سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 6 از 12

سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہؓ جب نبی اقدسﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آنجنابﷺ (ان کی رعایت خاطر کے لیے) کھڑے ہو جاتے تھے اور پیار کرنے کے لئے ہاتھ پکڑ لیتے اور بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کے مقام پر بٹھا لیتے تھے۔

اور جب نبی کریمﷺ سیدہ فاطمہؓ کے ہاں تشریف لے جاتے تو احتراماً سیدہ فاطمہؓ کھڑی ہو جاتیں آپﷺ کے دستِ مبارک کو چوم لیتیں اور اپنی نشست پر بٹھا لیتی تھیں۔

(مشكٰوة شریف صفحہ 402 بحوالہ ابو داؤد باب المصافحہ والمعانقة)

روایت مندرجہ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ آنجنابﷺ اپنی صاحبزادیوں پر نہایت شفقت فرماتے تھے اور ان سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی دلداری اور پاس خاطر کے لئے ان کے ساتھ بہت مہربانی فرماتے۔

 نقش و نگار سے اجتناب

دنیا کی زیب و زینت نبی اقدسﷺ پسند نہیں فرماتے تھے اور آنجنابﷺ کے گھروں میں کسی قسم کے ٹھاٹھ باٹھ کی چیزیں نہیں ہوتی تھیں اور آنجنابﷺ اپنی اولاد شریف کے متعلق بھی دنیاوی زیب و زینت کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے آنجنابﷺ کو طعام کی دعوت دی اور آپﷺ تشریف لائے سیدہ فاطمہؓ نے گھر میں ایک منقش پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر کسی قسم کی تصویریں اور نقوش وغیرہ بنے ہوئے تھے۔ آپﷺ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے اور یہ منظر دیکھ کر آنجنابﷺ واپس ہوئے۔ سیدہ فاطمہؓ کہتی ہیں کہ میں آنجنابﷺ کے پیچھے پیچھے چل پڑی اور عرض کی یا رسول اللهﷺ؟ آپ کس وجہ سے واپس تشریف لے جارہے ہیں تو آنجنابﷺ نے فرمایا کہ پیغمبر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ایسے مکان میں داخل ہو جو مزین اور منقش بنایا گیا ہو ۔

عن سفينة أن رجلاضاف علی ابن ابی طالب فصنع له طعاماً فقالت فاطمةؓ لو دعونا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذاكل معنا فدعوه فجاء فوضع يديه على عضادق الباب فراى القرام قد ضرب ناحية البيت فرجع قالت فاطمةؓ فتبعته فقلت يا رسول الله ما ردك قال انه ليس لي اولنبي ان يدخل بيتًا مزوقًا - رواه أحمد وابن ماجة 

(مشكٌوة شريف صفحہ 278 الفصل الثانی باب الوليمة)

 واقعہ ہذا سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنجنابﷺ کے ہاں دنیاوی زینت کی کوئی وقعت نہیں بلکہ اس سے نفرت تھی نیز یہ معلوم ہوا کہ جس مقام میں کوئی غیر شرعی امر پایا جائے وہاں کی دعوت میں شامل ہونا ٹھیک نہیں ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے محبت رکھنے کی ترغیب

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ دیگر ازواجِ مطہراتؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو ایک کام کے لیے آنجنابﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجا۔ آنجنابﷺ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے گھر میں تشریف فرما تھے تو اس کام کے متعلق گفتگو ہوئی۔ نبی اقدسﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا:

الى بنية الست تحبين ما احب قالت بلٰى قال فأحبى هٰذہٖ

 یعنی اے میری بیٹی! جس کو میں محبوب رکھتا ہوں کیا تو اسے محبوب نہیں رکھتی؟ تو سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیا کیوں نہیں! میں محبوب رکھتی ہوں ۔ تو آنجنابﷺ نے فرمایا کہ عائشہؓ کے ساتھ محبت رکھنا۔

