مناظر شیعہ:
بعد از خطبہ حضرات! اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کامل مومنو اور صالحین کو خلافت فی الارض کا وعدہ فرما چکے ہیں۔
اور ہمارے نزدیک اور خود اہلِ سنت کے نزدیک بھی سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں۔ ان کا ماننا ایمان میں داخل نہیں، تو وہ اس آیت کے مصداق نہ ہوئے۔
اس وقت بحث خلافتِ علیؓ سے ہے اور خلافت مضاف ہے اور علی مضاف الیہ ہے، مضاف اور مضاف الیہ ایک دوسرے کے غیر ہوتے ہیں۔
لہٰذا پہلے میں مطلق خلافت کی بحث کرتا ہوں پھر اس کے بعد خلافتِ بلا فصل سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ثابت کروں گا۔
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)
ترجمہ: ان میں سے ایک جماعت ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتے ہیں اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔
ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا الخ۔(سورۃ فاطر آیت 32)
ترجمہ: ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔
چونکہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے چنا اور اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا، لہٰذا یہ کتاب کے وارث اور خلیفہ نہیں بن سکتے۔
آیتِ استخلاف سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلافت اللہ تعالیٰ دیتا ہے، شوریٰ سے نہیں ہوتی لہٰذا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ جو شوریٰ سے خلیفہ چنے گئے، خلافت ان کا حق نہیں۔ اسی لیے تو اہلِ سنت کے نزدیک شیخینؓ کی خلافت ماننا دین میں ضروری نہیں۔ بس اگر شیعہ شیخینؓ کی خلافت کو نہ مانیں تو وہ مؤمن ہوں گے۔
آیتِ استخلاف میں ثابت ہے:
وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: کہ ہم خلیفوں کو خوف کے بعد امن اور بے فکری کی زندگی دیں گے۔
تو امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں امن ہو گا اور کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔
اور آگے:
يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
کا مطلب یہ ہے کہ خلفاء ایسے ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک و بت پرستی نہ کی ہو حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے سوا سب نے بت پرستی کی ہے۔
فلہٰذا وہ اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے۔ تو وہ صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور مولوی! اب میں مولوی عبدالستار سے پوچھتا ہوں کہ اس آیتِ استخلاف کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کے مصداق کون ہیں؟
مناظر اہل سنت:
بعد از خطبہ حضرات! مولوی اسماعیل صاحب نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل کو نصِ قرآن مجید اور احادیثِ متواترہ اہلِ سنت سے ثابت کرنا تھا مگر اس نے کوئی ایک دلیل بھی اس مدعا کے ثابت کرنے کے لیے پیش نہیں کی اور نہ قیامت تک پیش کر سکتا ہے اور نہ شیعہ مجتہدین میں سے کوئی قیامت تک ثابت کر سکے گا۔
1: مولوی اسماعیل صاحب! آپ کو حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنی ہے۔ آیتِ استخلاف پڑھ کر آپ کا یہ کہنا کہ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلا فصل کی بحث ہے یا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت بحث ہے؟ اگر آپ حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنے سے عاجز ہیں تو پھر آئیے چوتھا موضوع شروع کیجیے، میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت کو ثابت کرتا ہوں۔
2: مولوی صاحب! آپ کہتے ہیں کہ پہلے مطلق خلافت ثابت کروں گا پھر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کروں گا آپ کی اور ہماری بحث مطلق خلافت میں نہیں ہے بلکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل تھے۔ آپ اس خلافتِ بلا فصل کو ثابت کیجیے، میں آپ کو اِدہر اُدہر نہیں بھاگنے دوں گا۔
3: مولوی اسماعیل صاحب! آپ نے جو:
اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)
اور: ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا الخ(سورۃ فاطر: آیت 32)
