سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 2 از 12

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بھی اپنے اہل و عیال کو منگوانے کے لئے عبد اللہ بن اریقط لیثیٰؓ کو سواریاں دے کر زید ابنِ حارثہؓ اور ابو رافعؓ کے ساتھ روانہ کیا اور اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف لکھا کہ وہ اپنی والدہ اُمِ رومانؓ) اور اپنی بہنوں (سیدہ عائشہؓ اور اسماءؓ) کو ساتھ لائیں۔ پس جب یہ حضرات مدینہ شریف سے روانہ ہو کر "قدید" کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے ضرورت کے مطابق سواریاں خریدیں اور پھر مکہ شریف میں داخل ہوئے اور حضرت طلحہؓ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ وہ بھی ہجرتِ مدینہ کے لئے آمادہ تھے۔ پس یہ تمام احباب (حضرت زیدؓ ابو رافعؓ٫ سیدہ فاطمہؓ و اُمِ كُلثومؓ، اُم المؤمنین حضرت سودهؓ، اسامہ بن زیدؓ اور امِ ایمنؓ) مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اہل و عیال جو اوپر مذکور ہوئے وہ بھی ہمراہ تھے اور تمام قافلہ ایک سفر میں ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچا۔

علامہ ذہبیؒ نے سیر اعلام البنلا جلد دوم میں یہ واقعہ بعبارت ذیل درج کیا ہے:

" عن عائشة قالت لما هاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المدينة خلّفنا وخلف بناتهٗ فلما قدم المدينة بعث الينا زيد بن حارثه و ابا رافع واعطاهم بعيرين وخمسائة دراهم اتحبها من ابي بكر ليشتريان بها ما تحتاج اليه من الظهر- وبعث ابو بكر معهما عبد الله بن اريقط الليغی ببعيرين اوثلاثة وكتب الى ابنه عبد الله يا مره أن يحمل أهله  ام رومان و انا واختى اسماء نخرجوا فلما انتهوا إلى قدير اشترى بتلك الدراھم ثلاثة ابعدةٍ ثم دخلوا مكة وصادفوا طلحة يريد الهجرة باك أبي بكرؓ فخرجنا جميعًا وخرج زيد و ابو رافع بفاطمة وأم كلثوم و سودة وامر ايمن واسامة فاصطجنا جميعًا"

(سير اعلام النبلاء للذهبی جلد 2 صفحہ 109 تحت عائشة أم المؤمنينؓ)

(البداية لابن كثير جلد 3 صفحہ 202 فصل في دخوله عليه السلام المدينة وابن استقر منزله ...... الخ)

(دلائل النبوة للبيہقي صفحہ 430،431 جلد ثاني تحت باب ما جاء فی تزويج فاطمة بنتِ رسول اللّٰہﷺ)

(البداية صفحہ 346 جلد 3 تحت فصل في دخول على ابن ابي طالب على زوجته فاطمةؓ)

(البداية صفحہ 332، جلد 6 ذكر من توفي في هذهٖ السنة سن11ہجری)

(السنن للنسائى صفحہ 77 جلد 2 باب جهاز الرجل ابنته)

تنبیہ

باقی صاحزادیوں سیدہ زینبؓ اور سیدہ رقیہؓ کی ہجرت کے احوال سابقاً ان کے تذکروں میں درج ہو چکے ہیں۔ چاروں صاحبزادیاں شرفِ ہجرت سے مشرف تھیں اور مہاجرین کی فضیلتوں سے بہرہ یاب تھیں۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تزویج

