سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 4 از 12

جب سیدہ فاطمہؓ اپنے زوج محترم کے ساتھ الگ رہنے لگیں تو خانگی کام کاج خود سرانجام دیتی تھیں۔ جیسا کہ گذشتہ سطور میں ذکر ہو چکا۔ اسلام کا ابتدائی دور تھا بعض دفعہ غلام اور لونڈیاں فتوحات میں آتی تھیں اور مسلمانوں میں تقسیم ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں کچھ غلام آئے تو اس موقعہ پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے بطور مشورہ کہا کہ آپ نبی کریمﷺ کی خدمت میں جا کر ایک خادم کا مطالبہ کریں جو خانگی کام کاج میں آپ کا کفیل ہو سکے اور آپ اس زحمت سے بچ جائیں۔ 

 اس بناء پر سیدہ فاطمہؓ نبی اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن کچھ اور لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن سے آپﷺ مصروف گفتگو تھے۔ تو سیدہ فاطمہؓ وہاں سے واپس لوٹ آئیں اور اس وقت کچھ عرض نہ کر سکیں۔ اس کے بعد نبی کریمﷺ ایک دوسرے وقت میں سیدہ فاطمہؓ کے گھر خود تشریف لائے ۔ سیدنا علیؓ بھی موجود تھے تو آنجنابﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے فاطمہؓ! آپ میرے پاس آئی تھیں۔ آپ اس وقت کیا کہنا چاہتی تھیں؟ تو سیدہ فاطمہؓ حیاء کی بنا پر خاموش رہیں۔ سیدنا علیؓ عرض کرنے لگے یا رسول اللہﷺ میں عرض کرتا ہوں : فاطمہؓ گھر کا کام کاج خود کرتی ہیں چکی پیستی ہیں تو ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے ہیں، پانی لانے لانے کے لئے مشکیزہ خود اٹھاتی ہیں جس کی وجہ سے جسم پر نشان پڑ گئے ہیں۔ آنجنابﷺ کی خدمت میں کچھ خادم آئے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ جنابﷺ کی خدمت سے ایک خادم طلب کریں تا کہ آپؓ مشقت اٹھانے سے بچ جائیں۔ نبی کریمﷺ نے جواب میں فرمایا کہ اے بیٹی! تجھے اپنے فرائض خود ادا کرنے چاہئیں اور اپنے خانگی کام خود سرانجام دینے چاہئیں میں تمہیں وظیفہ بتلاتا ہوں جس وقت رات کو آپ آرام کرنے لگیں تو اسے پڑھ لیا کریں 33 بار سبحان اللہ، 33 بار الحمد لله اور 34 بار اللہ اکبر یہ سو عدد کلمات ہیں۔ یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہیں تو سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے راضی ہوں۔

روایت ہذا کا مضمون اپنی اپنی عبارات میں متعدد علماء نے ذکر کیا ہے، مقاماتِ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

(ابو داؤد شریف صفحہ 64 جلد 2 کتاب الخراج باب بیان مواضع قسم الخمس وسھم ذو القربیٰ ، طبع دہلی)

(بخاری شریف صفحہ 439 جلد اول باب الدليل على ان الخمس للتوئب)

(بخاری شریف صفحہ 807 ، 808 جلد ثانی باب عمل المرأة في بيت زوجها)

(مسند ابوداؤد الطيالسی صفحہ 16 جلد اول احادیث علی ابنِ ابی طالب)

(مسند احمد صفحہ 146،147، 153 جلد اول تحت مسندات علىؓ)

خاتُونِ جنت کی درویشانہ زندگی اور کوتاه لباس

اسی طرح آپؓ کی زاہدانہ ندگی کے احوال مصنفین نے اپنی تصانیف میں ذکر کیئے ہیں ۔

سیدہ فاطمہؓ کے لباس کے متعلق ایک واقعہ حضرت انسؓ نے ذکر کیا ہے کہ:

