سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 5 از 12

عبداللہ ابنِ عمرو ابنِ العاصؓ آنجنابﷺ کے صحابی ہیں یہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک بار نبی کریمﷺ کی میت میں ہم ایک معیت میں ہم ایک میت کو دفن کرنے کے لئے گئے جب ہم دفن سے فارغ ہوئے اور آنجنابﷺ واپس ہوئے تو ہم آپﷺ کے ساتھ تھے۔ جب آپﷺ گھر کے قریب پہنچے تو سامنے سے ایک عورت آرہی تھی وہ آپﷺ کی صاحبزادی فاطمہؓ تھیں آنجناب ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے گھر سے باہر کسی کام کے لئے گئی تھیں؟ اُنہوں نے عرض کیا کہ فلاں گھر والوں کی ایک فوتیدگی ہوگئی ہے اس کی تعزیت کے لئے میں ان کے ہاں گئی تھی اور تعریت کی ہے اور ان کے میت کے حق میں کلمات ترحم ادا کیئے ہیں۔ 

فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اخرجك يا فاطمة من بيتك؟ قالت اتيت يا رسول الله اهل هٰذا البيت فرحمت اليهم ميتهم أو عزيتهم به ... الخ

(السنن ابی داؤد صفحہ 89 جلد2 مطبع مجتبائی دہلی تحت باب التعزية (كتاب الجنائز)

معلوم ہوا کہ اہلِ میت کے ہاں جاکر تعزیت کرنا اور میت کے لئے دعائیہ کلمات کہنا جائز ہے۔ اس طریقہ سے میت والوں کی خاطر داری ہو جاتی ہے اور تسکین خاطر کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ اور معاشرہ میں باہمی تعلقات بہتر رہتے ہیں جو اجر و ثواب کے حصول کا باعث بنتے ہیں۔

 قربانی کے موقع پر حاضری

ابوسعید الخدریؓ ایک صحابی ہیں ان سے مروی ہے کہ قربانی کرنے کا موقعہ تھا اس موقع پر نبی کریمﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہؓ کو فرمایا ک تم اپنی قربانی کے ذبیح کے وقت اس کے پاس کھڑی رہو اور اس کو دیکھو ساتھ ہی فرمایا کہ قربانی کے خون کے ہر قطرہ کے بدلے تمہارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ تو اس وقت سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا یہ مسئلہ صرف ہمارے لئے خاص ہے؟ یا ہمارے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہے؟ تو آنجنابﷺ نے فرمایا بلکہ ہمارے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔

عن ابی سعيدؓ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا فاطمة قومى الى اضحيتك فأشهديها فأن لك بكل قطرة تقطر من دمها ان يغفر لك م ما سلف من ذنوبك ، قالت يا رسول الله ؟ خاصة اهل البيت؟ اولنا وللمسلمين ؟ قال بل لنا وللمسلمين

(الفتح الرباني (ترتیب مسند احمد) صفحہ 59 جلد 13 تحت باب ما جاء في الاصحية والحث عليها .... الخ)

 قربانی کے موقعہ پر موجود ہونا ایک مستقل ثواب کی چیز ہے جذبۂ اخلاص کے ساتھ یہ منظر دیکھنا مؤجبِ اجر و ثواب ہے اور مسلمان کے گناہوں کے معاف ہونے کا ذریعہ ہے ۔ یہ چیزیں روایت ہذا سے ثابت ہوتی ہیں۔

آنجنابﷺ کے غسل کے وقت پردہ کرنا

سیرت اور حدیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جس روز مکہ فتح ہوا (یعنی 8ہجری میں) اُمِ ہانیؓ بنتِ ابی طالب نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں آنجنابﷺ اس وقت غسل فرما رہے تھے چاشت کا وقت تھا اور آپﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ ایک کپڑے کے ساتھ آنجناب کے لئے پردہ بنائے ہوئے تھیں۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا تو آنجنابﷺ نے دریافت فرمایا؟ یہ کون آئی ہے؟ اُمِ ہانیؓ نے کہا کہ میں اُمِ ہانی حاضر ہوئی ہوں اس کے بعد جب آپﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی ........ الخ

