبکرؓ کو کہا: ہمارے نانا کے منبر پر سے اتر جاؤ تو اس سے ثابت ہوا کہ ابوبکرؓ کی خلافت حق نہ تھی۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ میں نے روایت هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ الخ کے وہی معنیٰ کیے ہیں جو سیدنا جعفر صادقؒ نے کیے ہیں، تو یہ بھی ان شیعوں کا حضراتِ ائمہ پر افتراء اور بہتان ہے۔ کیا حضراتِ ائمہ ایسے جاہلانہ اور ٹھیٹھ سے معنیٰ کر سکتے ہیں؟ العیاذ باللہ۔

2: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ آیتِ استخلاف کا مصداق سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ یہ تین حضرات ہیں مولوی اسماعیل بے چارے نے تو شاید اپنے مذہب کی کتابیں بھی نہیں دیکھیں۔ تفسیر صافی کے صفحہ 303 پر ہے: 

نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔

ترجمہ: کہ آیتِ استخلاف حضرت مہدی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ 

اور اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے کیونکہ ان کے زمانے میں تمكين فى الارض اور دین کو پوری قوت اور مضبوطی حاصل نہیں ہوئی۔ نیز ترجمہ مقبول کے صفحہ 507 پر ہے: اور خاص کر امیر المؤمنین کے زمانے میں تو بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے۔ 

صفحہ 3 از 9