سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 5 از 7

سردار دو جہاںﷺ کی ان تینوں صاحبزادیوں کا جناب رسالتﷺ کی حیات میں ہی انتقال کر جانا عجیب اتفاقاتِ قدرت میں سے ہے آنجنابﷺ کے صاحبزادگان بھی آنجنابﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اندریں حالات آنجنابﷺ کی غمگینی وا ندوہناکی ایک فطری امر تھا اور انسانی تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ مگر حضرات انبیاء علیہم السلام اپنے مالک کریم کے فرمان کے تحت نہایت صابر و شاکر ہوتے ہیں اور اپنی امت کو بھی برداشت مصائب کی تلقین فرمایا کرتے ہیں اس بنا پر آنجنابﷺ بھی اپنی پیاری صاحبزادی سیدہ اُمِ کُلثومؓ کی وفات پر پوری طرح صابر و شاکر تھے۔ آنجنابﷺ کی اولاد شریف میں سے اب صرف ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ زندہ تھیں باقی تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں انتقال فرما گئیں ۔ اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن 

حدیث شریف میں مذکور ہے:

"اشد الناس بلاءً الانبياء الامثل الامثل۔ الخ (او كما ذكر في الحديث"

یعنی انبیاء علیہم السلام لوگوں کے اعتبار سے زیادہ آزمائش میں ہوتے ہیں پھر جو ان کے زیادہ مشابہ ہو۔۔۔ الخ 

اس مقام میں بھی اسی چیز کا مظاہرہ ہوا۔ اور امت کے لئے تسکین و تسلی کا ایک طرح یہ نمونہ قائم ہوا کہ جب ہمارے آقائے نامدارﷺ کی اولاد شریف کے معاملہ میں یہ صورت پیش آئی اور ایک صاحبزادی کے بغیر باقی اولاد زندہ نہ رہی تو ہمارے لئے ایسی صورت ہو تو ہمیں بھی صبر و سکون سے کام لینا چاہیئے اور رضائے الہیٰ پر راضی رہنا چاہیے ۔ (لقد کان لكم في رسول الله اسوة حسنة)

"یعنی فرمانِ خداوندی ہے کہ تمہارے لئے اللہ کے رسول میں اسوۂ حسنہ ہے۔ اس کے موافق عمل پیرا ہونا چاہیے"۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تسکین خاطر

روایات کی کتابوں میں یہ چیز بھی ملتی ہے کہ جب سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عثمانؓ اس انقطاع صہریت پر نہایت غم زدہ اور پریشان خاطر تھے۔ ان حالات میں نبی اقدسﷺ نے سیدنا عثمانؓ کی تسکین خاطر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لوكن عشرًا لزوجتهن عثمان

 (طبقات ابنِ سعد صفحہ 25 جلد8 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

(مجمع الزوائد للهيثمی صفحہ 217 جلد9 تحت ما جاء في رقيہؓ او اختها اُمِ كُلثومؓ)

 یعنی اگر میرے پاس دس بیٹیاں ہوتیں تو میں (یکے بعد دیگرے) عثمانؓ کی تزویج میں دے دیتا " 

اور بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی منقول ہے۔

 یہاں سے معلوم ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کے ساتھ آنجنابﷺ کے کتنے عمیق تعلقات تھے اور اس رشتہ کے منقطع ہونے پر جانبین میں کس قدر قلبی اضطراب پیدا ہوا۔

نیز واضح ہوا کہ سیدہ رقیہؓ اور اُمِ کُلثومؓ پر ظلم وستم کیے جانے کے قصے جو لوگوں نے وضع کیے ہوئے ہیں وہ سراسر جعلی اور بے بنیاد ہیں اگر ان میں سے کوئی بات صحیح ہوتی تو سیدنا عثمانؓ اور نبی اقدسﷺ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے چاہیے تھے۔ لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔

سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا کے غسل کا بیان

 سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے انتقال کے بعد ان کے غسل اور کفن کے انتظامات سردارِ دو عالمﷺ نے خود فرمائے اور جو عورتیں سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے غسل دینے میں شریک ہوئی تھیں ان کا ذکر متفرق روایات میں پایا جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے غسل دینے میں صفیہؓ بنتِ عبدالمطلب اور اسماء بنتِ عمیسؓ اور لیلیٰؓ بنتِ قانف الثقفیہ اور اُمِ عطیہؓ انصاریہ شامل تھیں اور انہوں نے اُمِ کُلثومؓ کا غسل حسبِ دستور سر انجام دیا۔

