سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 8 از 12

میراثِ فدک وغیرہ کے مسائل نے ان حضرات کے درمیان کوئی انقباض نہیں پیدا کیا اور نہ ہی ان کے قلوبِ صافیہ اس وجہ سے مکدر ہوئے۔

انتقالِ نبویﷺ پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا اظہارِ غم

گذشتہ واقعہ میں یہ بات ذکر کر دی گئی تھی کہ آنجنابﷺ کی بیماری کی حالت میں مذکورہ کلام سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ ہوئی تھی یہ آخری ایام تھے۔ نبی کریمﷺ پر بیماری کا غلبہ تھا۔ جب مرض شدت اختیار کر گیا تو سیدہ فاطمہؓ پریشانی کے عالم میں کہنے لگیں کہ "واکرب اباه" (افسوس! ہمارے والد صاحب کی تکلیف) اس وقت آنجنابﷺ نے فرمایا کہ "آج کے بعد تیرے والد پر کوئی تکلیف نہیں۔" 

پھر آنجنابﷺ کا ارتحال ہو گیا اور آپﷺ دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف انتقال فرما گئے ۔ (اللهم صلی علی محمد و على آل محمد و بارك وسلم) 

آنجنابﷺ کا وصال امت کے لئے مصیبت عظمیٰ تھی اور اس چیز کا رنج و الم تمام اہلِ اسلام کے لئے نا قابل برداشت صدمہ تھا۔ آنجنابﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن تمام اقرباء اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر دہشت اور پریشانی کی کیفیت طاری تھی جس کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بڑی وضاحت سے درج ہیں ۔

 ہم اس مقام میں صرف سیدہ فاطمہؓ کے متعلق، ذکر کر رہے ہیں۔ اس بنا پر باقی حضرات کے ہم وغم کی کیفیاتِ شدیدہ یہاں ذکر نہیں کی گئیں۔

 آنجنابﷺ کے وصال ہو جانے کے بعد اظہارِ تاسف کے طور پر سیدہ فاطمہؓ فرماتی تھیں کہ:

"اے باپ! آپ نے اپنے رب کی دعوت قبول کی۔ اے باپ! جنت الفردوس آپﷺ کا ٹھکانہ ہوگا۔ اے باپ! ہم جبرائیل علیہ السلام کو آپ کے انتقال کی خبر دیتے ہیں۔"

 اس کے بعد آنجنابﷺ کے کفن دفن اور جنازہ کے مراحل گزرے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ مبارکہ میں آنجنابﷺ دفن ہوئے آپﷺ کے دفن کے بعد حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم واپس ہوئے خادمِ نبی انس بن مالکؓ سے سیدہ فاطمہؓ دریافت فرمانے لگیں اور ازراہِ تحسر و افسوس سوال کیا کہ :

 یا انس ! اطابت انفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم التراب : (رواه البخاري)

یعنی اے انسؓ! آنجنابﷺ کے جسم مبارک پر مٹی ڈالنا تم لوگوں کو کس طرح اچھا معلوم ہوا؟ اور کس طرح تم نے آنجناب پر مٹی ڈالنا گوارہ کرلیا ہے" (انا الله وانا اليه راجعون)

(مشكٰوة شريف صفحہ 547 الفصل الأول عن انس باب وفات النبیﷺ طبع نور محمدی دہلی)

(السنن للدارمی صفحہ 23 مطبع نظامی کانپوری باب وفات النبيﷺ)

حضورﷺ کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وصیت

جناب نبی کریمﷺ نے آخری اوقات میں سیدہ فاطمہؓ کو متعدد وصایات فرمائی تھیں۔ ان میں سے ایک خصوصی وصیت "ماتم" سے منع کرنے کے متعلق تھی کہ میرے وصال پر کسی قسم کا مروجہ ماتم نہ کیا جائے۔

 چنانچہ اس وصیت نبویﷺ کو شیعہ کے متعدد اکابر علماء نے اپنی اپنی سند کے ساتھ اپنے ائمہ کرام سے نقل کیا ہے۔ سطور ذیل میں اس پر چند حوالہ جات ان کی معتبر تصانیف سے درج کیئے جاتے ہیں۔ بغور ملاحظہ فرمائیں۔

