سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ - دفاعِ اہلِ…

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 1 از 12

سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا

ماقبل میں نبی اقدسﷺ کی ہرسہ صاحبزادیوں (سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ و سیدہ اُمِ کُلثومؓ) کے احوال اور سوانح بقدر ضرورت ذکر کیئے ہیں۔ اس سے ان طیبات، طاہرات کی عظمت اور منرلت پورے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ اس کے بعد آنجنابﷺ کی چہارم صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کے احوال زندگی ذکر کیئے جاتے ہیں۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کی اولاد کی تفصیلات کے تحت گذشتہ اوراق میں ان کے اجمالی ذکر و اذکار آ گئے تھے۔ لیکن یہاں ان کے مستقل سوانح حسبِ ترتیب درج کرنا مطلوب ہیں اب وہ تحریر کئے جاتے ہیں۔ فضائل و مناقب (جو عند الجمہور صحیح ہوں) وہ بھی ذکر کیئے جائیں گے اور خاص طور پر اخلاق و کردار اور عملی و معاشرتی زندگی کے پہلو زیادہ واضح کرنے کا ارادہ ہے۔ (بعونہ تعالیٰ)

ولادت با سعادت

سیرت نگاروں کے نزدیک سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کی سن ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں قریشِ مکہ کعبہ شریف کی بنا رہے تھے اس زمانہ میں سیدہ فاطمہؓ کی ولادت با سعادت سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کے بطن مبارک سے ہوئی اور اس وقت آنجنابﷺ کی عمر مبارک پینتیس سال کو پہنچ چکی تھی اور یہ واقعۂ نبوت سے قریباً پانچ برس پہلے کا ہے۔

(طبقات ابن سعد صفحہ، 11 جلد، 8 تحت ذکر فاطمہؓ طبع لیڈن)

(الاصابه لابن حجر صفحہ، 265 جلد، 4 تحت ذکر فاطمہؓ)

(تفسير القرطبی صفحہ، 241 جلد، 14 تحت آیت قل لا زواجك وبناتك.... الخ سورۃ الأحزاب)

اور بعض علماء کے نزدیک ان کی ولادت بعثتِ نبویﷺ کے قریب ہوئی اور آنجنابﷺ کی عمر مبارک اس وقت اکتالیس سال تھی۔ اسی طرح مزید اقوال بھی اس مقام میں منقول ہیں۔

(الاصابة في تمييز الصحابه لابن حجر جلد، 4 صفحہ، 365 تحت تذكره فاطمه الزهراؓ)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اسمِ گرامی اور القاب

آنجنابﷺ کی صاحبزادیوں میں مشہور قول کے مطابق سیدہ فاطمہؓ سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ ان کا اسم گرامی "فاطمہ" ہے اور ان القابات میں "زھرا" اور "بتول" مشہور لقب ہیں ۔ یہ چاروں صاحبزادیوں (سیدہ زینب ، رقیہ، اُمِ کُلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہن ، سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کی اولاد شریف ہیں اور باہمی حقیقی بہنیں ہیں ۔

ان کی پرورش اور تربیت خانہ رسول خداﷺ کے مبارک ماحول میں ہوئی۔ اور اپنی والدہ محترمہؓ کی نگرانی میں سن شعور کو پہنچیں اور اپنے والدین شریفین کے نفوس طیبہ سے مستفید ہوتی رہیں ۔

شمائل و خصائل

حدیث شریف کی کتابوں میں حضرت فاطمہؓ کے متعلق ان کی سیرت اور طرزِ طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ:

نا قبلت فاطمة تمشى- ما تخطئى مشيئة الرسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا

یعنی سیدہ فاطمہؓ جس وقت چلتی تھیں تو آپ کی چال ڈھال اپنے والد شریفﷺ کے بالکل مشابہ ہوتی تھی۔

(مسلم شریف جلد ثانی صفحہ، 290 باب فضائل سیدہ فاطمہؓ)

(الاستيعاب صفحہ، 363،364 جلد چہارم تحت تذکره سیدہ فاطمہؓ)