(مسلم شریف صفحہ 285 جلد 2 باب فضائل عائشہؓ)

(السنن للنسائي صفحہ 78 جلد 2 كتاب عشرة النساء)

(مسند ابی یعلی الموصلی صفحہ 471 جلد رابع روایت 4934 تحت مسنداتِ عائشہ صدیقہؓ طبع جدید)

یہاں سے معلوم ہوتا ہے سیدہ فاطمہؓ سیدہ عائشہؓ کا احترام ام المؤمنین ہونے کی بنا پر لازماً کرتی تھیں اور اس کی آنحضرتﷺ نے انہیں تاکید کر رکھی تھی۔

ارشاد نبوی ہوا کہ عائشہؓ کے ساتھ محبت اور عمدہ سلوک قائم رکھنا۔ نبی کریمﷺ جس کو محبوب جانیں اس کو محبوب ہی رکھنا چاہیئے۔

یہ روایت اپنی تفصیل کے ساتھ "رحماء بينهم" حصہ صدیقی صفحہ 67،69 میں بھی آ چکی ہے۔

شکر رنجی کا ایک واقعہ

فتح مکہ کے بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ابو جہل کی لڑکی (جویریہ) کے ساتھ نکاح کا ارادہ کیا اس بات کی اطلاع سیدہ فاطمہؓ کو بھی ہو گئی آپؓ نے سخت رنجیدہ خاطر اور ناراض ہو کر اپنے والد شریف نبی اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور تمام ماجرا عرض کیا۔ یہ واقعہ سن کر نبی کریمﷺ نے لوگوں میں ایک مستقل خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ان کو ایذاء پہنچانا گویا مجھے ایذاء پہنچانا ہے اور فرمایا کہ مجھے خوف ہے کہ فاطمہؓ (غیرت کی وجہ سے) اپنے دین کے معاملہ میں فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔ اور جو چیز فاطمہؓ کو بری لگے وہ ناپسند ہے۔ اور پھر بنی عبد شمس میں سے اپنے داماد ابو العاصؓ کا ذکر فرمایا کہ میں نے ان کو اپنی دختر نکاح کر کے دی تھی۔ اس نے میرے ساتھ جو بات کی وہ سچی کر دکھائی اور جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ اور فرمایا کہ میں اپنی طرف سے حلال کو حرام نہیں کرتا اور نہ کسی حرام کو حلال کرتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ کے رسولﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہ ہوں گی۔ یہ روایت کرنے والے مسور بن مخرمۃ ذکر کرتے ہیں کہ جب ناراضگی کی یہ صورت پیدا ہو گئی تو سیدنا علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی (جویریہ) سے نکاح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ 

ان على بن أبي طالب خطب بنت أبي جهل على فاطمة فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس في ذلك على منبره - هذا وانا (مسور بن مخرمة) يومئذٍ محتمل فقال ان فاطمة منى وانا اتخوف ان تفتن في دينها ثم ذكر صهرً اله من بني عبد شمس فأثنٌى عليه في مصاهرتهٖ اياه قال حدثني فصدقني وعدنی فوقی لى واني لست احرم حلالاً ولا أحل حراماً ولكن الله لا تجمع بنتِ رسول الله وبنتِ عدو الله ابداً.

ان الفاظ کے بعد ایک دوسری روایت میں مزید الفاظ یہ ہیں کہ:

"عند رجل واحد فترك على خطبة"

(بخاری شریف صفحہ 438 جلد اول تحت باب ما ذكر من درع النبيﷺ وعصاہ وسیفه.... الخ)

(بخاری شریف صفحہ 528 جلد اول تحت باب ذكرا مهار النبيﷺ منهم أبو العاص بن الربيع)

 واقعہ ہذا بخاری شریف کے کئی دیگر مقامات میں بھی مذکور ہے مثلاً صفحہ 787 جلد ثانی ذب الرجل عن ابنتهٖ في الغيرة والانصاف میں مذکور ہے۔

صفحہ 6 از 12