سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 2 از 7

ان کے ساتھ ہی سیدنا ابو لبکر صدیقؓ نے عبداللہ ابنِ اریقط الدئلی کو دو اونٹ دے کر بھیجا اور اپنے بیٹے عبداللہ بن ابی بکرؓ کی طرف لکھ بھیجا کہ وہ بھی ان کے گھر والوں کو ان کے ساتھ روانہ کرے یعنی یہ دونوں گھرانے ایک دوسرے کے ساتھ ہو کر ہجرت کر کے مدینہ شریف آئیں۔ چنانچہ زید ابنِ حارثہؓ اور ابورافعؓ مکہ شریف پہنچے اور سفر ہجرت کر کے نبی اقدسﷺ کے گھر والوں یعنی اُم المؤمنین سیدہ سودہؓ بنتِ زمعہ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ کو لے کر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ 

 زید ابنِ حارثہؓ نے اپنی بیوی اُمِ ایمنؓ اور اپنے لڑکے اسامہ بن زید کو بھی ساتھ لیا۔ اور یہ نبی اقدسﷺ کے اہل و عیال کے ساتھ رہتے تھے۔

 سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے صاحبزادے عبداللہ ابنِ ابی بکر صدیقؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی زوجہ محترمہ اُمِ رومان اور اپنی دونوں بہنوں سیدہ عائشہؓ اور اسماء کو ساتھ لے کر ہجرت کے لئے نکلے اور نبی اقدسﷺ کے اہل و عیال کے ساتھ ہم سفر ہو کہ مدینہ شریف جا پہنچے۔ اس وقت نبی اقدسﷺ مسجدِ نبوی کی تعمیر میں مصروف تھے اور مسجد کے آس پاس اپنے حجرات کی تعمیر کروا رہے تھے۔ آنجنابﷺ نے اپنے اہل خانہ کو اس موقعہ پر حارثہ بن نعمانؓ کے مکان پر ٹھہرایا تھا اور نبی اقدسﷺ نے سیدہ عائشہؓ کے لئے وہ حجرہ بنوایا جس میں آنجنابﷺ کا مزار اقدس ہے ۔ اور آپ اس میں مدفن ہیں آپ نے اس حجرہ مبارک کا ایک دریچہ مسجدِ نبوی کی جانب بنوایا تھا جس سے آنجنابﷺ نماز کے لئے مسجدِ نبوی کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے۔ صاحبزادی سیدہ زینبؓ کو اس کے زوج ابو العاص بن ربیعؓ نے روک لیا تھا اس بنتِ رسولﷺ نے بعد میں ہجرت کی تھی۔ اور سیدہ رقیہؓ نے اپنے زوج سیدنا عثمانؓ کے ساتھ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی تھی. 

( جیسا کہ قبل ازیں تحریر کیا گیا ہے) 

(طبقاب ابنِ سعد صفحہ 118/119 جلد ثامن۔ طبع لیڈن تحت ذکر منازل ازواجِ النبیﷺ)

(البدایہ لابن کثیر صفحہ 202 جلد ثالث فصل فی خولہ علیہ السلام المدینہ الخ۔)

 (انساب الاشراف للبلاذرى صفحہ 269 جز مدءاول)

اور بعض روایات میں منقول ہے کہ جس وقت زید بن حارثہؓ اور اس کے ساتھی مکہ شریف پہنچے تو طلحہ بن عبید اللہ سے ملاقات ہوئی حال احوال بیان کیے تو معلوم ہوا کہ طلحہؓ بھی سفرِ ہجرت کے لئے تیار ہیں چناچہ مندرجہ بالا تمام حضرات اور طلحہؓ بھی اور عبیداللہ سفر ہجرت کے لئے مل کر نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ گئے ۔

(مجمع الزوائد للھيثمی صفحہ 227 جلد9 باب فی فضل عاشت اُم المؤمنين تزویجہا)

