سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 8 از 12

حضرت عثمان بن مظعون رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا ایک قدیم الاسلام اور بڑے مقتدر صحابی تھے۔ تیرہ افراد کے بعد اسلام لائے تھے اور ہجرتِ حبشہ کی فضیلت بھی ان کو نصیب ہوئی تھی۔ مدینہ شریف میں مہاجرین میں سے یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انتقال فرمایا اور "جنت البقیع" میں مہاجرین میں سے پہلے دفن ہونے والے ہی تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو رسالت مآبﷺ ان کے ارتحال کی وجہ سے نہایت غمناک ہوتے تھے اور آنجنابﷺ کے آنسو مبارک جاری تھے اور اسی حالت میں آپﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللّٰہ عنہ کو بوسہ مبارک سے نوازا تھا۔ 

اس بناء پر حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ ابن مظعون کو آپﷺ نے اپنے سلف صالحین کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔

 (الاصابة لابن حجر صفحہ 457، جلد2 ثانی تحت عثمان بن مظعونؓ)

شیعہ کی طرف سے تائید

صاحبزادی رقيہ رضی اللّٰہ عنہا بنت رسول اللّٰہﷺ کے انتقال کے احوال جس طرح علماء اہل سنت کی کتب سے مختصراً پیش کیے گئے ہیں اسی طرح شیعہ علماء نے بھی اپنے آئمہ کرام سے اس موقعہ کے حالات باسند نقل کئے ہیں چنانچہ ہم ان کی اصول کی کتاب "فروع کافي" كتاب الجنائز باب المسئله في القبر سے بعض احوال نقل کرتے ہیں اس سے حضرت رقیہؓ کا مقام توقیر جو رسول اللّٰہﷺ کے ہاں تھا وہ واضح ہو جائے گا اور حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کا اپنی بہن سے قلبی تعلق نمایاں ہو گا اور ان کے باہمی روابط معلوم ہونگے ۔ 

شیعہ کے آئمہ فرماتے ہیں کہ جب صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللّٰہﷺ نے رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کہ اے رقیہ! تم ہمارے سلف صالح عثمان بن مظعونؓ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ شامل رہو ۔

حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا اپنی پیاری بہن کی قبر شریف کے کنارے پر تشریف لائیں اور فرطِ غم کی وجہ سے رونے لگیں اور فاطمہؓ کے آنسو قبر رقیہ رضی اللّٰہ عنہا میں گر رہے تھے۔ جناب رسول اللّٰہﷺ پاس کھڑے تھے اور اپنے کپڑے سے ان کے آنسو پونچھ رہے تھے وہیں آنجنابﷺ نے رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حق میں کلمات دعائیہ ارشاد فرمائے ۔ آپﷺ نے فرمایا کہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی ضعیفی مجھے معلوم ہے میں نے اللّٰہ کریم سے سوال کیا ہے کہ وہ رقیہ کو قبر کی گرفت سے پناہ دے

"قال لمامات رقية ابنة رسول اللّٰہﷺ قالی رسول اللّٰہﷺ واله الحقى يسلفنا الصالح عثمان بن مظعون واصحابه قال وفاطمة عليها السلام على شفير القبر تنحذر دموعها في القبر ورسول اللّٰہﷺ وآله يتلقاه بثوبه قائم يدعو قال اني لا عرف ضعفها وسألت اللّٰہ عزوجل أن يجيرها من ضمة القبر"

(فروع کافی صفحہ 133، جلد اول كتاب الجائز باب المسئلة في القير طبع نول کشور لکھنؤ)

اسی کتاب "فروع کافی" کے ایک دیگر مقام میں امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے اس میں بھی حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی وفات کا ذکر ہے اور وہاں امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول خداﷺ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی قبر تشریف لائے آسمان کی طرف سر مبارک اٹھایا اور آپﷺ کے آنسو جاری تھے اور لوگوں سے فرمایا مجھے رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تکلیف یاد آئی ہے اور جو اس کو مصیبت پہنچی ہے۔ میں نے قبر کی گرفت کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اے اللّٰہ! رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو قبر کی تکلیف سے معافی دے دے پس اللّٰہ تعالیٰ نے رقیہ کو معافی دے دی ہے ۔