پڑھی ہے، یہ دونوں آیات سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے ذکر سے بالکل ہی خالی ہیں آپ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کی بحث کو کیوں چھیڑ دیا؟ جب اپنے دعوے کو کسی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتے تو پھر اِدہر اُدہر بھاگنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
4: چونکہ مولوی اسماعیل صاحب علمانہ باتوں سے کورے اور ناواقف ہیں اس لیے اس بیچارے کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ آیت میں لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
صیغہ مضارع منفی ہے، جس کے معنیٰ حال اور استقبال ہی ہوتے ہیں، ماضی کے نہیں ہوتے۔ جس کا مقصد ہے کہ ہم ان کو خلافت دیں گے جو ایمان لا چکے ہیں، جس میں یہ شرط نہیں کہ وہ کفر و شرک سے منزہ رہ کر ایمان لا چکے، بلکہ مطلق ایمان ہے اور وہ اب کبھی شرک نہیں کریں گے۔ یہاں آیت: مَاۤ اَشۡرَكُوۡا الخ۔(سورۃ الانعام: آیت 107)
یا لَمْ یُشْرِکُوْا نہیں ہے کہ زمانہ ماضی کی نفی پر دلالت کرے۔
مولوی صاحب! آپ خلافتِ بلا فصل کا ثبوت پیش کیجیئے ہاں اگر آپ خلافت بلا فصل کے ثبوت سے عاجز ہیں تو آئیے چوتھے موضوع پر بحث کیجیے میں حضرات خلفاءِ ثلاثہؓ کی خلافت کو ثابت کیے دیتا ہوں۔
5: مولوی اسماعیل صاحب! کہتے ہیں کہ خلافت شوریٰ سے نہیں ہوتی چونکہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے خلیفہ منتخب کیا لہٰذا وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ تو اپنے مذہب سے بھی نا واقف ہیں دیکھیے سیدنا علیؓ تو فرماتے ہیں: نہج البلاغہ جلد سوم صفحہ 8:
وَاِنَّمَا الشُّوْرٰی لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ فَاِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی رَجُلٍ وَسَمَّوْہُ اِمَامًا کَانَ ذٰلِکَ لِلّٰہِ رِضًی۔
ترجمہ: خلافت کے شوریٰ کا حق مہاجرین و انصار کو ہے، پس اگر مہاجرین و انصار کسی شخص پر متفق ہو جائیں اور اس کو امامت کے لیے نامزد کریں تو وہ اللہ کا پسندیدہ امام ہوگا۔
دیکھیے سیدنا علی المرتضیٰؓ تو مہاجرین و انصار کے شوریٰ سے چنے ہوئے کو پسندیدہ خدا فرما رہے ہیں اور اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ نہیں ہوتا حالانکہ قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت 38)
یعنی شوریٰ مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
6: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ کو خلافت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ہی خلافت دی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کی والدہ کے پاس لوٹانا اپنی طرف منسوب کیا، اگرچہ فرعون کے گھر سے اور فرعون کے آدمیوں کے سبب سے ہوا لیکن وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا یا جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ الخ۔(سورۃ الذاریات: آیت 58)
ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ ہی رزاق ہے۔
تو باوجود یکہ بظاہر کوئی ملازمت کے ذریعے، کوئی تجارت کے ذریعے، کوئی ہنر اور زراعت کے سبب سے رزق پا رہا ہے لیکن رزاق ہر ایک کا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا وعدہ رزق پورا ہو رہا ہے۔
اسی طرح خلافت سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو بذریعہ شوریٰ ملی ہے اور ظاہری سبب شوریٰ بنی ہیں مگر وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا ہے۔ تو ان حضرات کو اللہ تعالیٰ ہی نے خلیفہ بنایا اور چنا ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! اِدہر اُدہر نہ جائیے، سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل، آپ کے نزدیک توحید و رسالت کی طرح اصولِ دین میں سے ہے۔ بس جس طرح توحید:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔(سورۃ الصافات: آیت 35)
وغیرہ آیات اور رسالت:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 29)
وغیرہ آیات میں واضح اور صریح الفاظ میں موجود ہے اسی طرح آپ خلافتِ بلا فصل کے لیے بھی واضح اور صریح الفاظ قرآن مجید میں یا حدیثِ متواترہ اہلِ سنت میں دکھائیے یقین رکھیے آپ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی خلافت مراد ہے، شاید بیچارے کو اپنی کتابوں سے بھی لاعلمی ہے۔ دیکھیے تفسیر صافی صفحہ 371 پر اسی آیت کے متعلق لکھا ہوا ہے:
نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ مِنْ اٰلِ مُحَمَّدٍﷺ۔
اور آگے لکھتے ہیں:
عَنْ اَہْلِ الْبَیْتِ اَنَّہَا نَزَلَتْ فِی الْمَہْدِیِّ مِنْ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
ترجمہ: یعنی یہ آیتِ استخلاف صرف امام مہدی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ میرے سامنے کس منہ سے کہتے ہو کہ اس آیت کا مصداق سیدنا علیؓ ہے؟سیدنا علیؓ کی خلافت اس آیت سے ثابت ہے۔ ذرا سوچ کر بولو، کس کے سامنے بول رہے ہو، جنگل میں نہیں تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو۔
8: مولوی اسماعیل صاحب مجھ سے آیتِ استخلاف کا مطلب اور مصداق پوچھتے ہیں کہ اس سے کون مراد ہے؟ تو میں کہتا ہوں اس سے خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت مراد ہے کیونکہ اس میں جمع کا صیغہ ہے جس کے لیے کم از کم تین خلفاء کا صحابہ کرام مخاطبینِ آیت میں سے ہونا ضروری ہے مولوی اسماعیل صاحب! آپ مجھ سے مت پوچھیے بلکہ آپ خلافتِ بلا فصل کی کوئی نص پیش کیجیے۔ اس آیت میں تو متعدد خلفاء سے وعدہ الٰہی ہے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا تو نام و نشان بھی نہیں۔
مناظر شیعہ:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں تو کہتا ہوں کہ آیت کا مصداق سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ خلیفہ ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تم میں سے ویسے خلفاء بناؤں گا جیسے تم سے پہلے لوگوں میں بنائے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 30)
ترجمہ: تحقیق میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔
اور اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ الخ۔(سورۃ ص: آیت 26)
ترجمہ: اے داؤد تحقیق ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے:
اور اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور فرمایا:
هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ الخ۔(سورۃ الاعراف آیت 142)
ترجمہ: اے ہارون تم میرے خلیفہ رہو میری قوم میں۔
تو یہ آیات صراحتاً بتلا رہی ہیں کہ اگلے لوگوں میں خلافت کے دو طریقے ہی قرآنِ مجید میں ہیں جن کی تشبیہ اس آیتِ استخلاف میں دے کر فرمایا گیا ہے کہ تم میں بھی اس طرح خلفاء بناؤں گا تو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلفاء سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ امام ہیں۔
آپ کے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ تفسیر عزیزی کے صفحہ 484 پر لکھتے ہیں:
تَنْصِیْصُ خُلَفَاءِ بِالصِّفَاتِ قوَی اسْتِ از اَسْمَاءِ خُلَفَاءِ۔
ترجمہ: یعنی خلفاء کو صفات سے بیان کرنا ان کے نام لے کر بیان کرنے سے زیادہ قوی ہے۔
بتائیے ہم سے کیوں نام علیؓ بمع قید خلافتِ بلا فصل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ اہلِ سنت کے نزدیک تو خلافت اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔ یعنی سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے کوئی حرج نہیں۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! آپ کے نزدیک خلافتِ سیدنا علیؓ اصولِ دین میں سے ہے لہٰذا توحید اور رسالت کی طرح واضح نصوص سے خلافتِ بلا فصل ثابت کرو۔
آیتِ آدم اور داؤد اور موسیٰ و ہارون علیہم السلام کی پڑھتے ہوئے کیا اس سے حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت ہو جائے گی؟ یہ انبیاء علیہم السلام تو اللہ تعالیٰ کے خلفاء تھے۔ آپ کی اور ہماری بحث رسول اللہﷺ کے خلیفہ کے متعلق ہے۔
آپ کسی آیت سے ثابت کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ میں رسول اللہﷺ کے خلفاء کا نام لے کر اعلان کروں گا اور اس کے بعد اپنے مذہب کے عقیدے کے مطابق سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل ثابت کیجیے۔
اور آیتِ استخلاف:
كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں جو تشبیہ ہے نفسِ خلافت میں ہے، یعنی پہلے لوگوں میں بھی خلفاء اللہ تعالیٰ نے بنائے تھے اور ان کو تمکین فی الارض اور سلطنت عطا فرمائی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء: آیت 54)
تم میں سے بھی خلفاء بناؤں گا اور اس وعدہ خداوندی کے مطابق خلفاءِ راشدینؓ کو خلیفہ بنایا۔
تو تشبیہ کے لیے اتنا قدر کافی ہے۔ تشبیہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مشبہ کے لیے مشبہ بہ کی تمام صفات و لوازمات ثابت ہوں جیسا کہ کسی بہادر آدمی کو شیر سے تشبیہ دے کر کہا جاتا ہے ہُوَ کَالْاَسَد وہ شیر کی مانند ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آدمی درندہ بھی ہو اور انسانیت سے نکل جائے اور اس کے لیے دم اور گردن کے بڑے بڑے بال بھی ہوں بلکہ صرف شجاعت میں تشبیہ مراد ہوتی ہے اسی طرح یہاں آیتِ استخلاف:
كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النور: آیت 55)
میں بھی تشبیہ صرف خلافت اور حکومت دینے میں ہے، تمام صفات و لوازمات میں نہیں۔
ورنہ مولوی اسماعیل صاحب! ان آیات میں جن خلفاء کا آپ ذکر کر کے تشبیہ دے رہے ہیں وہ انبیاء تھے تو اگر پوری تشبیہ مراد ہے تو کیا رسول اللہﷺ کے خلفاء بھی پہلے خلفاء کی طرح نبی ہوں گے؟ باقی آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق جو کہا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلیفہ نہیں بنے بلکہ وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو چند دنوں کے لیے اپنی زندگی میں اپنا عارضی نائب بنا دیا تھا۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے خود مستقل نبی تھے ان کو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں کتاب اور نبوت ملی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
وَاٰتَيۡنٰهُمَا الۡكِتٰبَ الۡمُسۡتَبِيۡنَ ۞(سورۃ الصافات: آیت 117)
ترجمہ: ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب عطاء کی تھی۔
اس آیت کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت سے کیا تعلق ہے آپ وقت ضائع نہ کیجیے، اگر خلافتِ سیدنا علیؓ پر کوئی نص ہے تو پیش کیجیے۔
اور تفسیر عزیزی کی عبارت سے لوگوں کو دھوکہ نہ دیجیے چونکہ آپ سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے عاجز آ چکے ہیں اس لیے ایسی عبارتوں کے سہارے ڈھونڈ رہے ہیں شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق تصریحِ صفات یا تصریحِ اسماء کے اندر فوقیت کے سلسلے میں بحث کی ہے آپ کے نزدیک تو امامت و خلافتِ علیؓ بمنزلہ نبوت و رسالت ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ جب نبوت و رسالت کا ثبوت بغیر نام کے نہیں ہو سکتا تو خلافت و امامت بغیر نام کے کیسے ثابت ہو کر نبوت کی طرح ہو سکتی ہے؟ تو آپ صرف صفات کے ذریعے کس طرح امامت اور خلافتِ شیعہ اصول کے مطابق ثابت کرنے میں اہلِ سنت کے دامن میں پناہ لے کر اکتفاء کر سکتے ہیں جب کہ آپ کی اصول کافی کے صفحہ 176 پر ہے:
نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہٗ عَلَی الْاَئِمَّةِ وَاحِدًا فَوَاحِدًا۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ہر امام کا نام بطورِ نص کے بیان کر دیا ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک امام کا نام لے کر ہر ایک کی امامت و خلافت پر نص فرمائی ہے آپ تو صرف سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے گھبرا رہے ہیں خدا جانے آپ پر کیا بنتی جب میں آپ کی اصول کافی کی اس روایت کے مطابق آپ کے تمام ائمہ کی امامت کے منصوص ہونے کا آیاتِ قرآنی سے مطالبہ کرتا۔
مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ خلافت کا مسئلہ اہلِ سنت کے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب اصولِ دین میں توحید، رسالت، قیامت ہیں تو ان کے ماسوا باقی احکامِ دین نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں؟ خلافت بھی باقی احکامِ دین کی طرح احکامِ دین میں سے ایک ضروری مسئلہ ہے اگرچہ ہمارے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ مدعیِ خلافتِ بلا فصل ہیں، اور ہم معترض ہیں آپ اپنا دعویٰ واضح دلیل سے ثابت کیجیے جو آپ قیامت تک ثابت نہیں کر سکتے۔