واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن…

واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن کریم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4
یعنی سیدنا ابوبکرؓ جب تک سیدنا ابوبکرؓ ہے اُسے اللہ کی وہی معیت حاصل ہے جو محمد الرسول اللہﷺ کی ذات کو حاصل ہے یہاں معیت کے لئے جمع متکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں معیت باری کا ذکر ہوا مگر وہاں صیغہ واحد متکلم استعمال ہوا ہے۔
قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰٓى اِنَّا لَمُدۡرَكُوۡنَ‌۞ قَالَ كَلَّا‌‌ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ۞
(سورۃ الشعراء: آیت، 61، 62)
چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اصحابِ موسیٰ علیہ السلام ایک پایہ کے نہیں تھے اس لئے واحد متکلم کا صیغہ لایا گیا۔ اور یہاں جمع متکلم کیوں ہے اس لئےکہ اللہ کریم خالق ہے اس کی شان وراء الورا ہے اور مخلوق میں سب سے اونچی شان محمد الرسول اللہﷺ کی ہے اور غیر انبیاء میں سب سے اونچی شان سیدنا صدیق اکبرؓ کی ہے۔
فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ
علیہ ضمیر کا مرجع سیدنا ابوبکرؓ ہیں راندش کلام یہی ہے کیونکہ غمِ سیدنا صدیقؓ کو تھا اور جسے غم تھا سُکَینہ کی ضرورت بھی اسی کو تھی۔
شیعہ اعتراض 4:
اس صورت میں انتشار ما بین الضمائر لازم آتا ہے۔
جواب: قرینہ موجود ہو تو لازم نہیں آتا اور یہاں قرینہ موجود ہے۔
اگر سُکَینہ حضور اکرمﷺ پر اُتری تو یہ تحصیل حاصل ہے کیونکہ حضور اکرمﷺ کو تو پہلے سکون حاصل تھا۔
وَأَيَّدَهُاس تائید کا تعلق اس واقعہ سے بھی ہے اور بدر سے بھی ہے۔
ایک اصول یاد رکھیئے:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ نزولِ قرآن کا زمانہ ہے۔ اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن تاریخ سے نہیں قرآن سے پیش کرو۔
مؤرخین میں سب سے پہلا ابو مخنف ہے جو پرلے درجے کا تقیہ باز اور زہریلا رافضی ہے۔
بھربھکی، واقدی، مسعودی تینوں رافضی۔ اور ان بیچاروں کی مجبوری یہ ہے کہ جھوٹ ان کے نزدیک 9 10 دین ہے  اور ان کے امام سے منسوب روایت کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ محبوب شے تقیہ یعنی جھوٹ ہے۔
اس لئے جہاں مسلمان تاریخ بناتے رہے یہ لوگ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرتے رہے۔
دُور کیوں جائیں اپنی تاریخ پر نگاہ کیجئے۔ اور تصوّر کیجئے کہ تاریخ اگر ایڈیٹر ’’اردُو ڈائجسٹ‘‘ لکھے اور ایڈیٹر ’’مساوات‘‘ لکھے تو کیا وہ ایک جیسی ہو گی؟
اس آیت کی شرح ختم ہوئی تو حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے فرمایا کہ سفرِ ہجرت میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی معیت کے علاوہ قرآنِ کریم نے ایک اور معیت کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اور وہاں بھی لوگوں نے ٹھوکریں کھائی ہیں اور ٹھوکریں ماری ہیں۔
ارشادِ ربّانی ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۞
(سورہ فتح: آیت، 29)
ترجمہ: محمد (ﷺ) اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں (اے مخاطب) تُو اُن کو دیکھے گا (کبھی) رکوع کر رہے ہیں (کبھی) سجدہ کر رہے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں (اور) ان کے آثار ان کے سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پہ نمایاں ہیں ان کے یہ اوصاف تورات میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف ایسے ہے جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اس کو مضبوط کیا پھر وہ موٹی ہو گئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ اس سے کافروں کا جی جلائے۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اسم ِمحمدﷺ کے ساتھ صرف ایک وصف بیان کیا رسول اللہﷺ‎ کیونکہ رسالت کے بعد کسی اور وصف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مخلوق میں سب سے اعلیٰ وصف یہی ہے۔ اور دراصل وصف بحال متعلقہٖ مقصود تھا یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وصف بیان کرنا مقصود تھا۔
شیعہ اعتراض: معہ میں مراد ہم مذہب لوگ ہیں اور شیخین وغیرہ حضورﷺ کے ہم مذہب نہیں تھے۔
الجواب: یہ سورۃ صلح حدیبیہ کی مرہم بن کر نازل ہوئی لہٰذا صلح حدیبیہ میں جو لوگ ساتھ تھے وہی مُراد ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے، جو بیعتِ رضوان میں تھے۔ جد بن قیس مُنافق خارج ہے کیونکہ اس نے بیعت نہیں کی تھی۔
اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملات بیان کئے۔
تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عبادات کا بیان ہے۔ اور اسلوب ِ بیان ظاہر کرتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی پوری زندگی اور زندگی کا ہر عمل عبادت ہے اس لئےکوئی دیکھنے والا جب اُنہیں دیکھے گا اللہ کی اطاعت میں ہی دیکھے گا۔ اس لئے اطاعت کی انتہائی تذلل کی صورتیں رکوع اور سجود بیان کردیں۔
اس سے پہلے خلافت کا مسئلہ آرہا ہے اس لئے یہاں پر خلیفہ کے اوصاف بیان ہوئے جس خلیفے کا وصف رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کے تحت ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کر سکتا لہٰذا باغِ فدک وغیرہ سب جعلی افسانے ہیں۔ عبادات کا پہلو ایسا شاندار ہے کہ اللہ کریم نے اُن کی عبادت کی فضیلت کی سند دیدی۔
انسان کا سرمایہ دو قوتیں ہیں شہوی اور غضبی ان کا اپنی حدود کے اندر رہنا معیار فضیلت ہے اور حد سے تجاوز کرنا پستی کی دلیل ہے۔
یہاں بتایا کہ حضور اکرمﷺ کی صحبت اور آپﷺ کی تربیت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں وہ انقلاب پیدا کیا کہ پہلے وہ لوگ ان دو قوتوں کے غلام تھے۔ اب یہ دونوں قوتیں ان کی غلام بن گئی کہ انہیں اللہ کی مقرر کردہ حدود میں ہی محدود رکھتے ہیں۔ بال بھر بھی تجاوز نہیں کرتے۔
یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً یعنی جو کچھ یہ کرتے ہیں کوئی ذاتی غرض کوئی مادی مفاد کوئی دنیوی لالچ مدّ نظر نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصود ہر حال میں محض رضائے الہیٰ ہوتا ہے۔
صفحہ 2 از 4