سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے گستاخ کی امامت - فتاویٰ جات |…

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے گستاخ کی امامت


سوال: ایک شخص جماعت اسلامی سے وابسطہ ہے، وہ سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے متعلق عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) ظالم و جابر حکمران اور بدعتی تھے، اور انبیاء کرام علیہم السلام کو غیر معصوم سمجھتا ہے۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب:یہ سب باتیں گمراہی کی ہیں، سیدنا حضرت امیر معاویہؓ حضور اکرم مﷺ کے جلیل القدر اور بچے صحابی تھے چہ جائیکہ (معاذاللہ) ظالم اور جابر ہوں، حسب تصریح قرآن مجید وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنیٰ: سے صحابہ کرامؓ سے جنت کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اور رَضیِ اللّٰہُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ: کا سرٹیفکیٹ انہیں دنیا میں ہی عطا فرما دیا گیا ہے۔

صحابہ کرامؓ کے حق میں ایسے الفاظ گستاخی ہیں، جن کے مرتکب کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کو معصوم سمجھنا اہل سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے، اس سے انکار عقیدہ صحیحہ سے انحراف ہے۔ ایسے شخص کو ہرگز امام نہیں بنانا چاہیے۔

وقال رسول اللهﷺ: اجعلوا انمتكم خیارکم 

امام ایسے شخص کو بناؤ جو تم میں (عقیدہ و عمل میں) سب سے بہتر ہو۔ (فتاویٰ علماء حديث: جلد 10 صفحہ 78)