محمد ابنِ یعقوب کلینی رازی نے سیدنا محمد باقرؒ سے فرمانِ نبویﷺ نقل کیا ہے کہ

ان رسول الله صلى الله عليه والهٖ قال فاطمة عليها السلام اذا انا مت فلا تخمشي على وجها ولا ترخى على شعرًا ولا ولا تنادي بالويل ولا تقيمي على نائحة۔

( فروغ کافی صفحہ 228 جلد 2 كتاب النكاح باب صفة مبايعة النبيﷺ النساء - طبع نول کشور لکھنؤ)

 اور مشہور فاضل شیخ صدوق نے اپنی تصنیف "معانی الاخبار" میں یہی فرمانِ نبویﷺ سیدنا محمد باقرؒ سے نقل کیا ہے:

قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة اذا انا مت فلا تخمشى على وجهًا ولا ترخى على شعرا ولا تنادي بالويل ولا تقيمى على نائحة

(کتاب معانی الاخبار للشيخ الصدوق صفحہ 111 باب 245 طبع قدیم، ایران)

وصیت ہذا کا مفہوم مثلاً باقر مجلسی نے اپنی مشہور تصنیف "حیات القلوب" میں بعبارت ذیل تحریر کیا ہے۔

ابنِ بابویہ القمی بسند متبر انه امام محمد باقرؒ روایت کرده است که حضرت رسول در هنگام وفات خود بحضرت فاطمه گفت که اے فاطمہ! چوں بمیرم روئے خود را برائے من مخراش و گیسوئے خو را پریشان مکن و واویلا مگو و بر من نوحہ مکن ونوحہ گراں را مطلب

(حیات القلوب از ملا باقر مجلسی صفحہ 852 جلد 2 باب شصت و سوئم در وصیت حضرت رسول علیہ السلام طبع نول کشور لکھنؤ)

مندرجہ بالا روایات کا مفہوم یہ ہے کہ :

سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے اپنی وفات کے وقت میں سیدہ فاطمہؓ کو بطور وصیت فرمایا کہ اے فاطمہؓ! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری وجہ سے (میرے غم میں) اپنے چہرے کو نہ نوچنا اور اپنے بالوں کو پریشان نہ کرنا اور واویلا نہ کرنا اور مجھ پر نوحہ اور بین نہ کرنا ور نہ ہی نوحہ کرنے والیوں کو بلانا۔

 فائدہ

اس وصیت میں سردارِ دو جہاںﷺ نے مروجہ ماتم کے جمیع اقسام (چہرہ نوچنا اور پیٹنا، بال کھولنا، واویلا کرنا، بین کرنا اور نوحہ خوانی کرنا وغیرہ) سے تاکیداً منع فرمایا ہے۔ گویا سیدہ فاطمہؓ کی وصیت سے تمام امت کو یہ وصیت فرما دی گئی ہے کہ جتنے بھی اہم مصائب مومن کو پیش آئیں ان میں صبر اور استقامت پر رہے۔ اور بے صبری کی ہمہ اقسام سے اجتناب کریں۔

 اور اس وصیتِ نبویﷺ کے موافق سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ سے مصائب پر صبر کرنے کی وصیت اور جمیع اقسام ماتم سے اجتناب کرنے کی نصیحت منقول ہے۔ 

نیز سیدنا حضرت حسینؓ سے میدانِ کربلا میں اپنی گرامی قدر خواہر زینب رضی اللہ عنہا کو صبر کرنے کی تلقین اور ہر طرح کے ماتم سے منع مروی ہے۔ جناب سیدنا زین العابدینؒ اور باقی ائمہ معصومین سے بھی مروجہ ماتم کی نفی شیعہ کتب میں موجود ہے۔

 مؤمنین کرام کو ان وصایات اور ائمہ کے فرامین کو نہیں بھولنا چاہیئے۔ اگر اس چیز کی تسلی مطلوب ہو تو اپنی کتب کی طرف رجوع فرما لیں ہم نے اس مسئلہ کو حوالہ جات دیکھ لینے کے بعد درج کیا ہے۔

وصالِ نبویﷺ کے بعد کا دور

صفحہ 8 از 12