سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 3 از 12

 یہاں سے ان حضرات کی خانگی معیشت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں کسی قسم سے تکلفات اور زیب و زینت کی مکلف چیزیں نظر نہیں آتیں گویا اُمت کے لیے یہ سادہ اور مختصر سامان سبق آموزی کے لئے ایک نمونہ ہے۔ اور اس بے سرو سامانی کے احوال میں ان حضرات کا گزر بسر کرنا عملاً بتلا رہا ہے کہ مسلمان کے لئے اصل چیز فکر آخرت ہے اور یہ زندگی عارضی ہے اس کے لئے کسی بڑی کدوکاوش کی ضرورت نہیں۔

انتقاد نکاح اور زوجین کی عمر

سیدہ فاطمہؓ کی تزویج اور شادی کے سلسلہ میں جب ابتدائی مراحل طے ہو چکے اور مکان اور جہیز وغیرہ کی تیاری ہو چکی تو آنجنابﷺ نے بامر خداوندی مجلس نکاح قائم کر کے سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کر دیا۔ اور عام روایات کے اعتبار سے مہر چار سو مثقال مقرر کیا گیا۔ فاضل زرقانی وغیرہم کے بیان کے موافق مجلسِ نکاح میں اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (سیدنا ابوبکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ و عثمان غنیؓ وغیرہم) مدعو تھے اور یہ حضرات اس واقعہ کے گواہ تھے۔ نکاح کی یہ تقریب بالکل سادہ تھی اس میں کسی قسم کے تکلفات نہ برتے گئے اور نہ زمانے کی کوئی رسومات ادا کی گئیں۔

نکاح کے بعد علماء کرامؒ فرماتے ہیں کہ آنجنابﷺ نے اپنی دختر کو بی بی اُمِ ایمنؓ کے ساتھ سیدنا علیؓ کے خانہ مبارک میں روانہ فرمایا اور اُمِ ایمن رضی اللہ عنہا کی معیت میں سیدہ فاطمہؓ پیدل چل کر تشریف لے گئیں اور کوئی ڈولی اور سواری وغیرہ تجویز نہ کی گئی تھی۔ تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ جنگِ بدر کے بعد رمضان شریف سن2ہجری میں سیدنا علیؓ کا تزوج ہوا اور اس کے چند ماہ بعد یعنی ذوالحجہ سن 2ہجری میں رخصتی عمل میں آ گئی۔ اس وقت سیدہ فاطمہؓ کی عمر بعض سیرت نگاروں کے مطابق پندرہ سال اور پانچ ماہ تھی اور بعض کے نزدیک اٹھارہ سال تھی۔ اس مقام میں کئی دیگر اقوال بھی منقول ہیں۔ اور سیدنا علیؓ کی عمر مشہور قول کے مطابق اس وقت اکیس برس کی تھی۔ 

واللہ اعلم بالصواب۔

(تفسير القرطبی صفحہ 241 جلد 14 تحت آيت قل لا زواجك وبناتك ..... الخ)

(الاكمال فى اسماء الرجال لصاحب المشكوة تحت ذكر فاطمة الزهراءؓ)

(تہذيب الاسماء واللغات للنووى تحت ذكر فاطمة الزهراءؓ)

(شرح مواهب الدنيه للزرقاني صفحہ 203 جلد 2 تحت ذكر تزويج على بفاطمہؓ)

 انتباه

سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی شادی اور بیاہ کے سلسلہ میں ہم نے صرف تین چار عنوان مختصراً ذکر کیئے ہیں اور بقدر ضرورت احوال درج کیئے ہیں۔ مصنفین حضرات نے اس موقعہ پر بے شمار طول طوال اور رطب دیا بس روایات تحریر کی ہیں ان کی صحت واقعہ اور عدم صحت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ ان بے اصل چیزوں اور بے سروپا روایات پر نظر کرتے ہوئے علماء نے اس مقام میں ان سے پہلو تہی کا اشارہ کیا ہے:

"وقد وردت احادیث موضوعة في تزويج علىٍؓ بفاطمةؓ لم تذكر رغبة عنها"

(البداية والنہاية صفحہ 332 جلد 6 لابن كثير من تحت واقعات سن ہذا)

