تحفہ اثناءِ عشریہ میں شاہ عبد العزیز صاحب رحمۃاللہ نے امامیہ کے اس غلط عقیدہ تحریفِ قرآن کی تردید میں یہ استدلال کیا ہے یہ استدلال آپ کے شیعہ مذہب کے بانیانِ موجدین کی تردید میں ہے، جنہوں نے ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف روایاتِ تحریف کو منسوب کر کے تحریفِ قرآن کا عقیدہ گھڑا تھا
تو حضرت شاہ صاحب محدث دہلویؒ ان کی تردید میں فرما رہے ہیں کہ اگر ائمہ کرام تحریف کے قائل ہوتے تو خود تمہاری روایات میں یہ کیوں ثابت ہے کہ وہ اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے تھے۔
تو شاہ صاحبؒ کے استدلال کا یہ مقصد ہے کہ شیعہ مذہب کا جو تحریفِ قرآن کے متعلق عقیدہ ہے وہ غلط ہے اہلِ سنت و الجماعت کے علماء کو یہ حق ہے کہ عقیدہ تحریف کے مقابلے میں اہلِ بیتؓ کے اس قرآن کو پڑھنے پڑھانے سے صداقتِ قرآن پر استدلال کریں۔
مگر شیعہ مذہب کا مولوی اپنی کتابوں کی زائد از دو ہزار روایاتِ متواترہ صریحہ جو مثبتِ تحریفِ قرآن ہیں، ان کو چھوڑ کر صرف اہلِ بیتؓ کے پڑھنے پڑھانے سے شیعہ مذہب کا عقیدہ عدمِ تحریف کے متعلق کیسے ثابت کر سکتا ہے؟ جب کہ ان کے نزدیک ائمہ اہلِ بیتؓ کے پڑھنے پڑھانے کی تاویل خود شیعہ کتابوں میں یوں کی گئی ہے کہ امامِ مہدی کی آمد تک کسی کو اصلی قرآن پڑھنے پڑھانے کی اجازت نہیں۔
جیسا کہ اصولِ کافی صفحہ 671 پر ہے: سیدنا جعفر صادقؒ نے ایک شخص سے اصلی قرآن کے کچھ الفاظ سنے تو امام نے فرمایا:
كُفَّ عَنْ هٰذِهِ الْقِرَاءَةِ، اِقْرَأْ كَمَا يَقْرَأُ النَّاسُ حَتّٰى يَقُوْمَ الْقَائِمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَاِذَا قَامَ الْقَائِمُ قَرَأَ كِتَابَ اللّٰهِ عَلٰى حَدِّهٖ۔
ترجمہ: کہ اس قرأت سے باز رہو اور اس طرح پڑھو جس طرح لوگ پڑھتے ہیں، یہاں تک کہ امامِ مہدی آ جائے جس وقت امامِ مہدی آئیں گے تو کتاب اللہ کو اصلی طریقہ پر پڑھیں گے۔
مقبول ترجمہ صفحہ 1067 پر ہے: حضرت علیؓ نے فرمایا: آج اس کا موقع نہیں ہے کہ قرآنِ مجید کی اصلاح کر کے عوام کو ہیجان میں لایا جائے ائمہ میں یہ حق مخصوص جنابِ صاحب العصر امامِ مہدی کا حق ہے کہ قرآنِ مجید کو اسی حد پر پڑھوائیں گے جس حد پر وہ زمانہ رسولِ اللہﷺ میں پڑھا جاتا تھا۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ائمہ اہلِ بیتؓ اس کو کیوں پڑھتے تھے؟ تو دیکھیں، خود آپ کے مذہب نے اس کی وجہ ظاہر کر دی کہ امامِ مہدی کے سوا دوسرے اماموں کو اصلی قرآن پڑھوانے کا حق نہیں تھا اس لیے وہ اس قرآن کو پڑھتے تھے، نہ کہ اس لیے پڑھتے تھے کہ یہ قرآن کامل و مکمل ہے۔
2: اصولِ کافی کی 17 ہزار آیات والی روایت کے جواب میں آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ ناسخ و منسوخ کو ملا کر سترہ ہزار تھیں اصولِ کافی کا شارح ملا خلیل قزوینی تو لکھتا ہے:
