مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 3

كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

میں جو تشبیہ ہے نفسِ خلافت میں ہے، یعنی پہلے لوگوں میں بھی خلفاء اللہ تعالیٰ نے بنائے تھے اور ان کو تمکین فی الارض اور سلطنت عطا فرمائی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: 

وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞(سورۃ النساء: آیت 54)

تم میں سے بھی خلفاء بناؤں گا اور اس وعدہ خداوندی کے مطابق خلفاءِ راشدینؓ کو خلیفہ بنایا۔

تو تشبیہ کے لیے اتنا قدر کافی ہے۔ تشبیہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مشبہ کے لیے مشبہ بہ کی تمام صفات و لوازمات ثابت ہوں جیسا کہ کسی بہادر آدمی کو شیر سے تشبیہ دے کر کہا جاتا ہے ہُوَ کَالْاَسَد وہ شیر کی مانند ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آدمی درندہ بھی ہو اور انسانیت سے نکل جائے اور اس کے لیے دم اور گردن کے بڑے بڑے بال بھی ہوں بلکہ صرف شجاعت میں تشبیہ مراد ہوتی ہے اسی طرح یہاں آیتِ استخلاف:

كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ الخ۔

(سورۃ النور: آیت 55) 

میں بھی تشبیہ صرف خلافت اور حکومت دینے میں ہے، تمام صفات و لوازمات میں نہیں۔

ورنہ مولوی اسماعیل صاحب! ان آیات میں جن خلفاء کا آپ ذکر کر کے تشبیہ دے رہے ہیں وہ انبیاء تھے تو اگر پوری تشبیہ مراد ہے تو کیا رسول اللہﷺ کے خلفاء بھی پہلے خلفاء کی طرح نبی ہوں گے؟ باقی آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق جو کہا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلیفہ نہیں بنے بلکہ وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو چند دنوں کے لیے اپنی زندگی میں اپنا عارضی نائب بنا دیا تھا۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے خود مستقل نبی تھے ان کو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں کتاب اور نبوت ملی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام کے متعلق فرماتے ہیں: 

وَاٰتَيۡنٰهُمَا الۡكِتٰبَ الۡمُسۡتَبِيۡنَ‌ ۞(سورۃ الصافات: آیت 117)

ترجمہ: ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب عطاء کی تھی۔

اس آیت کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت سے کیا تعلق ہے آپ وقت ضائع نہ کیجیے، اگر خلافتِ سیدنا علیؓ پر کوئی نص ہے تو پیش کیجیے۔

اور تفسیر عزیزی کی عبارت سے لوگوں کو دھوکہ نہ دیجیے چونکہ آپ سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے عاجز آ چکے ہیں اس لیے ایسی عبارتوں کے سہارے ڈھونڈ رہے ہیں شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق تصریحِ صفات یا تصریحِ اسماء کے اندر فوقیت کے سلسلے میں بحث کی ہے آپ کے نزدیک تو امامت و خلافتِ علیؓ بمنزلہ نبوت و رسالت ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ جب نبوت و رسالت کا ثبوت بغیر نام کے نہیں ہو سکتا تو خلافت و امامت بغیر نام کے کیسے ثابت ہو کر نبوت کی طرح ہو سکتی ہے؟ تو آپ صرف صفات کے ذریعے کس طرح امامت اور خلافتِ شیعہ اصول کے مطابق ثابت کرنے میں اہلِ سنت کے دامن میں پناہ لے کر اکتفاء کر سکتے ہیں جب کہ آپ کی اصول کافی کے صفحہ 176 پر ہے:  

نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہٗ عَلَی الْاَئِمَّةِ وَاحِدًا فَوَاحِدًا۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ہر امام کا نام بطورِ نص کے بیان کر دیا ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک امام کا نام لے کر ہر ایک کی امامت و خلافت پر نص فرمائی ہے آپ تو صرف سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے گھبرا رہے ہیں خدا جانے آپ پر کیا بنتی جب میں آپ کی اصول کافی کی اس روایت کے مطابق آپ کے تمام ائمہ کی امامت کے منصوص ہونے کا آیاتِ قرآنی سے مطالبہ کرتا۔

مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ خلافت کا مسئلہ اہلِ سنت کے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب اصولِ دین میں توحید، رسالت، قیامت ہیں تو ان کے ماسوا باقی احکامِ دین نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں؟ خلافت بھی باقی احکامِ دین کی طرح احکامِ دین میں سے ایک ضروری مسئلہ ہے اگرچہ ہمارے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔

مولوی اسماعیل صاحب! آپ مدعیِ خلافتِ بلا فصل ہیں، اور ہم معترض ہیں آپ اپنا دعویٰ واضح دلیل سے ثابت کیجیے جو آپ قیامت تک ثابت نہیں کر سکتے۔


صفحہ 3 از 3