سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 10 از 12

پہلے بھی یہ بات ذکر ہو چکی ہے کہ سردارِ دو عالمﷺ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہؓ نہایت مغموم رہتی تھیں اور یہ ایام انہوں نے صبر و سکون کے ساتھ پورے کیے۔ علماء لکھتے ہیں ان کی عمر مبارک اٹھائیس یا انتیس برس کی تھی آپؓ کی اولاد شریف بیٹے اور بیٹیاں صغیر السن تھے آپؓ کی تیمارداری کے لیے اسماء بنتِ عمیسؓ جو خلیفۂ اول صدیقِ اکبرؓ کی زوجہ محترمہ تھیں تشریف لاتیں اور خدمات سرانجام دیتی تھیں۔

اسماء بنت عمیسؓ وہ خوش بخت خاتون ہیں جو قبل ازیں سیدنا جعفر طیارؓ کے نکاح میں رہیں ان سے ان کی اولاد بھی ہوئی تھی مگر جب جعفر طیارؓ غزوۂ موتہ میں شہید ہو گئے تو ان کے بعد ان کا نکاح سیدنا صدیق اکبرؓ سے ہوا۔ وصالِ نبویﷺ کے بعد سیدہ فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو ان کی تیمارداری میں سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کا خصوصی حصہ تھا۔ اسماءؓ اس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفۂ اول کے نکاح میں تھیں آپؓ کی وفات کے بعد سیدہ اسماءؓ نے سیدنا علیؓ سے نکاح کیا۔

"شیعہ کی طرف سے تائید"

ہمارے علماء نے سیدہ فاطمہؓ کی بیماری اور اسماء بنتِ عمیسؓ کی تیمار داری کا تذکرہ اس مقام میں ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس مسئلہ کو شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں۔ کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی زوجہ محترمہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی آخری ایام میں تیمارداری کی خدمات سرانجام دیں ۔ شیخ طوسی نے اپنی تصنیف، الامالی میں تصریح کر دی ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدہ فاطمہؓ کی تیمار داری کرتے تھے اور وتعينه على ذالك اسماء بنت عميس رحمهما الله على استمرار بذلك الخ

یعنی اسماء بنتِ عمیسؓ سیدہ فاطمہؓ کی تیمار داری کے معاملہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی معاونت اور امداد کرتی تھیں اور یہ کام اسماءؓ نے آخری اوقات تک سر انجام دیا۔

(كتاب الامالي "للشيخ محمد بن حسن الطوسي صفحہ 107 جلد اول تحت الجزاء الرابع)

شیخین کی طرف سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیمار پُرسی

شیعہ کے متقدمین علماء میں سے مشہور و معروف عالم سلیم ابنِ قیس نے اپنی تصنیف میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ مسجد نبویﷺ میں پانچوں نمازیں (با جماعت) ادا فرمایا کرتے تھے (یہ خلافتِ ابوبکر صدیقؓ کا دور ہے) 

ایک روز جب آپؓ نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے سیدنا على المرتضیٰؓ سے کہا کہ نبی کریمﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کا کیا حال ہے؟ اور مزاج کی کیا کیفیت ہے؟ ......... الخ

 وكان يصلى في المسجد الصلوات الخمس فلما صلى قال له ابو بكر وعمر كيف بنتّ رسول الله (صلى الله عليه وسلم إلى أن ثقلت فسألا عنها.

(کتاب سلیم بن قیس صفحہ 224، 225 مطبوعہ حیدریہ(نجف اشرف)

روایت مذکورہ بالا سے واضح ہوا کہ:

  1. سیدنا علی المرتضیٰؓ روز پنجگانہ نمازیں مسجد نبوی میں باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے ساتھ مل کر سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی اقتداء میں ادا فرماتے تھے۔
  2.  سیدہ فاطمہ کی بیماری کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کو علم تھا اس لئے وہ ان کی عیادت اور بیمار پُرسی کیا کرتے تھے۔
  3. حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما اور سیدنا علیؓ کا باہم کلام کرنا۔ حال احوال معلوم کرنا خانگی خیر خیریت دریافت کرنا جاری رہتا تھا اور کسی قسم کا مقاطعہ یا باہمی بائیکاٹ وغیرہ نہ تھا۔

