سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 11 از 12

سیدہ فاطمہؓ کے بعض وصایا جو غسل واغتسال کے متعلق پائے جاتے ہیں ان میں بعض چیزیں بالکل قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔

چنانچہ علماء نے اس موقعہ پر فرمایا ہے کہ :

وما روى من انها اغتسلت قبل وفاتها و اوصت ان لا تغسل بعد ذالك فضعيف لا يعول عليه- والله اعلم

(البداية والنہا ية صفحہ 333 جلد 6 تحت ذكر من توفی هذه السنة (سن 11ہجری)

مطلب یہ ہے کہ بعض روایات میں جو آیا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے اپنے انتقال سے قبل غسل کر لیا تھا اور وصیت فرمائی تھی کہ مجھے اس کے بعد غسل نہ دیا جائے یہ ضعیف ہے اس قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا (اس کی وجہ ضعف ابنِ اسحاق کا تفرد ہے) 

غسل کے متعلق وہی چیز صحیح ہیں جو اوپر ذکر کر دی گئی ہیں یعنی اسماء رضی اللہ عنہا اور دیگر خواتین نے مل کر حسبِ قاعدہ شرعی بعد از وفات غسل سر انجام دیا تھا۔ اس لئے کہ میت کے لئے اسلام کا قاعدہ شرعی یہی ہے۔

 سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ اور شیخین رضی اللہ عنہما کی شمولیت

غسل اور تجہیز و تکفین کے مراحل کے بعد سیدہ فاطمہؓ کے جنازہ کا مرحلہ پیش آیا تو آنمحترمہؓ کے جنازہ پر خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر ؓ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے، تشریف لائے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو صدیقِ اکبرؓ نے فرمایا کہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں۔ جواب میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ذکر کیا کہ آنجناب خلیفۂ رسول اللہﷺ ہیں آپؓ کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیے پیش قدمی نہیں کر سکتا۔ نمازِ جنازہ پڑھانا آپؓ ہی کا حق ہے آپؓ تشریف لائیں اور جنازہ پڑھائیں اس کے بعد سیدنا صدیقِ اکبرؓ آگے تشریف لائے اور سیدہ فاطمہؓ کا چار تکبیر کے ساتھ جنازہ پڑھایا۔ باقی تمام حضرات نے ان کی اقتداء میں نمازِ جنازہ ادا کی ۔

یہ چیز متعدد مصنفین نے اپنی اپنی تصانیف میں باحوالہ ذکر کی ہیں چنانچہ چند ایک عبارتیں اہلِ علم کی تسلی خاطر کے لیے بعینہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں:-

عن حماد عن ابراهيم قال صلى ابوبكر الصديق على فاطمة بنتِ رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر عليها أربعاً

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 19 جلد 8 تحت تذکرہ فاطمہؓ طبع لیڈن)

 یعنی ابراہیم (النخعی) فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ نے فاطمہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کا جنازہ پڑھایا اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔

عن جعفر ابن محمد عن ابيه قال ماتت فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء ابو بكر وعمر ليصلوا فقال ابوبكر لعلی ابنِ ابی طالب تقدم فقال ما كنت لا تقدم وانت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فتقدم ابو بكر وصلى عليها الله

(كنز العمال صفحہ 318 جلد 6 حظ في رواة مالك طبع اول حیدر آباد دکن تحت فضل الصديقؓ المسندات علىؓ باب فضائل الصحابةؓ)

 یعنی سیدنا جعفر صادقؒ اپنے والد سیدنا محمد باقرؒ سے ذکر فرماتے ہیں کہ محمد باقرؒ نے کہ نبی کریمﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ فوت ہوئیں تو ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں تشریف لائے تاکہ جنازہ کی نماز پڑھیں تو ابوبکرؓ نے علی المرتضیٰؓ کو فرمایا کہ آپ آگے ہو کر نماز پڑھائیے تو سیدنا علیؓ نے کہا کہ آپ خلیفۂ رسول اللہﷺ کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں ہوتا پس ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے تشریف لائے اور سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ پڑھایا۔

 اس مقام میں ایک تیسری روایت بھی درج کرنا مناسب ہے جو محب الطبری نے اپنی کتاب "ریاض النضرة “ میں ذکر کی ہے:

عن مالك عن جعفر بن محمد عن ابيه عن جده على بن حسين قال ماتت فاطمة بين المغرب والعشاء محضرها أبو بكر وعمر وعثمان والزبير وعبد الرحمان بن عوف فلما وضعت ليصلى عليها قال على تقدم يا ابا بكر قال و انت شاهد يا ابا الحسن ؛ قال نعم ! تقدم فوالله لا يصلى -عليها غيرك فيصلى عليها أبو بكر رضى الله عنهم اجمعين و دفنت ليلا خرجه البصرى وخرجه ابن السمان في الموافقة 

(رياض النضرة المحب الطبرى صفحہ 156 جلد اول تحت باب وفات الفاطمةؓ)

یعنی جعفر صادقؒ اپنے والد محمد باقرؒ سے اور وہ اپنے والد زین العابدینؒ سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کے درمیان فاطمہؓ کی وفات ہوئی ( ان کی وفات پر ) سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، زبیرؓ اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ تشریف لائے۔ جب نمازِ جنازہ کے لئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کہا کہ نماز پڑھانے کے لئے آگے تشریف لائیے تو صدیقِ اکبرؓ نے جواب دیا کہ اے ابوالحسنؓ کیا آپ کی موجودگی میں؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ آپؓ آگے تشریف لائیے اللہ کی قسم آپؓ کے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہؓ پر جنازہ نہیں پڑھائے گا ۔ پس ابوبکر صدیقؓ نے فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ اور رات کو ہی سیدہ فاطمہؓ کو دفن کر دیا گیا ۔ 

طبقات ابنِ سعد میں ہے:

عن مجالد عن الشعبى قال صلى عليها ابو بكر رضى الله عنه وعنها

یعنی شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ پر سیدنا ابوبکرؓ نے نمازِ جنازہ پڑھی۔

(طبقات ابن سعد صفحہ 19 جلد 8 تحت تذکره فاطمهؓ - طبع قدیم لیڈن)

دفن سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا

صلوٰۃِ جنازہ کے بعد سیدہ فاطمہؓ کو عام روایات کے مطابق رات کو ہی جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔

اور دفن کے لئے قبر میں سیدنا علیؓ سیدنا عباسؓ عم نبوی اور فضل بن عباسؓ اُترے دفن و قبر کے متعلق متعدد روایات مختلف قسم کی پائی جاتی عام مرویات کے پیش نظر ہم نے یہ تحریر کیا ہے۔

(الاصابه صفحہ 389 جلد 4 تذكره فاطمهؓ)

حاصل کلام یہ ہے کہ:

 یہ چند روایات سیدہ فاطمہؓ کے جنازہ کے متعلق ہم نے یہاں ذکر کی ہیں قبل ازیں کتاب "رحماء بينهم" حصہ اول صدیقی میں "سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ کا مسئلہ" کے عنوان کے تحت صفحہ 170 تا صفحہ 176 میں تفصیلاً یہ روایات درج کی گئی ہیں مزید تفصیل کی ضرورت محسوس ہو تو وہاں رجوع فرما لیں۔ یہاں بطور اختصار کے مذکورہ روایات کے چند فوائد تحریر کیئے جاتے ہیں:۔

صفحہ 11 از 12