سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 7 از 12

  آنجنابﷺ نے فرمایا کہ بنی ہشام بن مغیرہ نے اس چیز کی مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی لڑکی علیؓ بن ابی طالب کو نکاح کر دیں تو میں نے بالکل اجازت نہیں دی۔ یہ الفاظ بار بار فرماتے ہیں سیدہ فاطمہؓ اور آنجنابﷺ کی ناراضگی کے اندیشہ سے سیدنا علیؓ اس اقدام سے رک گئے۔ آپس میں صلح و مصالحت ہوئی اور معاملہ فرو ہو گیا۔

اس مقام میں ایک بات قابلِ وضاحت ہے اس کو ان شاءاللہ تعالیٰ ازالہ شہبات میں ذکر کیا جائے گا۔ ملحوظ رہے کہ زوجین (سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ ) کے درمیان متعدد دفعہ کشیدگی کی نوبت آتی رہی۔ بعض دفعہ سردارِ دو عالمﷺ تشریف لاتے اور زوجین کے درمیان صلح و آشتی کی صورت پیدا فرما دیتے تھے۔

اس نوع کے واقعات فریقین (سنی و شیعہ) کی کتابوں میں دستیاب ہیں۔ اور یہ ازدواجی زندگی کا لازمہ ہے کہ اس طرح کے معاملات آپس میں پیش آتے رہتے ہیں۔ ایک اور دفعہ بھی اسی طرح باہم رنجیدگی ہوئی سیدنا علیؓ نے کچھ قدرے سختی کی اور سیدہ فاطمہؓ شکوہ لے کر جناب نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئیں تو آنجنابﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے بیٹی! تم کو اپنے خاوند کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہیئے اور یہ سمجھ لے کہ ایسی کونسی عورت ہے کہ جس کے پاس اپنا شوہر خاموشی سے چلا آئے؟؟ یعنی اس کو تنبیہ وغیرہ کا حق ہوتا ہے۔

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 16 جلد 8 تذکرہ فاطمہؓ)

(الاصابه صفحہ 398 جلد 4 تذکره فاطمہؓ)

عملِ صالح کی تاکید

نبی اقدسﷺ کے مرض الوفات میں آنجنابﷺ نے متعدد وصایا اور فرامین ذکر فرمائے اور ان پر عمل کرنے کی امت کو بڑی تاکید فرمائی تھی۔ ان ہدایات کو وصایا نبویﷺ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محدثین اور اہلِ سیرت نے ان کو اپنے اپنے مقام میں ذکر کیا ہے یہاں ماقبل کے مضمون کی مناسبت سے اس مقام میں صرف سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ صفیہؓ بنتِ عبدالمطلب کو جو وصیت فرمائی تھی اسے بیان کیا جاتا ہے۔ آنجنابﷺ نے دیگر چیزوں کے ساتھ ان دونوں (سیدہ فاطمہؓ اور صفیہؓ) کو عملِ صالح کی تاکید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

يا فاطمة بنتِ رسول الله يا صفية عمة رسول الله! اعملا - لما عند الله اني لا اغنى عنكما من الله شيئا ... الخ

 یعنی اے فاطمہؓ اور اے صفیہؓ! اللہ تعالیٰ کے ہاں جو محاسبہ ہو گا۔ اس کی خاطر تم دونوں عمل کی تیاری کریں۔ میں تم کو اللہ تعالیٰ کے ہاں حساب میں نفع نہیں دوں گا۔ 

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 46 جلد 2 قسم ثانی ذکر ما اوصاء بهٖ رسول اللہﷺ في مرضه الذي مات فيه)

 اس وصیت کا ہر ایک کی عملی زندگی کے ساتھ خصوصی تعلق ہے آنحضر ﷺ بتلا رہے ہیں کہ:

  1. محاسبۂ شرعی ہر ایک سے ہو گا۔
  2. ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کے لیے (ایمان کے بعد ) عمل کی تیاری لازم ہے۔ 
  3. حسب و نسب پر اعتماد کر کے اعمالِ صالحہ میں کوتاہی کرنا جائز نہیں ہے۔ 

باقی قیامت میں شفاعت کا مسئلہ وہ مستقل چیز ہے اور وہ اپنے مقام پر صحیح ہے وہ باِذن اللہ ہوگی۔ اس فرمان سے شفاعت کی نفی ہرگز مقصد نہیں ہے۔

