سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 6 از 12

(كنز العمال صفحہ 149، جلد 6 روایت 2442 فضائل عثمانؓ)

یہاں سے معلوم ہوا کہ آنجنابﷺ کی اپنی صاحبزادیوں کے ساتھ کمال شفقت تھی اور وقتاً فوقتاً آنجنابﷺ ان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے نیز ان صاحبزادیوں کے اپنے ازواج کے ساتھ نہایت شائستہ تعلقات تھے اور وہ اپنے زوج کی خدمت گزار بیبیاں تھیں اور اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ زوجہ اپنے خاوند کی بہتر طریق سے خدمت بجا لائے۔

 نیز معلوم ہوا کہ سردار دوعالمﷺ حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ عمدہ روابط رکھتے تھے اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اخلاق میں عثمان رضی اللّٰہ عنہ میرے زیادہ مشابہ ہیں۔ یہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے حق میں بہت بڑی عظمت ہے جو زبان نبوت سے بیان ہوئی۔  

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری

مدینہ طیبہ میں اقامت کے دوران سن2 ہجری میں غزوہ بدر پیش آیا جس میں سردار دو جہاںﷺ بنفس نفیس خود تشریف لے گئے تھے اس دوران آپﷺ کی صاحبزادی حضرت حضرت رقیہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا اتفاقاً بیمار پڑ گئیں اور بیماری کے متعلق علماء لکھتے ہیں کہ "خسرہ" کی بیماری لاحق ہوئی تھی ۔ اُدھر غزوہ بدر کی تیاری تھی اور آنجنابﷺ کیساتھ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم بھی غزوہ بدر میں شمولیت کے لئے کی تیار تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو آنجنابﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رقیہؓ بیمار ہیں آپ رضی اللّٰہ عنہ ان کی تیمارداری کے لئے یہاں مدینہ میں ہی مقیم رہیں اور ساتھ ہی آنحضرتﷺ نے اپنے خادم حضرت اسامہ بن زیدؓ کو مدینہ شریف میں ٹھہرنے کا حکم فرما دیا۔ اندریں حالات حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کا تقاضا تھا کہ میں بھی غزوہ بدر میں شمولیت کی سعادت حاصل کروں تو اس وقت آنجنابﷺ نے ارشاد فرمایا:۔

ان لک اجر رجل ممن شھد بدرًا وسھمه

(بخاری شریف جلد اول صفحہ 523 تحت مناقب عثمانؓ)

 (بخاری شریف جلد اول صفحہ 442 باب اذا بعث الامام رسولاً في حاجته)

(بخاری شریف جلد ثانی صفحہ 582 تحت باب قولہ اللّٰہ تعالیٰ)

ان الذين تولوا منكم يوم التقٰى الجمعن

 " یعنی آپ رضی اللّٰہ عنہ کیلئے بدر میں حاضر ہونے والوں کے برابر اجر ہے اور غنائم میں سے حصہ بھی آپکے لئے ہے۔"

سیدنا عثمانؓ کا بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مساوی حصہ

علماء نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو نبی کریمﷺ نے اپنے فرمان کے ذریعے بدر کی شمولیت سے روکا تھا تو گویا حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ فرمان نبویﷺ کے تحت حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تیمار داری کے لئے رکے تھے اور پھر حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو غزوہ بدر کے غنائم میں سے دیگر غانمین اور مجاہدین کے ساتھ باقاعدہ حصہ دیا گیا تھا۔ اور غزوہ بدر میں شمولیت کے ثواب کے متعلق بھی زبان نبوت سے صریح طور پر حکم ہوا کہ عثمان رضی اللّٰہ عنہ اس اجر اور ثواب میں بھی برابر کے شریک ہیں گویا حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تیمار داری کی خدمت کا درجہ جہاد کے برابر قرار دیا۔ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حق میں یہ بہت بڑی عظمت ہے جو زبان نبوت سے صادر ہوئی ۔ یہ فضیلت کہ ان کی خدمت جہاد غزوہ بدر کے برابر شمار ہوئی۔ حضورﷺ کی صاحبزادیوں میں صرف حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا ہی اعزاز ہے۔

حافظ نور الدین الہیثمی نے "مجمع الزوائد" میں لکھا ہے کہ:

و تخلف عن بدر عليها بأذن رسول اللّٰہﷺ وضرب له رسول اللّٰہﷺ سهمان اهل بدر و قال و اجرى يا رسول اللّٰہ قال واجرك

(مجمع الزوائد للهيثمي صفحہ 217، جلد، 9)

(تحت باب ما جاء في رقية بنت رسول اللّٰہﷺ)

یعنی نبی کریمﷺ کے فرمان کے باعث حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ غزوہ بدر میں پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے ذمہ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تیمار داری تھی پھر آنجنابﷺ نے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے لئے بدر کے غنائم کے حصوں میں برابر حصہ مقرر فرمایا اور جب حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللّٰہ ! میرے اجر اور ثواب کے متعلق کیا حکم ہے ؟ تو ارشاد نبویﷺ ہوا کہ تمہارا اجرو ثواب بھی باقی اہل بدر کے ساتھ برابر ہے۔

 مضمون ہذا بہت سے مصنفین نے تحریر کیا ہے، اہل تحقیق مندرجہ ذیل مقامات کی طرف رجوع کر کے مزید تسلی کر سکتے ہیں۔

(اسد الغابه لا بن اثیر جزری صفحہ 456، جلد5 تخت ذکر رقیہؓ)

(البدايه لابن كثير صفحہ 308-309، جلد 5 فصل في اولاد النبیﷺ)

(البداية والنهاية صفحہ 347، جلد3 فصل في ذكر جمل من الحوادث)

(کنز العمال صفحہ 382 ،جلد6 تحت فضائل ذی النورین عثمان بن عفانؓ روایت 5903)

شیعہ کی طرف سے تائید

شیعہ علماء نے بھی یہ مسئلہ اسی طرح ذکر کیا ہے اور مزید یہ تشریح بھی کر دی ہے کہ آٹھ افراد قتال میں شامل نہیں ہو سکے تھے لیکن پھر بھی ان کے لئے آنجنابﷺ نے غنائم سے برابر حصہ عنایت فرمایا تھا۔ ان افراد میں سے ایک حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ بھی تھے جو غزوہ بدر میں حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی بیماری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے اور حضور اقدسﷺ نے ان کے لئے غنائم میں سے برابر کا حصہ مقرر فرمایا۔ اس وقت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ ! میرے اجر کا کیا ہوا ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارا اجر تمہیں ملے گا۔ 

اہل علم کی تسلی کے لئے شیعہ مورخ مسعودی کی عبارت بعینہ پیش خدمت ہے:

وضرب لثمانية نفر بأسهمهم لم يشهدوا القتال و هم عثمان بن عفان تخلف عن بدر لمرض رقية بنت رسول اللّٰہ ﷺ واله فضرب له بسهمه فقال يا رسول اللّٰہ واجرى قال واجرک۔

(التنبیہ والاشراف صفحہ 205 للمسعودی للشیعی تحت ذکر السنة الثانیة من الھجرة)

تنبیہ

صفحہ 6 از 12