سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ -…

سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 1 از 7

سوانح صاحبزادی سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا

اسمِ گرامی

سردارِ دو جہاںﷺ کی یہ تیسری صاحبزادی ہیں۔ ان کی والدہ محترم سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ ہیں ۔ ان کا اسمِ گرامی "اُمِ کُلثومؓ" ہے اور اسی کنیت کے ساتھ مشہور ہے اور کوئی الگ نام معروف نہیں ہے بہت سے علماء نے اس چیز کی وضاحت کر دی ہے۔

ذیل مقامات ملاحظہ ہوں:

وهي ممن عرف بكنيته ولم يعرف لها اسم

(تاريخ الخمس صفحہ 275جلد اول تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

 (الزرقانی شرح مواهب اللدنيه جلد 3 صفحہ 199تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

(ذخائر العقبىٰ لاحمد ابنِ عبدالله الطبرى صفحہ 164تحت فصل السادس في ذكر اُمِ كُلثوم بنتِ رسول اللہﷺ)

ولادت باسعادت

 اکثر علماء کے نزدیک سیدہ اُمِ کُلثوم اپنی بہن سیدہ فاطمہؓ سے بڑی اور اپنی بہن سیدہ رقیہؓ سے چھوٹی تھیں اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ سیدہ رقیہؓ سے بڑی تھیں لیکن یہ قول شاذ ہے پہلی چیز تذکرہ نوسیوں میں زیادہ مشہور ہے اور اسی پر اعتماد کیا گیا ہے۔

(اسد الغابه صفحہ 612 جلد 5 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

(تاريخ الخميس للديار البكریٰ صفحہ 275 جلد اول تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

اسلام لانا اور بعیت کرنا

قبل ازیں سیدہ اُمِ کُلثومؓ کی بہنوں کے تذکرہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اقدسﷺ اور سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کی نگرانی میں انہوں نے ہوش سنبھالا اور اس بابرکت تربیت میں جوانی کو پہنچیں۔ پھر جس وقت جناب رسالت مآبﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ کے ہمراہ اسلام لائیں اور بیعت کے موقع پر اپنے والد شریفﷺ کے ساتھ بعیت کی اور دیگر عورتوں نے بھی بیعت کی اور ہجرت تک مکہ شریف میں ان کا قیام رہا۔

"فلم تزل بمكة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم و اسلمت حین اسلمت امها و بایعت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع اخواتها حين بايعه النساء"

(تفسير احكام القرآن للقرطبى صفحہ 242 جلد رابع عشر(14)تحت آية قل لا زواجك وبناتك)

(سورة الأحزاب)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 25 جلد8 تحت اُمِ کُلثومؓ)

سیدہ اُمِ کُلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاحِ اوّل اور طلاق

اعلانِ نبوت سے پہلے اس دور کے دستور کے مطابق نبی اقدسﷺ نے اپنی صاحبزادی اُمِ کُلثومؓ کا نکاح اپنے چچا ابولہب کے لڑکے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا اور سیدہ رقیہؓ کا نکاح عتبہ کے ساتھ کیا تھا۔

لیکن جب اسلام کا دور آیا اور نبی کریمﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا اور قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ قرآن مجید میں شرک کی مزمت کی گئی اور مشرکین کا برا انجام واضح کیا گیا ان دنوں ابولہب اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا۔ ابولہب کی مذمت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل سورت (سورۃ تبت یدا ابی لہب ... الخ) نازل فرمائی۔ ابولہب اور اس کی بیوی (اُمِ جمیل) دونوں کی اس مختصر سورۃ میں قباحت واضح کی گئی تھی۔

