سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 6 از 7

جب سیدہ اُمِ کلثومؓ کی نمازِ جنازہ ہو چکی تو اس کے بعد آپؓ کو دفن کرنے کے لئے جنت البقیع میں لایا گیا اور سردارِ دوعالمﷺ خود تشریف لائے اور جب قبر تیار ہو چکی تو اُمِ کُلثومؓ کو دفن کرنے کے لئے ابو طلحہ انصاریؓ قبر میں اترے اور بعض روایات میں ہے کہ سیدنا علیؓ اور الفضل بن عباسؓ اور اسامہ بن زیدؓ بھی ان کے ساتھ قبر میں اترے اور دفن کرنے میں معاونت کی۔

آنحضرتﷺ کا غم و اندوہ

خادمِ نبوی انسؓ ذکر کرتے ہیں کہ آنجنابﷺ کی صاحبزادی کے دفن کے موقع پر ہم حاضر تھے اور سرکار دو عالمﷺ قبر پر تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آنجنابﷺ کے آنسو مبارک (فرطِ غم کی وجہ سے) جاری تھے ۔

 " عن انس رضی الله قال شهدنا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تدفن و رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس على القبر فرایت عینیه تدمعان "

(مشکوة شریف صفحہ 149 تحت باب دفن الميت الفصل الثالث)

(شرح السنة للبغوى صفحہ 394 جلد5 باب نزول الرجل في قبر المرأة )

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 26 جلد8 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

(تفسير القرطبي 242٫243 جلد رابع عشر تحت أية قل لازواجک(سورة الأحزاب)

مختصر یہ ہے کہ صاحبزادی اُمِ کُلثومؓ کے انتقال اور غسل و کفن و جنازه و دفن کے تمام مراحل میں سید دو عالمﷺ بذاتِ خود موجود تھے اور شریک حال اور نگران کار تھے اور یہ تمام امور جنابﷺ کے ارشادات کے تحت سرانجام پائے اُمِ کُلثومؓ کے حق میں یہ بہت بڑی عظمت کی چیز ہے ۔

رضی اللہ عنہا و عن اخواتها وعن امهاتها

اب اس کے بعد "ازالہ شبہات" تحریر کیا جاتا ہے جیسا کہ سابقہ عنوان سوانح کے آخر میں درج کیا جا رہا ہے۔

ازالہ شبہات

بعض لوگوں کی طرف سے یہ شبہ ذکر کیا جاتا ہے کہ سیدہ اُمِ كُلثومؓ، ام المؤمنین اُمِ سلمہؓ کی لڑکی تھیں اور ان کے سابق زوج ابوسلمہ کی اولاد میں سے تھیں اور نبی کریمﷺ کے گھر میں پرورش پانے کی بناء پر ان کو آنحضرتﷺ کی صاحبزادی کہا گیا ہے۔ یعنی امِ کُلثومؓ نبی اقدسﷺ کی لے پالک بیٹی ہیں جسے عربی زبان میں ربیبہ کہتے ہیں ۔

جواباً گذارش ہے کہ:

 امِ سلمہؓ کی اولاد جو ابو سلمہ سے تھی اس میں بیشتر علماء نے تو اُمِ کُلثوم نامی کوئی لڑکی ذکر ہی نہیں کی۔ ابوسلمہ کی اولاد میں دو لڑکے سلمہ اور عمر اور دو لڑکیاں زینب اور درہ ذکر کی گئی ہیں البتہ بعض علماء نے ابو سلمہ کی ایک لڑکی "اُمِ کُلثوم" بھی ذکر کی ہے ۔ لیکن یہ قول شاذ ہے اگر اسے درست بھی تسلیم کر لیا جائے کہ ام سلمہؓ کی لڑکی اُمِ کُلثومؓ بھی تھی تو اس سے لازم نہیں آتا کہ یہی اُمِ کُلثوم سیدنا عثمانؓ کی زوجہ بنیں سیدہ اُمِ سلمہؓ کی لڑکی اگر ہے بھی تو وہ اُمِ کُلثوم دوسری ہے اس کی ماں کا نام اُمِ سلمہ ہے اور اس اُمِ کُلثوم کی والدہ کا نام سیدہ خدیجہؓ ہے۔ نبی اقدسﷺ کی صاحبزادی اُمِ کُلثومؓ یہ ایک دوسری شخصیت ہے سیدہ اُمِ سلمہؓ کی بیٹی نہیں ۔ جیسا کہ ہم نے سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کی اولاد کی تفصیلات کے تحت قبل ازیں مفصل ذکر کر دیا ہے۔ 