ابنِ کثیرؒ کہتے ہیں یعنی سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی تزویج میں بہت سی روایات جعلی وارد ہوئی ہیں ہم ان سے روگردانی کرتے ہوئے ان کو ذکر نہیں کرتے۔

"فراش شبینہ"

جب ان دونوں(سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ) کی تزویج ہو چکی تو اس کے بعد ان کی ازدواجی زندگی اور خانگی معیشت کا دور شروع ہوا۔ اس میں کئی واقعات اس نوعیت کے دستیاب ہیں کہ ان کے پاس بچھانے کے لئے کوئی عمدہ قسم کا بستر نہیں تھا اور زوجین کے لئے سونے کے الگ الگ کپڑے موجود نہ تھے چنانچہ سیدنا علیؓ سے مندرجہ ذیل روایت مذکور ہے۔

عن مجالد بن شعبة قال انا من سمع عليا رضى الله عنه يقول على المنبر نكحت ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وما لنا فراش ننام عليه الاجلدة شاة ننام عليه باليل و تعلف عليه الناضح بالنهار

(كتاب السنن السعيد بن منصور قسم صفحہ 154 جلد 3 قسم اوّل مطبوعہ مجلس علمی تحت ما جاء في الصداق)

(الطبقات ابنِ سعد صفحہ 13 جلد 8 تحت ذكر فاطمهؓ)

 یعنی ایک دفعہ سیدنا علیؓ نے (اپنی دیرینہ سرگذشت)بیان کرتے فرمایا کہ رسول خداﷺ کی صاحبزادی کے ساتھ میرا نکاح ہوا تو بعض دفعہ یہ حالت تھی کہ ہمارے پاس رات کو سونے کے لئے ایک بکری کی کھال تھی رات کو یہ ہماری خوابگاہ ہوتی اور دن کو اسی پر ہم اپنے شتر کو چارہ ڈالتے تھے۔

خانگی اُمور میں تقسیم کار

ازدواجی زندگی میں خانگی کام کاج ایک ضروری امر ہے جب تک سلیقہ سے سرانجام نہ پائے تب تک گھریلوں نظام کار درست نہیں رہتا۔ اس سلسلہ میں جناب نبیﷺ نے سیدنا علیؓ کے گھر کے بارے میں خانگی معاملہ اس طرح متعین فرما دیا تھا کہ

فاطمہؓ اندرونِ خانک سارا کام کاج سرانجام دیں گی اور علی المرتضیٰؓ بیرونِ خانہ کے فرائض بجا لائیں گے۔

قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنته فاطمة بخدمة البيت وقضٰى على علىٍ (رضي الله عنه) بما كان خارجاً من البيت من خدمة۔

(حلية الاولياء للحافظ ابي نعیم اصفہانی صفحہ 104 جلد 6 تحت صفحہ 340 (ضمرة بن حبيب)

اور ایک دوسری روایت میں جو سیدنا علیؓ سے منقول ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰ اپنی والدہ فاطمہؓ بنتِ اسد کی خدمت میں ذکر کرتے ہیں کہ فاطمہؓ کے لئے بیرونِ خانہ کام کاج کی ضروریات میں پوری کروں گا۔ اور گھر کے اندر کے کام میں فاطمہؓ تمہارے لئے کفایت کریں گی ۔ آٹا پیسنا۔ آٹا گوندھنا۔ اور روٹی پکانا وغیرہ ۔ 

(سيرا علام النبلاء للذہبي صفحہ 91 جلد ثانی تحت فاطمهؓ بنت رسول اللہﷺ)

(الاصابه ابنِ حجر صفحہ 398،399 جلد رابع تحت فاطمه بنتِ اسد ( والدہ محترمہ سیدنا علیؓ)

عنوان بالا کے تحت سیدنا علیؓ اور سیدنا فاطمہؓ کے حق میں شیعہ علماء نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے کہ اندرونِ خانہ کام کاج سیدہ فاطمہؓ سر انجام دیتی تھی اور باہر کے کام سیدنا علیؓ سرانجام دیتے تھے۔ 

(كتاب الامالي للشيخ الطوسى صفحہ 264 جلد ثانی تحت مجلس يوم الجمعة الثالث والعشرين من رحب)

خانگی امور کے لئے ایک خادم کا مطالبہ

صفحہ 3 از 12