 "وقف رسول اللّٰہ ﷺ واله على قبرها رفع رأسه إلى السماء فدمعت عيناه وقال للناس انى ذكرت هذه وما لقيت فرققت لها واستوهبتها من ضمة القبر قالى فقال اللهم هب لى رقية من ضمةالقبر فوهبها اللّٰہ له "

(فروع كافی صفحہ 129، جلد اول طبع نول کشور لکھنؤ۔كتاب الجنائز باب المسئلة في القبر)

یہ ایک دو روایتیں شیعہ کے متقدمین علماء نے ذکر کی ہیں اب ایک آدھ روایت شیعہ کے متاخرین علماء کی ذکر کی جاتی ہے تاکہ احباب کو تسلی ہو جائے کہ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی فضیلت کے یہ واقعات متقدمین اور متاخرین سب علماء نے ذکر کیے ہیں۔ ( اگرچہ بعض مجلس خوان دوستوں کو نظر نہیں آتے) ۔

شیخ عباس قمی چودھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف مجتہد ہیں وہ ائمہ کی روایت کا فارسی میں ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

چوں رقیه دختر رسول خداﷺ وفات یافت حضرت رسول اور اخطاب نمود که ملحق شو بگذشتگان شائسته، عثمان بن مظعون و اصحاب شائستہ او۔ و جناب فاطمه علیها السلام برکنار قبر رقیه نشسته بود و آب از دیده اش در قبر می ریخت حضرت رسولﷺ آب از دیده نور دیده خود پاک میکرد و درکنار قبر ایستاده بود و دعا میکرد پس فرمود که من دانستم صنعف و توانانی اور اواز حق تعالی خواستم که اورا امان دہداز فشار قبر "

(منتہی الآمال للشیخ عباس قمی صفحہ 108، جلد 1فصل هشتم در بیان اولاد امجاد آنحضرت است طبع تهران)

 جناب رسالت مآبﷺ تو وفات رقیہ کے وقت بدر میں تھے مندرجہ بالا حالات کیسے صحیح ہوئے؟ تو اس کا مختصر جواب ہمارے علماء نے ذکر کیا ہے کہ 

 "يحمل على انه اتى قبرها بعد ان جاء من بدر"

"یعنی بدر سے واپس تشریف لانے کے بعد آنجنابﷺ قبر رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر پہنچے اور یہ کوائف و حالات پیش آئے ۔ ملاحظہ ہو

(طبقات ابن سعد صفحہ 25، جلد8 تحت ذکر رقیهؓ)

(الاصابة لابن حجر صفحہ 297، جلد4 تحت رقیہؓ)

(شرح مواهب اللدنيه للزرقانی صفحہ 199،جلد3 تحت رقیهؓ)

شاید شیعہ علماء بھی یہی توجیہہ پسند کریں گے یہ ان کی اپنی صواب دید پر موقوف ہے ۔ (منہ )

"یعنی جب رسول خداﷺ کی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نے وفات پائی تو آنجنابﷺ نے اس کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے سلف صالح عثمان بن مظعونؓ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ تم لاحق ہو اور حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا(اپنی بہن) حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی قبر کے کنارے بیٹھی رو رہی تھیں اور ان کے آنسو قبر میں گر رہے تھے اور جناب رسول خداﷺ قبر کے کنارے کھڑے ہوئے اپنی نور چشم فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے آنسو صاف فرما رہے تھے اور دعا کر رہے تھے کہ مجھے رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی ناتوانی اور ضعف معلوم تھا اور حق تعالیٰ سے میں نے درخواست کی کہ قبر کی گرفت سے رقیہ کو کو امان دے دیں"

حاصل کلام

صفحہ 8 از 12