سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 4 از 7

تاریخ تزویج سی اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا

علماء نے لکھا ہے کہ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ کے ساتھ ربیع الاول 3 ہجری میں ہوا تھا اور چند ماہ کے بعد یعنی ماہ جمادی الاخری 3 ہجری میں رخصتی ہوئی تھی اور اس طرح قلیل مدت میں یہ تقریب سعید پوری ہوئی۔

"وكان نكاحه اياها في ربيع الأول من سنة 3ھ ثلاثِ وبنىٰ بها في الجمادى الاخرىٰ من السنة ثلاث"

 (اسد الغابه لابن أثير الجزری صفحہ 612 جلد 5 تحت ذکر اُمِ کُلثوم بنتِ رسول اللہﷺ)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 25 جلد8 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

 شیعہ علماء کی طرف سے تائید

شیخ نعمت اللہ الجزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں لکھا ہے کہ صاحبزادی رقیہؓ کے بعد سیدنا عثمانؓ نے ان کی بہن سیدہ اُمِ کُلثوم کے ساتھ نکاح کیا اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں ہی فوت ہوئیں ۔

"و اما ام كلثوم فتزوج ايضاً عثمان بعد اختها رقیة وتوفیت عندہ"

(الانوار النعمانية صفحہ 367 جلد اول تحت نور مولودی (باب 1)

عدم اولاد

اللہ تعالیٰ اپنے تکوینی مصالح آپ ہی جانتا ہے نظامِ عالم کے یہ امور اس کے اپنے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ہماری عقل نارسا انہیں پا نہیں سکتی یہ چیزیں عقول عامہ سے بالاتر ہیں اور فہم قاصر سے بعید ہیں۔ چنانچہ رسالت مآبﷺ کی ان صاحبزادیوں سے بعض کی اولاد ہوئی ہی نہیں اور بعض سے اولاد شریف ہوئی لیکن کچھ مدت کے بعد اس کا انتقال ہو گیا البتہ سیدہ فاطمہؓ سے جو اولاد ہوئی تھی اس سے آنجنابﷺ کی نسل مبارک چلی۔ جیسا کہ عنقریب ہم تذکرہ سیدہ فاطمہؓ میں ذکر کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ 

ہر ایک صاحبزادی کے تذکرہ کے تحت ان کی اولاد کا ذکر جس صورت میں پایا جاتا ہے وہ بیان کر دیا ہے۔

سیدہ اُمِ کلثومؓ کے متعلق یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے نکاح ( جو عتیبہ بن ابی لہب سے ہوا تھا)، میں رخصتی ہی نہیں ہوئی تھی اور شادی کی رسم نہیں ادا کی گئی تھی۔ اس سے اولاد کا نہ ہونا تو ظاہر بات ہے۔

پھر اس کے بعد سیدنا عثمانؓ کے ساتھ ان کی تزویج ہوئی اور رخصتی بھی ہوئی اور زوجین کے ازدواجی تعلقات بھی درست رہے لیکن سیدہ اُمِ کُلثومؓ سے سیدنا عثمانؓ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی بنا بریں اس عنوان کے تحت یہ تصریح کر دی گئی ہے۔

ایک انتباه

سیدنا عثمانؓ کا اخلاق بہت بلند تھا نہایت کریم النفس اور شریف الطبع تھے ۔ آپؓ کے آنجنابﷺ کے ساتھ رشتہ داری کے مراسم نہایت مخلصانہ تھے اس بنا پر سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں جب تک سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ (یکے بعد دیگرے) زندہ رہیں تو انھوں نے کوئی دوسرا نکاح اور شادی نہیں کی۔ کیونکہ ضرائر یعنی سوکنوں میں عموماً چپقلش ہو جاتی ہے اور تنازعات پیدا ہو جاتے ہیں اور کئی قسم کے باہمی مناقشات چل نکلتے ہیں اپنے اہلِ خانہ کو ان تمام چیزوں سے بچانے کے لئے یہی طریق اسلم تھا جو سیدنا عثمانؓ نے اختیار فرمایا اور صرف آنجنابﷺ کے احترام اکرام کے پیشِ نظر نکاحِ ثانی کا ارادہ تک نہیں کیا۔ حالانکہ سیدنا عثمانؓ نے ان صاحبزادیوں کے انتقال کے بعد متعدد خواتین سے نکاح کیئے اور ان سے ان کی اولاد بھی ہوئی۔ مثلاً فاختہ بنتِ غزوان - فاطمه بنتِ ولید - رملہ بنتِ شیبه نائلہ بنتِ فرافضه وغیرہ۔ سیدنا عثمانؓ۔ کے نکاح میں آئیں۔

بیش قیمت چادر کا استعمال

نبی کریمﷺ کے خاص خادم انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ "میں نے اُمِ کُلثومؓ پر ایک بیش چادر دیکھی جو ریشم کی دھاریوں سے بنی ہوئی تھی"

 اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا لباس عمدہ ہوتا تھا سیدنا عثمان غنیؓ جیسے خاوند کے ساتھ رہتے ہوئے یہ اندازِ معاشرت لازمی تھا آپ اس طرح کے اچھے لباس کو استعمال فرماتی تھیں یہ حالات ان کی معاشرتی خوشحالی پر بھی دلالت کرتے ہیں اور ان سے زوجین کے درمیان تعلقات کی شائستگی بھی معلوم ہوتی ہے۔ روایت کے الفاظ ذیل میں منقول ہیں ۔

 "اخبرنى انس بن مالك انه رائى على ام كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم برد حرير سيراء"

 (بخاری شریف جلد 2 صفحہ 867 كتاب اللباس باب الحرير النساء)

(السنن للنسائی صفحہ 252 باب ذكر الرخصة النساء في لبس السيراء)

(طبقات ابنِ سعد جلد8 صفحہ 25 تحت ذكر اُمِ كُلثومؓ)

(كتاب المعرفة والتاريخ للبسوى صفحہ 164 جلد 3)

(الاصابة في تمييز الصحابة لابن حجر جلد 4 صفحہ 466 تحت اُمِ كُلثومؓ بنتِ رسول اللّٰہﷺ)

سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال

جناب رسالت مآبﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہؓ کا انتقال 2ہجری میں ہو گیا تھا (جیسا کہ سیدہ رقیہؓ کے حالات میں ذکر کیا گیا) اور سیدہ زینبؓ کا انتقال 8ہجری میں ہوا تھا جیسا کہ یہ بات ان کے حالات میں ذکر کی جا چکی ہے۔

قدرتِ کاملہ کی طرف سے حالات کی یہی صورت فیصلہ تھی اور اللہ تعالیٰ کو اسی طرح منظور تھا کہ حضرت رسالت مآبﷺ کی تیسری صاحبزادی سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا انتقال بھی آنجنابﷺ کی حیات مبارک میں ہی ہوا چنانچہ ماہ شعبان 9ہجری میں آپؓ بھی اپنے سفر آخرت پر چلی گئیں۔

" وتوفيت أم كلثوم في حیات النبي صلى الله عليه وسلم في شعبان سنة تسع من الهجرة "

(تفسیر القرطبی صفحہ 242،243 جلد رابع عشر(14) تحت ایة قل لازواجک وبنات ۔۔۔ الخ (سورة الأحزاب)

(کتاب الثقات لابن حیان صفحہ 105 جلد ثانی تحت سنة التاسع)

(البداية لابن كثير صفحہ 39 جلد5 تحت سنة تاسع)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 25 جلد8 تحت ذكر اُمِ کُلثومؓ)

صفحہ 4 از 7