سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 7 از 7

8: سیدہ رقیہؓ کے بغیر باقی دونوں صاحبزادیوں (سیدہ زینبؓ و سیدہ اُمِ کُلثومؓ) کی وفات کے موقع پر آنجنابﷺ کا موجود ہونا اور رنج و الم کے واقعات میں شرکت کرنا اور سیدہ رقیہؓ کی قبر پر تشریف لے جانا۔

9: ان پیاری صاحبزادیوں کے غسل و کفن کے انتظامات خود مکمل کرانا اور بعض دفعہ اپنی چادر مبارک ان کے کفن میں شامل کرنا ۔

10: ان کی نمازِ جنازہ خود پڑھانا اور ان کے حق میں مغفرت کی دعائیں فرمانا۔ 

11: اس کے بعد اپنی نگرانی میں ان کے دفن کے انتظامات کرنا اور قبر میں اتر کہ خصوصی دعائیں فرمانا ۔

12: سیدہ فاطمہؓ کا اپنی پیاری بہنوں کے ان اندوہناک مواقع میں غمگساری کے طور پر شریک و شامل ہونا وغیرہ وغیرہ۔

مذکورہ بالا امور اہلِ علم اور دیندار و منصف مزاج لوگوں کے نزدیک خیر و برکت کے شمار ہوتے ہیں اور فضیلت اور عظمت کے واقعات سمجھے جاتے ہیں۔

 ان تمام احوال سے صرفِ نظر کر کے بعض لوگوں کا یہ کہہ دینا کہ ان محترم بیبیوں کے حق میں کوئی فضیلت کی چیز کتابوں میں دستیاب نہیں ہوتی اور یہ نبیﷺ کی زواجی بیٹیاں تھیں یہ نبیﷺ کی روایتی بیٹیاں تھیں ۔ نیز یہ کہنا کہ آنجنابﷺ کے ان بیٹیوں سے انس و محبت کے فطری تعلقات کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ یہ امر واقع کے بالکل برعکس ہے اور سیرتِ نبویﷺ کے واقعات کے من وعن بر خلاف ہے۔ اسلامی تاریخ کے بیانات کے ساتھ تضاد ہے۔

اور آنجنابﷺ کی اولاد شریف کے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے اور آنجنابﷺ کی مقدس نسل کے ساتھ خاص قلبی عداوت ہے اور سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ بظاہر دوستی کی شکل میں دشمنی ہے کہ ان کی حقیقی بہنوں کے نسب مبارک کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان بیبیوں کے فضائل و مکارم کی نفی کر کے خاندان نبویﷺ کے ساتھ ستم روا رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اہلِ اسلام اور اہلِ ایمان کے قلوب مجروح ہوتے ہیں ۔ (فیا اسفاہ)


صفحہ 7 از 7