سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 9 از 12

جب سردارِ دو عالمﷺ کا وصال ہوا تو یہ سیدہ فاطمہؓ کے لئے طبعی طور پر ایک مشکل دور تھا۔ سیدہ فاطمہؓ کی والدہ ماجدہ سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ ان کی نو عمری میں ہی فوت ہو چکی تھیں اور بہنیں بھی آنجنابﷺ کے عہد مبارک میں فوت ہو گئیں۔ اس کے بعد خود آنجنابﷺ کا وصال ان کے لئے ایک عظیم صدمہ تھا۔ اس میں سیدہ فاطمہؓ نے بڑے صبر و استقلال سے کام لیا۔ اور آنجنابﷺ کے بعد چند ماہ ہی زندہ رہیں جس کی تفصیل آئندہ اوراق میں ذکر ہو گی۔ 

اس مختصر دور میں چند ایک چیزیں جو سیدہ فاطمہ ؓ کو پیش آئیں ان کو ایک ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے۔

 سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مالی مطالبہ

نبی اقدسﷺ کے وصال کے بعد آنجنابﷺ کے بلا فصل خلیفہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ منتخب ہوئے ۔ آپؓ کے خلیفہ منتخب ہونے پر اکابر بنی ہاشم سمیت جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتفاق کیا اور آپؓ خلافت کے فرائض سرانجام دینے لگے ۔ خلیفۂ وقت ہی پنجگانہ نماز مسجدِ نبویﷺ میں پڑھایا کرتے اور مدینہ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بنی ہاشم سمیت ان کی اقتدار میں نماز پڑھتے۔ جمعہ اور دیگر اجتماعات بھی ان کے انتظام کے تحت منعقد ہوتے تھے اور امت کے مسائل اور تنازعات کے فیصلے بھی خلیفۂ رسولﷺ کے فرمان کے مطابق ہوتے تھے۔

ان ایام میں سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے مالِ فئے کے متعلق ایک مالی حقوق کا مطالبہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں پیش ہوا۔ فدک کی آمدنی اسی مال فئے میں سے تھی۔ اس مطالبہ میں سیدہ فاطمہؓ کا موقف یہ تھا کہ مالِ فئے سے جس طرح ہمیں عہدِ نبویﷺ میں حصہ ملتا رہا ہے وہ مال اب ہمیں بطورِ میراث ملنا چاہیئے۔ 

اس کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان کو نبی کریمﷺ کے اس فرمان کی طرف توجہ دلائی جس میں نبی اقدسﷺ نے فرمایا ۔

نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركنا فهو صدقة 

یعنی نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہم انبیاء کی جماعت ہیں۔ ہماری وراثت نہیں چلتی بلکہ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (اور اللہ کی راہ میں مسلمانوں کے لیے وقف ہوتا ہے) البتہ مالِ فئے سے جو حصہ نبی کریمﷺ کے عہد میں آپ حضرات کو دیا جاتا تھا وہ بدستور جاری رہے گا۔

اس مطالبۂ میراث کے تسلی بخش جواب حاصل ہونے پر سیدہ فاطمہؓ خاموش ہو گئیں اور پھر پوری زندگی آپؓ نے کوئی مطالبہ نہیں پیش کیا۔

مسئلہ ہذا کے متعلق آئندہ اوراق میں کچھ مزید وضاحت درج کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ، تھوڑی سی انتظار فرمائیں۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بشارت کی خبر دینا

سیدہ فاطمہؓ کا تعلق خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ نہایت خوشگوار تھا۔ اور ان حضرات کی باہمی کشیدگی نہیں تھی۔

مذکورہ بالا مطالبہ (مالی میراث) کے بعد سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ کچھ ملال نہیں رکھتی تھیں اس کی تائید میں مندرجہ ذیل واقعہ درج کیا جاتا ہے۔

 چنانچہ ایک بار سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاں تشریف لے گئیں ۔ وہاں ان دونوں حضرات کی گفتگو ہوئی اسی دوران سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا صدیق اکبرؓ کو نبی کریمﷺ کی خاص بشارت سنائی وہ یہ تھی کہ سیدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں کہ۔

"نبی اقدسﷺ نے میرے حق میں یہ بشارت فرمائی تھی کہ آنجنابﷺ کے بعد آپ کے اہلِ بیتؓ میں پہلی شخصیت ہوں گی جو آپ کے ساتھ لاحق ہوں گی۔" 

قال دخلت فاطمة على أبي بكر فقالت اخبرني رسول الله صلى الله وسلم انى اول اهله لحوقاً به

(مسند أحمد صفحہ 283 جلد 6 تحت مسنداتِ فاطمه بنت رسول اللهﷺ )

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی امامہ رضی اللہ عنہا کے حق میں وصیت

امامة بنت ابی العاصؓ سیدہ زینبؓ کی صاحبزادی اور سیدہ فاطمہؓ کی سگی بھانجی تھیں ۔ سیدہ زینبؓ کے حالات میں اس پر مختصراً لکھا جا چکا ہے۔

فاطمہؓ نے اپنے آخری ایام میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو امامہؓ کے متعلق وصیت فرمائی کہ میرے بعد آپؓ شادی کرنا چاہیں تو میری بھانجی امامہؓ کو نکاح میں لے لینا۔ یہ وصیت متعدد علماء نے ذکر کی ہے ۔ ہم یہاں سے "اسد الغابہ" سے نقل کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابن اثیر جزریؒ لکھتے ہیں کہ

 ولما كبرت امامة تزوجها على بن أبی طالب رضی الله عنه بعد موت فاطمة عليها السلام وكانت وصت علياً ان يتزوجها فلما توفيت فاطمة تزوجها

(اسد الغابة في معرفة الصحابه صفحہ 400 جلد 5تحت امامة بنت أبی العاصؓ بن الربيع)

 یعنی جب امامہؓ جوان ہو گئیں تو ان سے علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بعد شادی کی۔ سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا علیؓ کو وصیت کی تھی کہ آپ ان کے ساتھ شادی کر لینا۔ جب سیدہ فاطمہؓ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی وصیت کے مطابق ان سے شادی کی

"شیعہ کی جانب سے تائید"

مذکورہ وصیت اور اس پر عمل درآمد کے متعلق شیعہ علماء نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ اور با سند کتابوں میں اس وصیت کا اندراج کیا چنانچہ فروع کافی میں مذکور ہے :

عن أبي جعفر علیه السلام قال أوصت فاطمة إلى على عليه السلام ان يتزوج ابنة اختها ا من من بعدها بعدها ففعل

(فروع کافی صفحہ 243 جلد 2 مطبع نول کشور لکھنؤ باب النوادر)

یعنی سیدنا محمد باقرؒ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا فاطمہؓ نے وصیت کی تھی کہ میری بہن کی بیٹی سے میرے بعد آپ شادی کر لینا۔ پس سیدنا علیؓ نے وصیت پر عمل کرتے ہوئے (امامہؓ بنت ابی العاص بن ربیعؓ سے) شادی کی۔

قبل ازیں شیعہ کتب سے اس مسئلہ پر متعدد حوالے امامہؓ کے حق میں سیدہ فاطمہؓ کی وصیت کے عنوان کے تحت سیدہ زینبؓ کے حالات میں بھی درج کیئے جاچکے ہیں ۔ وصیت ہذا کا یہاں مختصراً ذکر کر دیا ہے۔

تفصیل مطلوب ہو تو اسی کتاب میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کے حالات کے تحت اس کو ملاحظہ فرمائیں۔

 سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مرض الوفات اور ان کی تیمارداری

صفحہ 9 از 12