(حلیۃ الاولیا۔ لابی نعیم الاصفہانی صفحہ، 39 جلد ثانی تحت تذکرہ حضرت فاطمہؓ)

ترمذی شریف میں یہی مضمون سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ 

"عن عائشة قالت ما رأيت احدا اشبه سمتًا ودلا و هديا برسول الله صلى الله عليه وسلم"

یعنی نبی کریمﷺ کے ساتھ قیام و قعود، نشست و برخاست کے عادات واطوار میں سیدہ فاطمہؓ سے زیادہ مشابہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

 حاصل یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا طرز و طریق اخلاق شمائل میں نبی کریمﷺ کے زیادہ موافق تھا۔ "الولد سر لابیه" کے صحیح مصداق تھیں۔ اور آپ کی گفتار رفتار اور لب و لہجہ اپنے والد شریف کے بہت مطابق تھا۔

بچپن کا ایک واقعہ

قریشِ مکہ کی اسلام سے عداوت ابتداء سے ہی قائم تھی اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کی تذلیل و تحقیر کے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ذکر کرتے ہیں کہ ایک بار نبی اقدسﷺ کعبہ شریف کے پاس حرم میں نماز پڑھ رہے تھے۔ قریش کے چند اشرار نے شرارت کی، شتر کا اُوجھ لا کر آنجنابﷺ کے اوپر رکھ دیا۔ آنجنابﷺ سربسجود تھے قریش اس حرکت پر آپس میں بڑے مسرور ہوئے۔ کسی نے جا کر سیدہ فاطمہؓ کو اسکی اطلاع دی (آپ کا بچپن تھا، جلدی پہنچ کر آنجناب سے اس اوجھ کو اتارا۔ اور کافروں سے ناراضگی کا اظہار فرمایا جب آنجنابﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو بدعا فرمائی وہ قبول ہوئی۔ اور ان میں سے بیشتر غزوۂ بدر میں مارے گئے۔

وعن عبد الله بن مسعود قال. فانطلق منطلق الى فاطمه وهي جويرية فاقبلت تسعٰى و ثبت النبي صلى الله عليه و سلم ساجدًا حتٰى القته عنه واقبلت عليهم تسبهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلٰوة قال اللّٰهم عليك بقريش- اللهم عليك بقريش به .... الخ

(بخاری شریف جلد، 1 صفحہ، 74 باب المروة تطرح عن المصلى شيئا من الارى)

 ہجرتِ مدینہ طیّبہ

اسلام میں جو مشہور ہجرت ہوئی تھی اس کا تفصیلی واقعہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مفصل موجود ہے۔ نبی اقدسﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سمیت اپنے اہل و عیال سے پہلے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی تھی۔ 

کچھ مدت گزرنے کے بعد آنجنابﷺ نے اپنے اہل و عیال اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اہل و عیال کو مکہ شریف سے بلانے کا انتظام فرمایا۔ اس سے پہلے سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے حالات ہجرت میں اس کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں سیدہ فاطمہؓ کے حالات کے سلسلہ میں ان کی ہجرتِ مدینہ کا واقعہ بقدر ضرورت درج کیا جاتا ہے۔

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی اقدسﷺ نے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی تو ہم کو اور اپنی بیٹیوں سیدہ فاطمہؓ و سیدہ اُمِ کُلثومؓ کو مکہ شریف میں چھوڑ گئے تھے۔

جب آپﷺ مدینہ میں مقیم ہو گئے تو آنجنابﷺ نے ہمارے منگوانے کے لئے انتظام فرمایا۔ چنانچہ زید بن حارثہؓ اور ابو رافعؓ کو اس کام کے لئے متعین فرمایا اور ان کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم عنایت فرمائے تاکہ اس رقم سے مزید سواری خرید سکیں اور دیگر مصارف میں بھی انہیں صرف کر سکیں یہ دراہم آنجنابﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے حاصل کیئے تھے۔

صفحہ 1 از 12