مراد این است کہ بسیائی ازاں قرآن ساقط شده در مصاحف مشهوره نیست
اور چند سطور کے بعد لکھتا ہے کہ
دعوائے ایں کہ قرآن ہمین است کہ در مصاحف مشهوره است خالی از اشکال نیست
اور اس کے بعد اس قسم کے دلائل پیش کیے کہ موجودہ قرآن محفوظ اور کامل و مکمل نہیں ہے۔ اگر 17 ہزار سے کمی کی وجہ ناسخ و منسوخ ہوتی تو وہ اس کی وجہِ تحریفِ قرآن کے بجائے نسخ کو بیان کرتا مگر ملا خلیل صاحب نے تحریف کو کمیِ قرآن کی وجہ بتایا، نسخ کا نام بھی نہیں لیا۔
تفسیرِ صافی شیعہ صفحہ 13 پر ہے اور دیباچہ مقبول صفحہ 44 پر ہے: صاحبِ تفسیرِ صافی فرماتے ہیں کہ ان تمام حدیثوں سے اور طریقۂ اہلِ بیتؓ سے جو اور روایات ہم تک پہنچی ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو قرآنِ مجید اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے، یہ پورا پورا نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ پر نازل کیا گیا اس میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو تنزیلِ خدا کے خلاف ہے، اور اس میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جس میں تحریف و تغییر کی گئی ہے، اور کتنی ہی چیزیں اس میں سے گرا دی گئی ہیں از جملہ نامِ علیؓ تو بہت سے موقعوں سے، اور لفظِ آلِ محمد چند جگہوں سے، اور منافقوں کے نام خاص موقعوں سے، اور اسی طرح کچھ اور چیزیں اور یہ تو کھلی بات ہے کہ موجودہ ترتیب خدا اور رسول اللہﷺ کی پسندیدہ ترتیب تو ہرگز نہیں ہے۔
نیز مقبول ترجمہ صفحہ 1011 پر ہے: تفسیرِ قمی میں سیدنا محمد باقرؒ سے منقول ہے کہ جبرئیلِ امین نے رسولِ اکرمﷺ کو یہ آیت یوں پہنچائی تھی: ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ كَرِھُوْا مَااَنْزَلَ اللّٰهُ فِی عَلِی مگر مرتدین نے نام اڑا دیا پس اس کا نتیجہ بھگتیں گے۔
نیز مقبول ترجمہ صفحہ 479 پر ہے: معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن میں ظاہر اعراب لگائے گئے تو شراب خوار خلفاء کی خاطر يُعْصَرُوْنَ کو يَعْصِرُوْنَ سے بدل کر معنیٰ کو زیر و زبر کیا گیا یائے مجہول کو معروف سے بدل کر لوگوں کے لیے ان کے کرتوت کی معرفت آسان کر دی۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ اپنے مذہب کی ان کتابوں کے جواب دیجیے ادہر ادہر نہ بھاگنے دوں گا۔
محدث دہلوی صاحبؒ بھی آپ کے مذہب کے متعلق اسی تحفہ اثناءِ عشریہ کے صفحہ 215 پر لکھ چکے ہیں کہ امامیہ میں سے اثناءِ عشریہ کہتے ہیں کہ یہ کلامِ پاک جو اس وقت مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ تمام منزل من اللہ نہیں، بلکہ اس میں لوگوں نے کچھ الفاظ زائد کر دیے آگے لکھتے ہیں: اور اس کی بہت سی آیتیں اور سورتیں گرا دی گئی ہیں شاہ عبد العزیز صاحبؒ کے نزدیک شیعہ کا قرآن کے متعلق یہ عقیدہ ہے۔