مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 9

4: مولوی عبدالستار نے سیدنا جعفر صادقؒ کا جو یہ ارشاد هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ قَاسِطَانِ پڑھا ہے، اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ابوبکر و عمر امامِ اہلِ نار کے تھے۔ اور عادل کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ دونوں حق سے پھر گئے اور وہ دونوں ظالم تھے اور كَانَا عَلَى الْحَقِّ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں زور و زبردستی سے حق پر چڑھ گئے اور اسی حالت پر فوت ہوئے اور عليهما رحمة الله يوم القيامة

سے مراد ہے کہ قیامت کے دن ان دونوں پر جناب رحمتہ للعالمین حضورِ اکرمﷺ چڑھ جائیں گے اور ان سے اہلِ بیتؓ کا حق وصول کریں گے۔  

5: اور تفسیر صافی سے جو روایت مولوی عبد الستار صاحب نے نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ خبرِ خلافت کی اطلاع کسی کو نہ دینا مگر حضرت حفصہؓ نے خیانت کر کے رسول اللہﷺ کے راز کو ظاہر کر دیا دیکھیے حضرات مومنین کرام! مولوی عبد الستار نے یہ حصہ روایت کا آپ کے سامنے بیان نہیں کیا علاوہ ازیں اہلِ سنت کی کتاب فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 9 صفحہ 253 پر ہے کہ حفصہؓ کی ہر روایت کی سند میں ضعف ہے لہٰذا تفسیر صافی کی یہ روایت بھی سیدہ حفصہؓ سے ہے جو ضعیف ہے لہٰذا قابلِ اعتبار نہیں۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! خلافتِ خلفائے راشدینؓ قرآنِ مجید میں منصوص بالعلم نہیں بلکہ منصوص بالصفات اور موعود بالایمان ہے جس کا مظہر اور ظاہری سبب اجماع ہے یعنی رسول اللہﷺ کے خلفائے راشدینؓ میں سے کسی کا نام لے کر خاص طور پر اس کی خلافت کا اعلان تو قرآنِ مجید میں نہیں کیا گیا، نہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، نہ سیدنا عمر فاروقؓ اور نہ سیدنا عثمانِ غنیؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا بلکہ صرف صفتِ ایمان اور اعمالِ صالحہ پر خلافت کو حاضرین پر منصوص و موعود رکھا گیا ہے جس کو اجماع نے ظاہر کر دیا ہے لہٰذا خلافت منصوص و موعود بالصفات ہے۔

2: اگر خلافت منصوص بالعلم ہوتی تو اس کا منکر کافر ہوتا چونکہ یہ خلافت منصوص بالصفات ہے، لہٰذا اس کا منکر فاسق ہے جس کو قرآنِ مجید کی اس آیتِ استخلاف میں واضح کر کے بیان کر دیا گیا ہے: اور جس نے اس وعدہ کے بعد ناشکری کی وہ فاسق ہیں لہٰذا خلافت کا منکر فاسق ہوگا۔

3: كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت 183)

 اور وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 59)

 وغیرہ میں ان تمام امور کے مخاطب اول صحابہ تھے۔ باقی امت ان تمام امور میں ان کے ساتھ شریک ہے۔ کیا مولوی اسماعیل صاحب یہ کہہ سکتے ہیں کہ: كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت 183)

 میں جو روزے کی فرضیت کا حکم ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہ تھا اور باقی امت پر ہو گیا ہے؟ تو جیسے اولاً روزہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فرض تھا اور تبعاً باقی امت پر ہوا تو اسی طرح آیت:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

میں بھی پہلے خلفائے کرام میں سے ہوں گے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس وعدے کا مصداق نہ ہو اور باقی امت مصداق ٹھہرے۔ لہٰذا مولوی اسماعیل صاحب ثابت کریں کہ خلفائے راشدین کے علاوہ اس آیت کے مصداق مخاطبینِ اولین میں سے کون ہیں؟ آپ کو ادہر ادہر بھاگنے نہیں دیا جائے گا میں تو تیری رگیں خوب جانتا پہچانتا ہوں ذرا سوچ سمجھ کر بتائیے۔

4: حضرات! مولوی اسماعیل نے هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ کا جو ترجمہ کیا ہے وہ انتہائی تعجب خیز ہے میں نے تو سمجھا تھا کہ آپ میرے مناظرے کے لیے کوئی اہلِ علم مجتہد لکھنؤ وغیرہ سے لائیں گے، مگر آپ تو ایسے علم سے کورے کو لائے ہیں جو ذرا بھی عربی عبارت کے معنی و مطلب نہیں سمجھ سکتا۔ دیکھیے عادل کے معنیٰ ظالم کرتا ہے اور حق پر ہونے کا مطلب زور و زبردستی سے حق پر چڑھ جانا بیان کرتا ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ پر خدا کی رحمت ہونے کا مطلب جناب رسول اللہﷺ کے چڑھ جانے کا کرتا ہے۔ 

آپ لوگ یہ کہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا، استاد، پیر و مرشد پر خدا کی رحمت ہو کیا اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ ان پر جناب رسول اللہﷺ چڑھ جائیں؟ اور تم کہتے ہو کہ فلاں عادل ہے اور فلاں حق پر ہے، تو کیا اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ ظالم ہے اور دوسرا اس کے حق پر چڑھ جاتا ہے؟ 

آپ کے مناظر نے سیدنا جعفر صادقؒ کے قولِ ارشاد کا ترجمہ کرنے میں اُس قسم کا ظلم کیا ہے جو شاید کسی جاہل ذاکر نے آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔ کے معنیٰ کرنے میں کیا تھا۔ العیاذ باللہ۔ نقلِ کفر کفر نہ باشد:  

آمَنْتُ بِاللَّهِ: مان لے تو آیا بلا، بلی کا نر۔ 

وَمَلَائِكَتِهِ: اور ملائی کھا گیا۔  

وَكُتُبِهِ: اس پر کتے چھوڑ دیے گئے۔  

وَرُسُلِهِ: اور اس کو رسیوں میں باندھ دیا۔ 

وَالْيَوْمِ الْآخِرِ: اور وہی اس بلے کا آخری دن تھا کہ مار دیا گیا۔

5: مولوی اسماعیل صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ تفسیر صافی والی روایت میں پہلے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت رسول اللہﷺ نے بی بی حفصہؓ کو خبرِ خلافت کی اطلاع نہ دینے کا حکم دیا تھا اور سیدہ حفصہؓ نے خیانت کرکے خبر دے دی، تو اس بات کے بیان کرنے سے مولوی اسماعیل صاحب کو کیا فائدہ ہے؟ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو خوش کرنے کے لیے جو خبرِ خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق بیان کی، وہ صحیح تھی یا غلط؟ مولوی اسماعیل صاحب! ادہر ادہر بھاگنے کی کوشش مت کیجیے اصل بات کا جواب دیجیے۔ 

باقی مولوی صاحب کا یہ ارشاد فرمانا کہ بی بی حفصہؓ کی ہر روایت کمزور ہے لہٰذا یہ روایت قابلِ اعتبار نہیں، یہ بالکل فضول اور مہمل بات ہے۔ کیونکہ شیعہ علماء نے یہ روایت سیدنا محمد باقرؒ و غیرہ ائمہ معصومین سے نقل کی ہے کوئی انہوں نے یہ روایت بی بی حفصہؓ سے تو نقل نہیں کی۔ 

صفحہ 2 از 9