راز دارانہ گفتگو

نبی اقدسﷺ کے آخری ایام میں ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ جس کو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ سردار دو عالمﷺ گھر میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ کے پاس موجود تھیں۔ سیدہ فاطمہؓ تشریف لائیں اور اس وقت نبی اقدسﷺ کی اولاد میں سے صرف ایک سیدہ فاطمہؓ ہی زندہ موجود تھیں، ان کی باقی تمام اولاد قبل از میں فوت ہو چکی تھی۔ 

سیدہ فاطمہؓ کا انداز رفتار اپنے والد شریفﷺ کی رفتار کے موافق تھا جس وقت آنجنابﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو دیکھا تو مرحبا فرمایا اور انہیں اپنے پاس بٹھا لیا۔ پھر ان کے ساتھ آنجنابﷺ نے سرگوشی فرمائی تو آپؓ بے ساختہ رونے لگیں جب آنحضرتﷺ نے ان کی غمگینی دیکھی تو دوبارہ سرگوشی فرمائی۔ اس دفعہ سیدہ فاطمہؓ ہنسنے لگیں۔ 

جب نبی اقدسﷺ اس مجلس سے تشریف لے گئے تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہؓ سے وہ بات دریافت کی جس کے متعلق سرگوشی ہوئی تھی۔ تو سیدہ فاطمہؓ کہنے لگیں کہ نبی اکرمﷺ کی رازدارانہ بات کو میں افشار اور اظہار کرنا نہیں چاہتی۔

اس کے بعد جب آنحضرتﷺ کا انتقال ہو گیا تو میں نے سیدہ فاطمہؓ کو اس حق کی قسم دلا کر بات کی جو میرا ان پر ہے کہ آپؓ مجھے ضرور خبر دیں تو اس وقت سیدہ فاطمہؓ نے کہا کہ آنجنابﷺ نے پہلی مرتبہ میرے ساتھ سرگوشی فرمائی تو آنجنابﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک دفعہ آکر قرآن مجید میں معارضہ کرتے یعنی مجھے قرآن مجید سناتے اور مجھ سے سنتے اور اس سال دو بار مجھے انہوں نے قرآن مجید سنا اور سنایا ہے۔ میں اس سے یہی خیال کرتا ہوں کہ میری وفات قریب آ گئی ہے۔ اے فاطمہؓ ! اللہ سے خوف کھانا اور صبر اختیار کرنا۔ میں تیرے لئے بہترین پیش رہوں گا۔ پس میں یہ سن کر رونے لگی ۔ جب آنجنابﷺ نے میری گبھراہٹ اور پریشانی دیکھی تو آنجنابﷺ نے دوبارہ سرگوشی فرما کر مجھے فرمایا کہ اے فاطمہؓ! تم اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ تم اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہو یا مؤمنوں کی عورتوں کی سردار ہو۔ اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آنجنابﷺ نے مجھے خبر دی کہ اسی مرض میں اللہ تعالیٰ کی طرف رحلت کر جاؤں گا پس میں گریہ کرنے لگی پھر آپ ﷺ نے سرگوشی فرمائی اور فرمایا کہ اے فاطمہؓ! تم میرے اہلِ بیتؓ میں سے پہلی شخصیت ہو جو میرے پیچھے آئے گی۔ یہ سن کر میں خنداں ہوئی۔ (متفق علیہ)

(مشکٰوة شريف صفحہ 568 طبع نور محمدی دہلی - باب مناقب اہلِ البيت الفصل الاول)

ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ:

یہ واقعہ آخری ایامِ نبویﷺ کا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی آنجنابﷺ کا وصال ہو گیا تھا۔ سیدہ فاطمہؓ کی فضیلت و بزرگی جس روایت سے ثابت ہوتی ہے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ اُم المؤمنینؓ سے مروی ہے اور آپؓ کے ذریعے ہی امت کو معلوم ہوئی ہے سیدہ ام المؤمنینؓ اسے پوری کوشش کے ساتھ سیدہ فاطمہؓ سے دریافت کر کے اس بات کو منظرِ عام پر لائی ہیں۔

نیز ان پاک دامن طیبات مخدراتؓ کے باہم تعلقات اور ایک دوسرے کے ساتھ روابط آخری ایام تک عمدہ طریق سے قائم تھے۔ ان کی باہمی آمد و رفت ہوتی تھی۔ ایک دوسرے کا لحاظ اور احترام ان میں موجود تھا۔

صفحہ 7 از 12