مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: خلافت کے شوریٰ کا حق مہاجرین و انصار کو ہے، پس اگر مہاجرین و انصار کسی شخص پر متفق ہو جائیں اور اس کو امامت کے لیے نامزد کریں تو وہ اللہ کا پسندیدہ امام ہوگا۔

دیکھیے سیدنا علی المرتضیٰؓ تو مہاجرین و انصار کے شوریٰ سے چنے ہوئے کو پسندیدہ خدا فرما رہے ہیں اور اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ نہیں ہوتا حالانکہ قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔    (سورۃ الشوریٰ: آیت 38)

یعنی شوریٰ مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

6: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ کو خلافت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ہی خلافت دی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کی والدہ کے پاس لوٹانا اپنی طرف منسوب کیا، اگرچہ فرعون کے گھر سے اور فرعون کے آدمیوں کے سبب سے ہوا لیکن وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا یا جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ الخ۔(سورۃ الذاریات: آیت 58)

ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ ہی رزاق ہے۔

تو باوجود یکہ بظاہر کوئی ملازمت کے ذریعے، کوئی تجارت کے ذریعے، کوئی ہنر اور زراعت کے سبب سے رزق پا رہا ہے لیکن رزاق ہر ایک کا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا وعدہ رزق پورا ہو رہا ہے۔

اسی طرح خلافت سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو بذریعہ شوریٰ ملی ہے اور ظاہری سبب شوریٰ بنی ہیں مگر وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا ہے۔ تو ان حضرات کو اللہ تعالیٰ ہی نے خلیفہ بنایا اور چنا ہے۔

مولوی اسماعیل صاحب! اِدہر اُدہر نہ جائیے، سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل، آپ کے نزدیک توحید و رسالت کی طرح اصولِ دین میں سے ہے۔ بس جس طرح توحید: 

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔(سورۃ الصافات: آیت 35)

وغیرہ آیات اور رسالت:

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 29)

وغیرہ آیات میں واضح اور صریح الفاظ میں موجود ہے اسی طرح آپ خلافتِ بلا فصل کے لیے بھی واضح اور صریح الفاظ قرآن مجید میں یا حدیثِ متواترہ اہلِ سنت میں دکھائیے یقین رکھیے آپ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی خلافت مراد ہے، شاید بیچارے کو اپنی کتابوں سے بھی لاعلمی ہے۔ دیکھیے تفسیر صافی صفحہ 371 پر اسی آیت کے متعلق لکھا ہوا ہے:  

نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ مِنْ اٰلِ مُحَمَّدٍﷺ۔

اور آگے لکھتے ہیں:

عَنْ اَہْلِ الْبَیْتِ اَنَّہَا نَزَلَتْ فِی الْمَہْدِیِّ مِنْ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔

ترجمہ: یعنی یہ آیتِ استخلاف صرف امام مہدی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

مولوی اسماعیل صاحب! آپ میرے سامنے کس منہ سے کہتے ہو کہ اس آیت کا مصداق سیدنا علیؓ ہے؟سیدنا علیؓ کی خلافت اس آیت سے ثابت ہے۔ ذرا سوچ کر بولو، کس کے سامنے بول رہے ہو، جنگل میں نہیں تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو۔

8: مولوی اسماعیل صاحب مجھ سے آیتِ استخلاف کا مطلب اور مصداق پوچھتے ہیں کہ اس سے کون مراد ہے؟ تو میں کہتا ہوں اس سے خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت مراد ہے کیونکہ اس میں جمع کا صیغہ ہے جس کے لیے کم از کم تین خلفاء کا صحابہ کرام مخاطبینِ آیت میں سے ہونا ضروری ہے مولوی اسماعیل صاحب! آپ مجھ سے مت پوچھیے بلکہ آپ خلافتِ بلا فصل کی کوئی نص پیش کیجیے۔ اس آیت میں تو متعدد خلفاء سے وعدہ الٰہی ہے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا تو نام و نشان بھی نہیں۔

مناظر شیعہ:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

میں تو کہتا ہوں کہ آیت کا مصداق سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ خلیفہ ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تم میں سے ویسے خلفاء بناؤں گا جیسے تم سے پہلے لوگوں میں بنائے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:  

اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 30)

ترجمہ: تحقیق میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔

اور اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ الخ۔(سورۃ ص: آیت 26)

ترجمہ: اے داؤد تحقیق ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے:

 اور اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور فرمایا:

هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ الخ۔(سورۃ الاعراف آیت 142)

ترجمہ: اے ہارون تم میرے خلیفہ رہو میری قوم میں۔

تو یہ آیات صراحتاً بتلا رہی ہیں کہ اگلے لوگوں میں خلافت کے دو طریقے ہی قرآنِ مجید میں ہیں جن کی تشبیہ اس آیتِ استخلاف میں دے کر فرمایا گیا ہے کہ تم میں بھی اس طرح خلفاء بناؤں گا تو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلفاء سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ امام ہیں۔

آپ کے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ تفسیر عزیزی کے صفحہ 484 پر لکھتے ہیں:  

تَنْصِیْصُ خُلَفَاءِ بِالصِّفَاتِ قوَی اسْتِ از اَسْمَاءِ خُلَفَاءِ۔  

ترجمہ: یعنی خلفاء کو صفات سے بیان کرنا ان کے نام لے کر بیان کرنے سے زیادہ قوی ہے۔  

بتائیے ہم سے کیوں نام علیؓ بمع قید خلافتِ بلا فصل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ اہلِ سنت کے نزدیک تو خلافت اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔ یعنی سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے کوئی حرج نہیں۔

مناظر اہل سنت:

مولوی اسماعیل صاحب! آپ کے نزدیک خلافتِ سیدنا علیؓ اصولِ دین میں سے ہے لہٰذا توحید اور رسالت کی طرح واضح نصوص سے خلافتِ بلا فصل ثابت کرو۔

آیتِ آدم اور داؤد اور موسیٰ و ہارون علیہم السلام کی پڑھتے ہوئے کیا اس سے حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت ہو جائے گی؟ یہ انبیاء علیہم السلام تو اللہ تعالیٰ کے خلفاء تھے۔ آپ کی اور ہماری بحث رسول اللہﷺ کے خلیفہ کے متعلق ہے۔

آپ کسی آیت سے ثابت کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ میں رسول اللہﷺ کے خلفاء کا نام لے کر اعلان کروں گا اور اس کے بعد اپنے مذہب کے عقیدے کے مطابق سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل ثابت کیجیے۔

اور آیتِ استخلاف:

صفحہ 2 از 3