سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 3 از 7

چنانچہ اُمِ عیاشؓ ذکر کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹی اُمِ کُلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دینے کا ارادہ کیا ہے اور یہ چیز وحیِ آسمانی کے مطابق عمل میں آئے گی ۔ اُمِ عیاشؓ وہ عورت ہیں جو نبی کریمﷺ نے سیدہ رقیہؓ کو بطورِ خادمہ عنایت فرمائی تھی اور اُمِ عیاش بنی اقدس کو وضو کرانے کی خدمت بجا لاتی تھیں۔(قبل ازین ان کا ذکر سیدہ رقیہؓ کے تذکرہ میں گزر چکا ہے)

اصل روایت کے الفاظ اس طرح مروی ہیں:

"عن ام عياش وكانت أمةً لرقبة بنت رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما زوجت ام كلثوم من عثمان الا بوحي من السماء وبهذا الاسناد عن ام عياش قالت ومنأت رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا قائمة وهو قاعد"

(التاريخ الكبير امام بخارى صفحہ281 جلد 2 القسم الاول تحت باب روح)

(کنز العمال صفحہ 149جلد 6 روایت 2418 طبع اوّل دکن)

(بحوالہ (طب عن ام عياش ) تحت فضائل ذی النورین عثمانؓ)

(کنز العمال صفحہ 149 جلد 6 روایت 2430 طبع اوّل دکن۔)

 (تحت فضائل ذی النورین عثمانؓ بحوالہ (ابنِ مندة طب - خطیب - ابنِ عساکر)

(شرح مواهب اللدينه للزرقانی صفحہ 200 جلد ثالث تحت ذكر اُمِ کُلثومؓ)

  (تاریخ بغداد للخطيب بغدادى صفحہ 364 تذكره فضل ابنِ جعفر بن عبدالله)

(مجمع الزوائد للهيثمي صفحہ 83 جلد 9 تذكره اُمِ كلثومؓ)

3_ اور تیسری روایت میں اس طرح ہے کہ جناب رسالتِ مآبﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے عثمانؓ! یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اُمِ کُلثومؓ کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہؓ کے لئے مقرر ہوا تھا اسی کے موافق اُمِ کُلثومؓ کا مہر ہو اور ان کی مصاحبت اور رفاقت بھی انہیں کے مطابق ہو گی۔

 (اسد الغابه جلد5 صفحہ 213 تذکره اُمِ کُلثومؓ)

(ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربیٰ صفحہ 165 للحافظ محب الدین احمد بن عبد الله الطبرى المتوفى 694ھ طبع مصرى ( الفصل السادس في ذكر اُمِ كُلثومؓ) 

( قال المحب الطبرى) خرجه ابنِ ماجته القرديني والحافظ ابو القاسم الدمشقي والامام ابو الخير القزويني المالكي)

 (كتاب المعرفة والتاريخ جلد ثالث جلد 3 صفحہ 159لابی يوسف يعقوب بن سفيان اليسوى)

(کنز العمال جلد6 صفحہ 375 روایت 5824 تحت فضائل ذی النورین عثمانؓ)

 (المستدرك للحاكم صفحہ 49 جلد رابع(4) تذکره اُمِ کُلثومؓ بنتِ الرسولﷺ)

(كنز العمال صفحہ 149 جلد 6 تحت فضائل عثمانی روایت 2429)

4_ اور بعض روایات میں سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے نکاح کا مسئلہ اس طرح مذکور ہے کہ جب سیدنا عمرؓ کی صاحبزادی سیدہ حفصہؓ کا سابق خاوند فوت ہو گیا اور سیدنا عثمانؓ کی زوجہ سیدہ رقیہؓ بھی فوت ہو گئیں تو کچھ مدت کے بعد سیدنا عمرؓ نے اپنی دختر سیدہ حفصہؓ کے نکاح کے لیے سیدنا عثمانؓ کو پیش کش کی لیکن سیدنا عثمانؓ نے فی الحال نکاح لینے سے معذرت کی ۔ پھر سیدنا عمرؓ نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں جا کر (بطورِ اظہارِ افسوس کے) ذکر کیا تو آنجنابﷺ نے (اطمینان دلاتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ حفصہؓ کو وہ زوج نکاح کر لے گا جو عثمانؓ سے بہتر ہوگا اور عثمانؓ اس عورت سے نکاح کریں گے جو حفصہؓ سے بہتر ہو گی۔ 

