سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 7 از 12

بعض لوگ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر آنکھیں بند کر کے اعتراض قائم کرتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے اور بدر کے فضائل سے محروم رہے۔ تو اس کے متعلق مندرجہ بالا روایات نے واضح کر دیا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ آنحضرتﷺ کی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تیمارداری کی وجہ سے غزوہ ہذا میں شریک نہ ہو سکے اور یہ صورت حال رسالت مآبﷺ کے فرمان کے تحت پیش آئی تھی اور پھر نبی کریمﷺ نے اس تخلف کے ہوتے ہوئے آپ کو ان غنائم کے حصوں اور اجر و ثواب میں برابر کا شریک قرار دیا تھا۔ فلہٰذا حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ ان فضائل اور ثوابِ بدر سے محروم نہیں رہے۔ مسئلہ ہذا اگر مزید سمجھنا مطلوب ہو تو اس واقعہ کو سامنے رکھیں کہ غزوہ تبوک میں جس کے فضائل کتاب وسنت میں بیان فرمائے گئے ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ شامل نہیں ہو سکے تھے اور مدینہ طیبہ میں ٹھہرے رہے تھے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا مدینہ شریف میں قیام اور غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونا بھی فرمان نبویﷺ کے تحت تھا۔ بالکل اسی طرح حضرت عثمانؓ کی غزوہ بدر میں عدم شرکت بھی اسی نوعیت کی ہے مختصر یہ ہے کہ جیسے علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ کی ذات اس مسئلہ میں قابل طعن نہیں ہے اسی طرح حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ بھی اس مقام میں لائق اعتراض نہیں ہیں ۔

وفات رقيہ رضی اللہ عنہا

جنگ بدر سن 2 ہجری میں رمضان المبارک میں پیش آیا تھا۔ سردار دو جہاںﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے اِدھر حضرت رقیه رضی اللّٰہ عنہا کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آنجنابﷺ کی غیر موجودگی میں ان کا انتقال ہو گیا پھر ان کے کفن و دفن کی تیاری کی گئی اور یہ تمام امور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے سر انجام دیئے ۔

حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر جب زید بن حارثہؓ اور عبد اللّٰہ بن رواحہؓ مدینہ شریف پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے کے بعد مٹی جھاڑ رہے تھے ۔

تاریخ وفات

اس مقام میں علماء فرماتے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے سترہ ماہ گزرنے کے بعد حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔

(طبقات ابن سعد صفحہ 25-24، جلد 8 تحت ذکر حضرت رقیهؓ)

 (تفسير القرطبي صفحہ 242، جلد 14 تحت آيته قل لأزواجك وبناتك)

اور بعض علماء نے اس طرح ذکر کیا ہے کہ ہجرت کو ایک سال دس ماہ گزرنے کے بعد حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی وفات حسرت آیات ہوئی تھی۔ 

(اناللّٰہ وانا اليه راجعون) 

(مسند ابی داؤد الطیالسی صفحہ 351 تحت مسندات يوسف بن مہران عن ابن عباس - طبع اول حیدر آباد دکن)

 (منحة المعبود في ترتيب مسند الطیالسی ابی داؤد صفحہ 159، جلد اول)باب الرخصة فى البكاء بغير نوح وصياح - (طبع مصر)

(طبقات ابن سعد صفحہ 24، جلد 8 تحت ذكر رقیهؓ)

(وفاء الوفاء للسمهودی صفحہ 895، جلد 3 تحت قبر رقیه بنت الرسولﷺ.)

بین کرنے اور واویلا کرنے کی ممانعت

چند ایام کے بعد سردار دوعالمﷺ مدینہ طیبہ میں پہنچے تو جنت البقیع میں قبر رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر تشریف لے گئے۔ اور اس موقع پر آنحضرتﷺ کی آمد کی بنا پر مزید عورتیں بھی جمع ہو گئیں اور حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر رونے لگیں جب عورتوں کا زیادہ آواز بلند ہوا تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ان کو منع کیا اس وقت جناب رسالت مآبﷺ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو سختی کرنے سے روک کر عورتوں سے ارشاد فرمایا کہ شیطانی آواز کرنے سے باز رہو اور ارشاد فرمایا کہ جب تک آنکھ اور قلب سے رونا صادر ہو تو یہ علامت رحمت اور شفقت کی ہے لیکن جب زبان سے واویلا اور ہاتھ سے جزع و فزع ظاہر ہو تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔

وبكت النساء على رقية فجعل عمر رضی اللّٰہ عنہ ينهاھن يضربهن فقال رسول اللّٰہﷺ مه يا عمر رضی اللّٰہ عنہ قال ثم قال اياكن ونعيق الشيطان فأنه مهما يكون من العين والقلب فمن الرحمة وما يكون من اللسان واليد فمن الشيطان

(ذخائر العقبي للمحب الطيري صفحہ 163 تحت ذكر وفاتھا)

سیدہ فاطمہ کا وفات رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر گریہ کرنا

اس موقعہ پر حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا اپنے والد شریف کے ساتھ قبر رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر حاضر ہوئیں اور اپنی پیاری بہن کے غم میں ان کی قبر کے کنارے پر بیٹھ کر رونے لگیں تو نبی کریمﷺ ازراہ شفقت فاطمتہ الزہراؓ کے چہرے سے آنسو کپڑے سے صاف کرنے لگے اور انہیں تسلی دی اور صبر و سکون کی تلقین فرمائی۔

قال وجعلت فاطمة رضى اللّٰہ عنها تبكى على شفير قبر رقيہ رضی اللّٰہ عنہا فجعل رسول اللّٰہﷺ يمسح الدموع وجهها باليد او قال بالثوب

 (منحة المعبود في ترتيب مسند الطيالسي ابی داؤد صفحہ 159 باب الرخصة فى البكاء على الميت بغير نوح)

(السنن الكبرى اللبيهقى صفحہ 71، جلد 4 كتاب الجنائز تحت باب سياق اخبارٍ تدل على جواز البكاء بعد الموت)

(طبقات ابن سعد صفحہ 24، جلد8 تحت ذكر رقيہؓ طبع ليدن)

(وفاء الوفاء السمهودى صفحہ 895، جلد 3ت حت قبر رقيہؓ بنت الرسولﷺ)

ایک خصوصی ارشاد

صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا جب انتقال ہو گیا تو رسالت مآبﷺ نہایت مغموم اور پریشان تھے اور پریشانی کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ عدم موجودگی میں ان کا انتقال ہوا تھا اور آنجنابﷺ ان آخری لمحات میں اور جنازہ یا کفن و دفن میں شمولیت نہیں فرما سکے تھے۔ جب آپ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے ہیں تو مزار رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر تشریف لے گئے وہاں پر آپ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حق میں تحسر کے کلمات ارشاد فرماتے کہ :

" الحقى بسلفنا عثمان ابن مظعون "

(طبقات ابن سعد صفحہ 24-25،جلد 8 تحت تذکره راقيہؓ)

(الاصابة صفحہ 297، جلد4 تحت ذکر رقیهؓ)

(الزرقاني شرح مواهب صفحہ 199، جلد3 تحت رقیهؓ)

(وفاء الوفاء از نور الدين السمہودی صفحہ 894، جلد3 تحت قبر رقیہ بنت رسول اللّٰہﷺ)

 یعنی اے رقیہ! تم ہمارے سلف صالح عثمان بن مظعونؓ کے ساتھ لاحق ہو اور ان کے ساتھ جا کر شامل ہو۔

سیدنا عثمان بن مظعونؓ کا اجمالی تعارف

صفحہ 7 از 12