مدینہ طیبہ میں اقامت پذیر ہونے کے بعد سن2ہجری میں نبی اقدسﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کی تزویج کی طرف توجہ فرمائی۔ بعض روایات کی رو سے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے متعلق "خطبہ" عرض کیا بطور منگنی کے درخواست پیش کی تو آنجنابﷺ نے فرمایا آپ کے پاس مہر کے لئے کوئی چیز ہے؟ تو سیدنا علیؓ نے عرض کیا اور تو کوئی چیز نہیں مگر ایک سواری اور زرہ ہے اس روایت میں ہے سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کو چار سو درہم میں بیچ ڈالا۔ اس موقعہ پر آنجنابﷺ نے فرمایا کہ اس میں سے سیدہ فاطمہؓ کے لئے خوشبو بھی خریدی جائے کیونکہ فاطمہؓ بھی خواتین میں سے ہیں اور ان کے لئے خوشبو درکار ہوتی ہے۔ 

عن جعفر بن سعد عن أبيه ان عليا قال لما خطبت فاطمة۔ قال النبي صلى الله عليه وسلم هل لك من مهر، قلت عندى راحلتى و درعي۔ فبعتهما بأربعمائة وقال أكثروا من الطيب لفاطمة فأنها امرأة من النساء

(التاريخ الكبير لامام بخاريؒ صفحہ 61 جلد 2 القسم الثاني تحت باب العين)

 روایت بالا کے قریب سنن سعید بن منصور میں بھی اس مضمون کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

(كتاب السنن السعيد بن منصور قسم اوّل صفحہ 154 جلد ثالث تحت باب ما جاء في الصداق طبع مجلس علمی)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی تیاری

نبی اقدسﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کے مکان کے لئے سیدہ عائشہؓ اُم المؤمنینؓ کو فرمایا کہ فاطمہؓ کی رخصتی کے لئے مکان کی تیاری کی جائے اس موقعہ پر اس کام میں اُمِ سلمہؓ بھی ان کے ساتھ معاون تھیں۔

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے فرمان کے مطابق ہم نے اس کام کی تیاری شروع کی اور وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی۔ اس مکان کو لیپا دھو کر پونچا اور صاف کیا۔ پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیئے اور خرما اور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لئے شیریں پانی مہیا کیا پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڑ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لگایا جا سکے۔ جب مذکورہ بالا انتظامات مکمل ہو چکے تو سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں۔

 فما رأينا عرساً احسن من عرس فاطمة 

یعنی فاطمہؓ کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی"۔

(السنن ابنِ ماجہ صفحہ 139 كتاب النكاح باب الوليمة مطبوعه مطبع نظامی - دهلی)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز

سیدہ فاطمہؓ کی شادی کے سلسلہ میں نبی اقدسﷺ کی طرف سے جو تیاری کے لیے سامان دیئے گئے ان میں سے جہیز فاطمہؓ کا ایک مستقل عنوان کتابوں میں پایا جاتا ہے چنانچہ اس مقام میں میں سیدہ علیؓ سے جو روایت مروی ہے اس کو ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔

عن على رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما زوجه فاطمة بعث معهما بخميلة ووسادة من ادم حشوها لیف ور حين وسقاءً و جرتين

(مسند احمد صفحہ 104 جلد اول تحت مسندات علی کرم اللہ وجہہ)

(الفتح الربانی صفحہ 44،45 جلد - 21 ( ترتیب مسند احمد )

(مسند ابی یعلٰی الموصلی صفحہ 202 جلد اول تحت مسندات علوی طبع جدید ۔ بیروت)

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں جب میرے ساتھ سیدہ فاطمہؓ کی تزویج کر دی تو آنجنابﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کے جہیز میں درج ذیل چیزیں ارسال فرمائیں ۔

 ایک بڑی چادر ۔ ایک چمڑے کا تکیہ جو کھجور کی چھال یا اذخر (خوشبودار گھاس) سے بھرا ہوا تھا۔ ایک چکی (آٹا پیسنے کے لئے)۔ ایک مشکیزہ اور دو گھڑے تھے ۔ نبی کریمﷺ کی پیاری صاحبزادی کے لئے یہ مختصر سا جہیز عنائت فرمایا گیا۔ ان کی ازدواجی زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کل سامانِ معیشت یہی کچھ تھا۔

صفحہ 2 از 12