فعرضھا علی عثمان حین ماتت رقیة بنت النبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مااريد اتزوج اليوم فذكر عمرؓ الرسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال يتزوج حفصة من هو خير من عثمان ويتزوج عثمان من هي خير من حفصة 

(الاصابة جلد 4 صفحہ 264 تحت حفصة بنتِ عمرؓ)

(شرح مواهب اللدنيه للزرقاني جلد3 صفحہ200 من تحت ذكر اُمِ كُلثومؓ)

(تاريخ الخميس صفحہ 276 جلد اول تحت ذكر اُمِ كُلثومؓ)

 (نسبِ قریش صفحہ 352 تحت حفصہ بنتِ عمرؓ)

 چنانچہ نبی اقدسﷺ کے فرمان کے مطابق سیدہ حفصہؓ کو خود نبی کریمﷺ نے نکاح میں لیا اور وہ ازواج مطہراتؓ میں نے داخل ہوئیں اور آنجنابﷺ نے اپنی صاحبزادی اُمِ کُلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دی۔

اس طرح سیدنا عثمانؓ نے آنجنابﷺ کے دوہرے داماد ہونے کا شرف حاصل کیا۔ اور اس نکاح اور تزویج کے حق میں جو ارشادات خداوندی ہو چکے تھے وہ پورے ہوئے ۔

نیز مندرجہ بالا مقام میں سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے حق میں "لفظ خیر" کا استعمال فرمایا گیا۔ یہ چیز اُمِ کُلثومؓ کے لیے بڑے اعزاز و اکرام کی ہے۔

جن لوگوں کے دل میں اپنے نبی مقدسﷺ کی اولاد شریف کا احترام ہے وہ اس کلمہ کی قدر دانی کرتے ہیں اور اس کے وزن کو سمجھتے ہیں ۔ اور جو لوگ "اولادِ ثلاثہؓ" کو آنجنابﷺ کی اولاد سے خارج کرنے پر کمر بستہ ہیں ان کی نگاہ میں ان کا کیا احترام ہو سکتا ہے؟؟

مندرجات بالا سے ذیل چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔

1_ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے متعلق متعدد روایات حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے دستیاب ہیں جن میں سے چند حوالہ جات اوپر پیش کر دیئے ہیں۔ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ با برکت رشتہ نکاح امرِ خداوندی کے تحت ہوا تھا۔ اور یہ چیز زوجین (سیدنا عثمانؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ) دونوں کے حق میں بڑی عالی منقبت ہے۔

ّ2_ نیز یہ چیز واضح ہوئی کہ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے نکاح میں وہی مہر رکھا گیا جو سیدہ رقیہؓ کے لئے تجویز کیا گیا تھا اور ان کے ساتھ بہتر مصاحبت اور اور عمدہ رفاقت کی بھی وہی حدود ملحوظ رکھی گئیں جو سیدہ رقیہؓ کے حق میں ملحوظِ خاطر رہی تھیں۔

 ان حالات سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ رقیہؓ پر ظلم وستم کی داستانیں جو مخالف لوگ تیار کرتے ہیں وہ بالکل غلط اور حقیقت کے خلاف (من گھڑت) ہیں۔

3_ نیز اس مقام سے سیدنا عثمانؓ کی فضیلت اور برتری اعلیٰ درجے کی ثابت ہوتی ہے کہ ایک صاحبزادی کے انتقال فرمانے کے بعد رسالت مآبﷺ اپنی دوسری لختِ جگر سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دیتے ہیں اور یہ سارا معاملہ وحی آسمانی کے تحت سر انجام پاتا ہے جیسا کہ سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدنا علیؓ کے ساتھ وحیِ آسمانی کے تحت ہوا تھا اسی طرح یہ بھی ہوا ہے ۔ اس بناء پر امتِ مسلمہ نے سیدنا عثمانؓ کے لئے ذوالنورین کا صحیح لقب تجویز کیا ہے وہ اس اعزاز کے بجا طور پر مستحق ہیں اور یہ ایسا اعزاز ہے جس میں ان کے ساتھ اور کوئی صحابی شریک نہیں ہے۔

صفحہ 3 از 7