مندرجہ بالا واقعات سے معلوم ہوا کہ 

  1. جس طرح جناب رسالتﷺ کے سفرِ ہجرت میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ آنجنابﷺ کے ہم سفر تھے اسی طرح آنجنابﷺ کے اہل و عیال (دو صاحبزادیاں سیدہ فاطمہؓ و اُمِ کُلثومؓ اور اُم المؤمنین سیدہ سودہؓ) کے ساتھ سفرِ ہجرت میں صدیقِ اکبرؓ کے اہل وعیال شامل تھے۔ یہ چیز دونوں خاندانوں کے تعلقات کی یگانگت ظاہر کرتی ہے اور خوشی اور غمی کے معاملات میں کامل اتفاق و اتحاد کا پتہ دیتی ہے۔
  2.  آنحضرتﷺ کے اہل و عیال کے سفرِ ہجرت کے مصارف سیدنا صدیق اکبرؓ نے پیش خدمت کیئے تھے اور ثوابِ دارین حاصل کیا تھا۔
  3. اور سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ اُمِ کُلثومؓ نے ہجرتِ مدینہ کا سفر مل کر کیا تھا۔ ان دونوں بہنوں کی ہجرت ایک سفر میں ہوئی تھی یہ دونوں بہنیں اپنی دو بڑی بہنوں

 (سیدہ زینبؓ و سیدہ رقیہؓ) سے ہجرت میں اسبق رہیں۔ مہاجرین کے فضائل جو اسلام میں منقول ہیں اور جو آیات ان کے حق میں موجود ہیں ، وہ ان دونوں صاحبزادیوں کے لئے بھی ثابت ہیں اور ہجرت کے اجر و ثواب میں یہ دونوں برابر کی شریک ہیں ۔

سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا کی تزویج

پہلے ایک تمہیدی روایت تحریر کی جاتی ہے اس کے بعد دیگر روایات پیش خدمت ہونگی ۔

1- پہلی روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ ایک موقع پر نبی اقدسﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کے نکاح اور تزویج کے متعلق ارشاد فرمایا کہ:

"ما انا ازوج بناتی ولكن الله تعالى يزوجهن "

 "یعنی میں اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سے کسی کی تزویج میں نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں"

(المستدرك للحاكم صفحہ 49 جلد رابع تحت ذکر اُمِ کُلثوم بنتِ نبیﷺ كتاب معرفة الصحابة)

یہ آنجنابﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی بیٹیوں کو میں کسی کے نکاح میں نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی تزویج کا امر فرماتا ہے اس روایت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے ساتھ سیدہ اُمِ کُلثومؓ کا نکاح اللہ تعالیٰ کے اذن کے موافق ہوا تھا۔ اور باقی صاحبزادیوں (سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ، سیدہ فاطمہؓ) کے نکاح بھی امرِ الہیٰ کے تحت ہی سرانجام پائے تھے۔ رسالت مآبﷺ کی صاحبزادیوں کے حق میں گویا یہ ایک خصوصیت پائی جاتی ہے کہ ان کا نکاح باامرِ خداوندی ہوتا ہے اور ان کے نکاح کے ساتھ کسی دوسری عورت کو نکاح میں نہیں لیا جاتا ۔ چنانچہ اس مسئلہ کو بعض علماء نے بحوالہ ابنِ حجرؒ نقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ

"قال ابن حجر لا يبعد ان يكون من خصائصه صلى الله عليه وسلم منع التزويج على بناتهٖ"

"یعنی یہ چیز کچھ بعید نہیں کہ جنابِ رسالتِ مآبﷺ کے حق میں یہ خصوصیت ہو کہ آنجنابﷺ کی صاحبزادیوں کے نکاح کے ساتھ کسی دوسری بیوی کو ان کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔"

(الخصائص الکبریٰ للسیوتی جلد 2 صفحہ 255 الجزء الثانی طبع اول دکن باب اختصامہ بنان بناته کا یتزوج علیھن)

 2_ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں پہلے سیدہ رقیہ بنتِ رسول اللہﷺ ہیں ان کا انتقال جنگِ بدر کے موقع پر ہو گا جیسا کہ سیدہ رقیہؓ کے سوانح میں یہ بیان کیا جا چکا ہے ۔ اس کے بعد سیدنا عثمانؓ اس چیز کے خواہشمند اور مُتمنی تھے کہ آنجنابﷺ کے ساتھ رشتہ دامادی قائم رہتا تو بہتر تھا۔ سیدہ رقیہؓ کے انتقال کی وجہ سے آپ نہایت مغموم رہتے تھے، اور پریشانی کے عالم میں تھے۔

صفحہ 2 از 7