سو اس اعتراض کی بنیاد صرف تشابہ لفظی پر ہے کہ دونوں لڑکیوں کا نام اُمِ کُلثوم ہے محض مشابہت اسمی کی وجہ سے اعتراض پیدا کر لیا گیا ہے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اتنی اہم تاریخی بات کا فیصلہ کرنے کے لئے محض اس قسم کے احتمالات اور لفظی شبہات کوئی وزن نہیں رکھتے۔

 معترض دوستوں نے ایک یہ اعتراض بھی نشر کیا ہے۔ کہ نبی کریمﷺ کی ان تینوں صاحبزادیوں (سیدہ زینبؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ) کی کوئی فضیلت کی چیز اسلامی کتب میں نہیں پائی جاتی، شیعہ و سنی علماء کی تصانیف کا ہر صفحہ ان کے ذکر فضیلت سے کورا نظر آیا اور نبی پاک اور ان بیٹیوں کے درمیان الفت و محبت کا مظاہرہ کہیں نظر نہیں آتا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس اعتراض کے جواب کے لئے اس چیز کی ضرورت ہے کہ ہر سہ صاحبزادیوں کے مذکورہ سوانح پر ایک نظر ڈال لی جائے اور ایک ایک عنوان کو سامنے رکھا جائے تو یہ مسئلہ صاف ہو جاتا ہے اور اس اعتراض کا بے بنیاد ہونا از خود واضح ہو جاتا ہے۔

ناطرین کرام کی توجہ کے لئے چند معروضات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ ان پر غور فرمائیں:

1: پہلی بات یہ ہے کہ ان تینوں صاحبزادیوں کے احوال و سوانح ہم نے قریباً اڑتیس عدد اپنی کتب سے اور ساتھ ہی کم و بیش چوبیس عدد شیعہ اکابر علماء کی کتب سے پیش کیے ہیں جن کے اسماء کی فہرست اس کتاب کے اول میں یا آخر میں شامل کر دی گئی ہے ۔ ان کتابوں کے ذخیرہ سے ہر سہ صاحبزادیوں کے احوال بقدر ضرورت ہم نے نقل کر دیئے ہیں اور بیشتر مقامات میں ان کی اصل عبارات بھی ذکر کر دی ہیں تاکہ ناظرین کرام! کے لئے پوری طرح تسلی کا سامان ہو جائے۔

اہلِ علم و دانش ان تفصیلات کے مطالعہ سے بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ معترضین کا یہ دعویٰ کہ "سنی و شیعہ کتب ان کے ذکرِ فضیلت سے خالی ہیں "کہاں تک درست ہے؟؟ اور "بناتِ ثلاثہؓ" کے ذکرِ فضیلت کا کتبِ تاریخ و روایات میں نہ پائے جانے کا بلند بانگ دعویٰ کتنا قدر صحیح ہے ؟؟ اور اس میں کیا کچھ صداقت ہے؟؟

2: دوسری چیز یہ ہے کہ ان تینوں صاحبزادیوں کے احوال کا ایک مختصر خاکہ آپ مندرجہ ذیل صورت میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں مثلاً ان تینوں صاحبزادیوں (سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا) :

1: سید دو عالمﷺ کے "نسبِ مبارک" اور اولاد شریف میں سے ہونا۔

2: آنجنابﷺ کے خانہ مبارک میں پرورش پانا اور تربیت حاصل کی۔

3: اسلام لانا اور دین کی دولت سے مشرف ہونا ۔ اور بیعتِ نبویﷺ سے سرفراز ہونا ۔

 4: سیدہ رقیہؓ کا دو ہجرتوں اور زینبؓ و اُمِ کُلثومؓ کا ایک ایک ہجرت کے مصائب اٹھانا اور مشرفِ ثواب حاصل کرنا اور مہاجرین کے فضائل سے بہرہ ور ہونا۔

5: آنجنابﷺ کا ان کے حق میں نکاح و تزویج کے سامان کرنا اور ان کےساتھ مہر و الفت کے شائستہ تعلقات قائم رکھنا ۔

5: پھر ان بیبیوں سے جو اولاد ہوئی اس کے ساتھ آنجنابﷺ کا محبت والفت کا سلوک کرنا۔

7: ان "بنات طیباتؓ" کے حق میں آنجنابﷺ کا "کلماتِ خیر" فرمانا۔ 

صفحہ 6 از 7