نبی کریمﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو ایک غلام عنایت فرمایا۔ غلام ساتھ تھا۔ سیدہ فاطمہؓ کے گھر میں آنجنابﷺ تشریف لائے، اتفاق سے سیدہ فاطمہؓ ایک مختصر سا دوپٹہ زیب تن کیئے ہوئے تھیں وہ اتنا کوتاہ اور مختصر تھا کہ اگر اس سے سر مبارک کو پوشیدہ کرتیں تو پاؤں نہیں چھپتے تھے اور اگر پاؤں ڈھانپتیں تو سر کھلا رہ جاتا تھا۔ یہ حالت ملاحظہ فرما کر آنجنابﷺ نے فاطمہؓ کو ارشاد فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ہے (یعنی زیادہ تشر کی حاجت نہیں) ایک تیرے والد ہیں اور ایک تیرا غلام ہے۔ 

واقعہ ہذا سنن ابی داؤد میں بعبارت ذیل موجود ہے:

عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى فاطمة بعید قد وهبه لها قال وعلى فاطمة ثوب اذا قنعت به رأسها لم يبلغ رجليها واذا غطت به رجليها لم يبلغ رأسها - فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم ما تلقى قال انه ليس عليك بأس انما هو ابوك وغلامك

(السنن ابی داؤد صفحہ 213 جلد 2 مطبع مجتبائی دھلی تحت باب فى العبد ينظر الى شعر مولاته (کتاب اللباس))

 یہاں سے واضح ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا لباس گھر میں بقدر ضرورت میسر تھا۔ لباس میں کوئی تکلف نہ تھا۔ جو میسر ہوتا وہی زیب تن کر لیا کرتی تھیں ۔ دوسرا معلوم ہوا محارم کے سامنے مختصر سے لباس کے ساتھ اگر عورت آجائے تو جائز ہے اور اندرونِ خانہ اس طرح کی صورت پیش آئے تو کوئی حرج نہیں۔ یہاں یہ ذکر کر دینا نیز مناسب ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کے مطالبہ پر پہلے آنجنابﷺ نے خادم عطا فرمانے کی نفی کر دی تھی وہ بالکل ابتدائی دورِ اسلام تھا بعد میں کچھ بہتر حالات ہونے پر سیدہ فاطمہؓ کو آنجنابﷺ نے ایک غلام عطا فرما دیا تھا۔ اس بنا پر روایت میں تفاوت و تعارض نہیں۔ اور نہ ہی ان دونوں واقعات میں کوئی اشکال ہے۔

غزوۂ اُحد میں خدمات

غزوۂ اُحد اسلام کے مشہور غزوات میں سے ایک ہے۔ کفار کی طرف سے اہلِ اسلام پر ایک زبردست حملہ تھا۔ جس میں مسلمان مجاہدین نے بڑے مجاہدانہ کارنامے سرانجام دیئے اور اس کے سخت ترین مراحل میں مسلمان خواتین نے بھی بڑی خدمات سرانجام دیں، چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور اِم سلیطؓ و دیگر خواتینِ اسلام نے مجاہدین کو مدد پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس غزوۂ میں جب نبی اقدسﷺ کے دندان مبارک کو زخم پہنچے تو سیدنا علیؓ پانی لائے اور سیدہ فاطمہؓ آنجنابﷺ کے زخموں کو صاف کرنے لگیں ۔ جب خون نہیں رکا تو سیدہ فاطمہؓ نے ایک چٹائی کے ٹکڑے کو جلا کر اس کی راکھ زخم پر ڈال دی تو خون رک گیا الخ

كانت فاطمة بنتِ رسول الله صلى الله عليه وسلم تغسله وعلى يسكب الماء بالمجن - فلما رأت فاطمة ان الماء لا يزيد الدم الاكثرة - اخذت قطعة من حصير فاحرقتها والصفتها فاستمسك الدم الخ

(بخاری شریف صفحہ 584 جلد ثانی کتاب المغازی تحت متعلقات غزوة احد)

میت والوں کی تعزیت کرنا

صفحہ 4 از 12