مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 1 از 9

حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم:

از قرآن مجید حدیث رسول پاکﷺ و از کتب شیعہ:

مدعی اہل سنت معترض: اہل تشیع:

مناظر اعظم تنظیم اہل سنت پاکستان:

علامہ مولانا محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ:

1: بعد الحمد والصلوٰۃ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَـنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ایمان داروں اور عملِ صالح کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ تم میں سے ضرور میں زمین میں خلیفہ بناؤں گا، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں میں خلیفہ اور بادشاہ بنائے تھے اور ضرور ان کے اس مذہب کو جو ان کے لیے پسند کیا ہے متمکن اور مضبوط کر دوں گا اور ان کے خوف و خطر کو امن و امان سے بدل دوں گا وہ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کریں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے گا وہ فاسق ہے۔

حضرات! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ فرمایا ہے جس کے لیے یہ امور صراحتاً آیت میں بیان فرما دیے ہیں:  

1: خلافت مومنین کو دی جائے گی، جن کے اعمالِ صالح ہوں گے۔  

2: مِنۡكُمۡ کا لفظ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا کے بعد صراحتاً ذکر فرما کر مخاطبینِ اولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ وعدہ خلافت فرمایا گیا ہے۔  

3: اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں جو کم از کم تین افراد کو ضرور چاہتے ہیں۔  

4: وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)

یعنی ضرور ان کی خلافت زمین میں ہوگی اور ان کے دین و مذہب کو تمکین و مضبوطی اور قوت حاصل ہوگی۔  

5: وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ مِّن الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)

یعنی ان خلفاء کو خوف اور خطر کے بعد امن اور اطمینان عطا کر دیا جائے گا۔  

میں پورے اعلان کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس آیت کے مصداق خلفاءِ راشدینؓ ہی ہیں، اور یہ آیت انہی خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت پر پوری پوری صادق آتی ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرات خلفاءِ راشدینؓ اس آیت کا مصداق نہیں تو وہ آیت کے مذکورہ بالا تمام امورِ منصوصہ کو مدِ نظر رکھ کر بتائے کہ وہ کون سے خلفاء ہیں جو کہ نزولِ آیت کے وقت مخاطب اور موجود بھی ہوں اور کم از کم تین بھی ہوں اور ان کو تمکین فی الارض بھی حاصل ہو اور ان کے دین کے طریقے کا بھی بول بالا ہو، اور ان کے خوف و خطر امن و اطمینان سے بدل دیے گئے ہوں اور میں تو پورے پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس آیت کے مصداق خلفاءِ راشدینؓ ہی ہیں اگر خلفاءِ راشدینؓ مراد نہیں تو پھر اس وعدہ کی سچائی کے لیے آیت کے مصداق کون ہیں؟

2: احقاق الحق صفحہ 16 پر ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق فرمایا:  

هما امامان عادلان قاسطان کانا علی الحق و ماتا علیه فعلیهما رحمة الله يوم القيامة۔  

ترجمہ: وہ دونوں حضرات امام تھے جو عادل اور منصف تھے ہمیشہ حق پر رہے اور حق پر فوت ہوئے پس ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو قیامت کے دن۔  

دیکھیے حضرات! سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی امامت و خلافت کو کیسے عمدہ الفاظ میں ذکر کیا کہ وہ دونوں امام عادل اور منصف تھے اور مرتے دم تک حق پر رہے۔

3: شیعہ کی معتبر تفسیر صافی صفحہ 523 پر ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ بی بی حفصہؓ کو فرمایا:  

ان ابابکر یلی الخلافة من بعدی ثم بعده ابوک۔ 

ترجمہ: تحقیق ابوبکر صدیقؓ میرے بعد خلافت کا والی ہوگا اور اس کے بعد تیرا باپ سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوگا۔  

رسول اللہﷺ نے سیدہ حفصہؓ کو یہ خوشخبری اس وقت سنائی جب وہ مغموم بیٹھی تھیں۔

4: احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی:  

ثُمَّ تَنَاوَلَ يَدَ أَبِی بَكْرٍ فَبَايَعَهُ۔  

ترجمہ: پھر حضرت علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی۔

5: احتجاج طبرسی صفحہ 56 پر ہے کہ حضرت اسامہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے پوچھا: 

هَلْ بَايَعْتَ کیا آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرلی ہے؟ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُسَامَةُ تو حضرت علیؓ نے جواب دیا: ہاں اے اسامہؓ میں نے بیعت کرلی ہے۔

حضرات! غور کیجیے اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت حق نہ ہوتی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کبھی ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے۔

مناظر شیعہ:

حضرات مومنین کرام! میں مولوی عبد الستار صاحب سے پوچھتا ہوں:  

1: حضرات خلفائے راشدین کی خلافت نص سے ہے یا اجماع سے؟ ذرا وضاحت سے بیان کیجیے۔  

2: تمہارے خلفاء کی خلافت کے منکر کافر ہیں یا نہیں؟ اگر اس خلافت کے منکر کافر نہیں تو اس آیت کے ماتحت وہ خلیفہ نہیں لہٰذا مولوی عبد الستار صاحب اس کی تشریح کریں کہ وہ کس طرح آیت کے مصداق ہیں؟  

3: مولوی عبد الستار صاحب مِنۡكُمۡ‌ کے لفظ سے استدلال کر رہے ہیں کہ حاضرین اور صحابہ جو مخاطبینِ اولین ہیں ان میں سے تین کا ہونا ضروری ہے۔ تو میں مولوی عبدالستار صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آیت:

اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 59)

میں یا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 183)

وغیرہ میں جو جمع مخاطب کے صیغے ہیں، ان میں صرف حاضرین کو خطاب ہے؟ باقی امت پر اُولِى الۡاَمۡرِ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت 59) کی اطاعت یا روزہ فرض نہیں ہیں؟  

صفحہ 1 از 9