سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 12 از 12
  1. سیدہ فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یقیناً ہو گئی تھی۔ خصوصاً صدیقِ اکبرؓ اپنی زوجہ محترمہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے ذریعے سیدہ فاطمہؓ کے ان تمام احوال سے یقیناً با خبر تھے۔
  2. نمازِ جنازہ کے لئے حضرات شیخین صدیق اکبر و عمر فاروق رضی اللہ عنہم بمع دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تشریف لائے تھے اور اس میں شریک وہ شامل ہوئے۔
  3.  سیدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ چار تکبیر کے ساتھ ابوبکر صدیقؓ نے پڑھائی تھی۔
  4. سیدہ فاطمہؓ کی نعش مبارک کو رات کو ہی دفن کر دیا گیا یہ ازراهِ تستّر اور پردہ داری کے طور پر تھا۔ اور اس میں شرعی مسئلہ "تعمیلِ دفن" بھی ملحوظ خاطر تھا۔
  5. حضرات شیخین رضی اللہ عنہما اور سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ علیؓ کے درمیان کسی قسم کی باہمی مخاصمت اور ناچاکی نہیں تھی ۔ مندرجہ بالا واقعات اس کی بیّن دلیل ہیں اور واضح شواہد ہیں۔

اور بعض روایات میں جو چیزیں مذکور ہیں کہ:

 سیدہ فاطمہؓ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں اس وجہ سے ان کو سیدہ فاطمہؓ کی بیماری پھر وفات اور جنازہ اور دفن کی اطلاع تک نہیں کی گئی تھی۔ 

یہ چیزیں واقع میں درست نہیں ہیں بلکہ یہ تمام چیزیں ظنِ راوی ہیں اور راویوں کا اپنا گمان ہیں جو انہوں نے صحیح واقعات میں ملا کر نشر کر دیا ہے اور اصل واقعات میں مخلوط شدہ چیزوں کو پھیلا دیا ہے۔

 اولادِ سیده فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا

سیدنا علی المرتضیٰؓ کی پہلی زوجہ محترمہ سیدہ فاطمہؓ تھیں۔ سیدہ فاطمہؓ کی حیات تک سیدنا علیؓ نے کوئی دوسری شادی نہیں کی۔ یہ محض سرورِ دو عالمﷺ کی صاحبزادیوں کے احترام کی بنا پر تھا۔ اسی طرح آنجنابﷺ کی دیگر صاحبزادیوں کے داماد حضرات یعنی ابو العاصؓ و عثمانؓ نے بھی یہی احترام ملحوظ رکھا تھا جیسا کہ سابقہ ذکر کیا گیا۔ علماء نے سیدہ فاطمہؓ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی اولاد مندرجہ ذیل ذکر کی ہے :۔

"ایک صاحبزادہ سیدنا حسنؓ دوسرا صاحبزاده سیدنا حسینؓ اور تیسرا صاحبزادہ سیدنا حضرت محسنؓ تھے اور محسن صغیر سنی میں ہی فوت ہو گئے۔ "نسبِ قریش" میں لکھا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی ولادت نصف رمضان المبارک سن 3 ہجری میں اور سیدنا حسینؓ کی ولادت پانچ شعبان المعظم 4 ہجری میں ہوئی تھی ۔ 

(نسب قریش صفحہ 24،25 تحت اولاد فاطمہؓ)

سیدہ فاطمہؓ سے دو صاحبزادیاں ہوئی ہیں۔ ایک سیدہ زینب بنتِ علی اور دوسری امِ کُلثوم بنت علیؓ۔

بعض علماء نے ایک تیسری صاحبزادی رقیہؓ کا بھی ذکر کیا ہے مگر مشہور روایات کے اعتبار سے آپؓ کی صرف دو صاحبزادیاں ہی تھیں۔ اور سیدہ فاطمہؓ نے اپنی صاحبزادیوں کے نام اپنی خواہران کے اسماء کے موافق منتخب فرمائے تا کہ اپنی خواہران کی یاد اپنے گھر میں تازہ رہے "

 سیدہ امِ کُلثوم بنتِ علیؓ کا نکاح سیدنا حضرت عمرؓ بن خطاب سے 17ہجری میں ہوا تھا اور سیدہ زینب بنتِ علیؓ کا نکاح عبد اللہ بن جعفر طیارؓ سے ہوا تھا 

(نسبِ قریش صفحہ 25 تحت اولاد فاطمہؓ)


صفحہ 12 از 12