یہ چیز قبل ازیں اپنی کتاب "رحماء بينهم" حصہ اول ہی میں ہم نے ذکر کر دی ہے۔ تفصیلات وہاں ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہیں۔

 سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال

نبی کریمﷺ کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہؓ بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں۔ پھر تین رمضان المبارک 11ہجری میں منگل کی شب ان کا انتقال ہوا۔ اس وقت ان کی عمر مبارک علماء نے اٹھائیس یا انتیس برس ذکر کی ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کے سن وفات اور ان کی عمر کے تعین میں سیرت نگاروں نے متعدد اقوال لکھے ہیں ہم نے یہاں مشہور قول کے مطابق تاریخ انتقال اور مدت عمر درج کی ہے۔

(البداية والنهاية صفحہ 334 جلد 6 تحت حالات سن11ہجری)

(وفاء الوفاء للسمهودی صفحہ 905 جلد 3 تحت عنوان قبر فاطمه بنت رسول اللهﷺ)

 سیدہ فاطمہؓ نبی کریمﷺ کی بلا واسطہ آخری اولاد تھیں جن کا انتقال اب ہوا ۔ ان کے بعد آنجنابﷺ کی کوئی بلا واسطہ اولاد باقی نہ رہی اور سردارِ دو جہاںﷺ کی جو ایک نشانی باقی رہ گئی تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچ گئی۔

سیدہ فاطمہؓ کا انتقال اور ارتحال خصوصاً اس وقت کے اہلِ اسلام کے لئے ایک عظیم صدمہ تھا۔ جو مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے ان کے غم و الم کی انتہا نہ رہی اور ان کی پریشانی حد سے متجاوز ہو گئی۔ تمام اہلِ مدینہ اس صدمہ سے متاثر تھے خصوصاً مدینہ طیبہ میں موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس صدمہ کبریٰ کی وجہ سے نہایت غم گین تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا غم گین ہونا اس وجہ سے بھی نہایت اہم تھا کہ ان کے محبوب کریمﷺ کی بلا واسطہ اولاد کی نسبی نشانی اختتام پذیر ہو گئی تھی۔ اب صرف آپﷺ کے ازواجِ مطہرات و امہات المؤمنینؓ آنجنابﷺ کی نشانی باقی رہ گئے تھے۔ ان حالات میں سب حضرات کی خواہش تھی کہ ہم اپنے نبی اقدسﷺ کی پیاری صاحبزادی کے جنازہ میں شامل ہوں اور اس سعادت عظمیٰ سے بہرہ اندوز ہوں۔ سیدہ فاطمہؓ کا بعد از مغرب اور قبل العشاء انتقال ہونا علماء نے ذکر کیا ہے ۔ اس مختصر وقت میں جو حضرات موجود تھے وہ سب جمع ہوئے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غسل اور اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کی خدمات

سیدہ فاطمہؓ نے قبل از وفات سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی زوجہ محترمہ اسماء بنتِ عمیسؓ کو یہ وصیت کی تھی کہ آپؓ مجھے بعد از وفات غسل دیں اور سیدنا علیؓ ان کے ساتھ معاون ہوں۔

چنانچہ حسبِ وصیت اسماء بنتِ عمیسؓ نے آپؓ کے غسل کا انتظام کیا ان کے ساتھ غسل کی معاونت میں بعض اور بیبیاں بھی شامل تھیں مثلاً آنحضرتﷺ کے غلام ابو رافعؓ کی بیوی سلمیٰؓ اور امِ ایمنؓ وغیرہ۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ اس سارے انتظام کی نگرانی کرنے والے تھے۔

(اسد الغابه صفحہ478 جلد 5 تحت سلمىٰ امراة ابی رافعؓ)

(البداية والنهاية صفحہ 333 جلد 6 تحت حالات 11ہجری)

(حلية الاوليا لا بي نعيم الاصفہانہ صفحہ 43 جلد 2 تحت تذکرہ فاطمہؓ)

صفحہ 10 از 12