 اُمِ عطیہؓ کہتی ہیں کہ صاحبزادی اُمِ کُلثومؓ کے غسل دلانے میں میں بھی موجود تھی۔ اور حضرت رسالت مابﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیری کے پتوں والے پانی سے تین پانچ یا سات بار غسل دلائیں اس کے بعد آخر میں کافور کی خوشبو لگائیں اس کے بعد مجھے اطلاع کریں۔ پس ہم نے اسی طرح کیا اور نبی اقدسﷺ کی خدمت میں اطلاع کی تو آپﷺ نے ہمیں کفن کے کپڑے اس ترتیب سے پکڑائے کہ پہلے ایک چادر پھر ایک قمیص اور پھر ایک اوڑھنی اور اس کے بعد ایک چادر اور پھر ایک بڑی چادر جس میں تمام جسم کو لپیٹ دیا گیا نبی کریمﷺ اس مکان کے دروازے پر تشریف فرما تھے آنجنابﷺ کے پاس یہ کپڑے تھے جو آپ نے ایک ایک کر کے ہمیں پکڑائے اور آنجناب کے ارشاد کے مطابق ان کو استعمال میں لایا گیا۔ اور اُمِ کُلثومؓ کی کفن پوشی کا کام سر انجام پایا۔

(قولۂ اُمِ عطیہؓ انصاریہ کے ذکر میں ایک تھوڑی سی تشریح کی ضرورت ہے کہ صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے غسل کے موقع پر بھی اُمِ عطیہؓ انصاریہ کے متعلق منقول ہے کہ یہ سیدہ زینبؓ کے غسل دلانے میں شامل تھیں اور کفن کے کپڑوں کی تفصیلات ابھی انہوں نے ذکر کی ہیں (جیسا کہ سیدہ زینبؓ کے حالات میں بخاری شریف اور مسلم شریف کے حوالہ جات سے ذکر کیا گیا ہے)۔

تو اُمِ عطیہؓ انصاریہ کے متعلق علماء فرماتے ہیں کہ:

"ويمكن الجمع بان تكون حضرتهما جميعا "

(فتح الباری شرح بخاری صفحہ 99 جلد 30 باب غسل الميت دوضوئہ)

 یعنی ہو سکتا ہے کہ اُمِ عطیہ انصاریہؓ سیدہ زینبؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ دونوں کے انتقال کے بعد غسل میں شریک ہوئی ہوں اور یہ بھی علامہ ابنِ عبدالبر نے اُمِ عطیہ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ :- "بانھا كانت غاسلة الميتات یعنی اُمِ عطیہ انصاریہ میتوں کے غسل دینے میں ہمیشہ شریک ہوتی تھیں"۔ لہٰذا اُمِ عطیہ کا متعدد غسلوں میں شریک ہونا کوئی قابل اشکال نہیں ہے۔)

(شرح مواہب اللدنيه للزرقانی صفحہ 201 جلد 3 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

 (تہذیب الاسماء واللغات للنووى صفحہ 364 تحت امِ عطیہؓ۔( حرف العين )

ذیل مقامات میں یہ مضمون منقول ہے اہلِ علم رجوع فرما سکتے ہیں ہے؛

 (مسند احمد صفحہ 380 جلد 6 تحت حدیث لیلیٰ بنت قائف الثقفيہ)

(السنن الكبرىٕ للبيہقی صفحہ 7،6جلد 4 باب كفن المرأة)

(شرح السنة للبغوی صفحہ 313٫314 جلد خامس باب التكفين)

(البدايته لابن کثیر صفحہ 39 جلد 5 تحت سن 9ہجری)

(اسد الغابہ صفحہ 612 جلد 5 تذکرہ اُمِ کُلثومؓ)

(ذخائر العقبىٌ للمحب الطبرى صفحہ 166٫167 تحت ذكر وفات اُمِ كُلثومؓ)

ان روایات سے فقہاء کرام نے غسل اور کفن کے مسائل استنباط کر کے کتبِ فقہہ میں درج کئے ہیں ۔

سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا کا دفن

صفحہ 5 از 7