ام هانى بنت ابی طالب تحدث انها ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فوجدته يغتسل و فاطمة بنته تستره بثوب قالت فسلمت عليه وذالك ضحي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذه فقلت انا ام هانى قالت فلما فرغ من غسله قام فصلى ثمان ركعات ....... الخ

(السنن للدارهی صفحہ 177 مطبع نظامی کان پور باب الصلاة الضحىٰ)

(السيرة النبوية لابن هشام صفحہ 411 جلد - 2 تحت ذكر الاسباب الموجبة المسير إلى مكة و ذكر فتح مكة)

 (مشكٰوة شريف صفحہ 347 طبع دہلی)

 باب الامان الفصل الاول بحواله بخاري ومسلم شريف )

(البداية لابن كثير صفحہ 300 جلد رابع تحت حالات دخوله عليهٖ السلام (فتح مکه))

قربانی کے گوشت کی اباحت

اُمِ سلیمانؓ کہتی ہیں کہ میں ایک دفعہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے پاس حاضر ہوئی قربانی کے گوشت کے متعلق میں نے ایک مسئلہ دریافت کیا تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے پہلے قربانی کا گوشت بچا رکھنے سے منع فرمایا تھا مگر بعد میں اس کے بچا رکھنے کی اجازت دے دی۔ واقعۂ اس طرح پیش آیا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کسی سفر سے گھر تشریف لائے سیدہ فاطمہ نہ نے قربانی کا پکا ہوا گوشت پیش کیا تو سیدنا علیؓ کہنے لگے کہ اس کے کھانے سے کیا نبی کریمﷺ نے منع نہیں فرمایا تھا؟ اس کے بعد سیدنا علیؓ نے یہی مسئلہ نبی کریمﷺ سے خود دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت سال بھر کھایا جا سکتا ہے۔

(مسند احمد صفحہ 282 جلد 6 تحت احادیث فاطمہؓ بنتِ رسولﷺ)

یہ روایت قبل ازیں کتاب "رحماء بينهم" حصہ صدیقی صفحہ 71 میں ذکر کی جا چکی ہے وہاں سیدہ عائشہؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے باہمی اعتماد و اعتبار بتلانے کے لئے پیش کی گئی ہے۔

مسجد میں دخول اور خروج کے وقت درود اور دعا پڑھنے کی سنت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے

سیدہ فاطمہؓ سے منقول ہے آپ فرماتی ہیں۔ جب نبی کریمﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے:

"صلی علی محمد و سلم و قال اللهم اغفر لي ذنوبی وافتح لى ابواب رحمتك "

یعنی"نبی کریمﷺ پر درود اور سلام ہو ۔ اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے"  

اور جب آنجنابﷺ مسجد سے باہر تشریف لاتے تو یہ کلمات فرماتے:

"صلی علی محمد وسلم ثم قال اللهم اغفر لي ذنوبی وافتح لى أبواب فضلك"

یعنی" نبی کریمﷺ پر درود اور سلام ہو۔ اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے کے"

(مسند احمد صفحہ 286 جلد6 تخت مستنداتِ فاطمهؓ)

 اس روایت سے مسجد میں داخل ہوتے وقت اور اس سے نکلتے وقت درود پڑھنا اور کلمات دعائیہ سے دخولِ مسجد اور خروجِ مسجد کے آداب اور اس وقت کا درود کہنا ثابت ہوا۔ نبی کریمﷺ کا اپنی ذاتِ اقدس پر خود درود بھیجنا بھی یہاں اس روایت سے ثابت ہوتا ہے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر شفقت فرمانا

صفحہ 5 از 12