اس وقت ابولہب اور اُمِ جمیل میاں بیوی دونوں نے اپنے لڑکے عتیبہ کو مجبور کیا کہ محمدﷺ کی لڑکی اُمِ کُلثومؓ کو طلاق دے۔ اور اُمِ جمیل اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کو کہنے لگی کہ محمدبن عبداللہﷺ کی دونوں لڑکیاں رقیہؓ اور اُمِ کُلثومؓ بے دین ہو گئیں ہیں اور قدیمی مذہب چھوڑ چکی ہیں۔ لہٰذا ان دونوں لڑکیوں کو تم دونوں بھائی طلاق دے دو۔ پس انہوں نے اپنے والدین کے مجبور کرنے پر دونوں صاحبزادیوں کو بلاوجہ طلاق دے دی اللہ تعالیٰ کو منظور یہی تھا۔ کہ یہ پاک بیبیاں ان ناپاک مشرکین کے گھر نہ جائیں سو عتبہ نے سیدہ رقیہؓ عتیبہ نے سیدہ اُمِ کُلثومؓ کو چھوڑ دیا۔ اور یہ طلاق ان کی رخصتی سے قبل واقع ہوئی تھی۔

 قالت ام جميل ....... لا بنيها ان رقيه وام كلثوم قد صبتا فطلقا هما فقعلا فطلقا هما قبل الدخول بها

(اسد الغابة لابن اثیر الجزری صفحہ 612 جلد5 تحت ذکر اُمِ کُلثومؓ)

(البداية لابن كثير صفحہ 309 جلد 5 تحت فصل اولادِ نبویﷺ)

(تفسير القرطبی صفحہ 242/ 243 جلد رابع عشیر(14) تحت آية قل لا زواجك وبناتك . (سورة الأحزاب)

 قبل ازیں سیدہ رقیہؓ کے سوانح میں ذکر کیا گیا ہے ان صاحبزادیوں رقیہؓ اُمِ کُلثومؓ کو بلاوجہ طلاق دے دی گئی تھی ان کا کوئی قصور نہ تھا آنحضرتﷺ کو دکھ دینے کے لئے اور اسلام کی دشمنی کی وجہ سے ابو لہب کے بیٹوں نے یہ ستم روا رکھا تھا۔ اور اسلام کی خاطر ہی ان پاک دامن بیبیوں نے یہ مصیبت اٹھائی۔ ان بناتِ رسولﷺ نے نہایت صبر کے ساتھ یہ مراحل طے کیئے۔

 سرورِ دو عالمﷺ کی ان معصوم صاحبزادیوں نے یہ صدمے صرف دین کی خاطر برداشت کیئے اور اجر و ثواب کی مستحق ہوئیں اور صبر واستقامت کے ساتھ اپنے والد شریفﷺ کی خدمت میں مقیم رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بہت بڑا مقام ہے۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہا و عن اخواتها وعن امها 

مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنا

نبی اقدسﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے مکہ شریف سے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی۔ سفرِ ہجرت میں آنجناب کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیقؓ رفیق سفر تھے۔ اور ابتدائی ایام میں ابو ایوب انصاریؓ کی منزل پر مدینہ میں قیام تھا ۔نبی کریمﷺ کے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اہل و عیال تاحال مکہ شریف میں مقیم تھے اپنی ہجرت کے کچھ مدت بعد نبی کریمﷺ نے ارادہ فرمایا کہ باقی گھر والوں کو بھی یہاں مدینہ شریف بلوا لیا جائے۔

 آنجنابﷺ نے ابو رافعؓ اور زید بن حارثہؓ کو اس کام کے لئے تیار کر کے مکہ شریف روانہ فرمایا اور سواریاں بھی ساتھ دیں اور کچھ دراہم آمد و رفت کے مصارف کے طور پر عنایت فرمائے۔ بعض علماء نے تصریح کی ہے کہ آنجنابﷺ نے سواری کے لئے دو اونٹ ارسال کیئے اور خرچ کے لیے پانچ سو درہم عنایت فرمائے تھے اور یہ درہم آنجنابﷺ کی خدمت میں سیدنا ابو لبکر صدیقؓ نے پیش کیئے تھے۔

 آپﷺ نے ابورافعؓ اور زید بن حارثہؓ کو ارشاد فرمایا کہ مکہ شریف پہنچ کر ہمارے اہل و عیال کو ساتھ لائیں۔

صفحہ 1 از 7