سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 5 از 12

بلاذری وغیرہ علماء نے ذکر کیا ہے جب صاحبزادہ عبد اللّٰہ بن عثمانؓ کا انتقال ہوا سردار دو جہاںﷺ نہایت غمناک ہوئے اسی پریشانی کی حالت میں آنجنابﷺ نے عبداللّٰہ کو اٹھا کر گود میں لیا آپ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں اور فرمایا کہ " بے شک اللّٰہ تعالیٰ اپنے رحیم و شفیق بندوں پر رحم فرماتا ہے۔" اس کے بعد کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی پھر دفن کرنے کے لئے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ قبر میں اترے اور ان کو دفن کر دیا ۔

"واما عبد اللّٰہ بن عثمان رضی اللّٰہ عنہ فان رسول اللّٰہﷺ وضعه في حجرهٖ ودمعت عليه عينه وقال انما يرحم اللّٰہ من عبادہٖ الرحماء" وصلى عليه رسول اللّٰہﷺ ونزل عثمان في حضرتهٖ

 (انساب الاشراف للبلاذری صفحہ 401،جلد1 تحت ذكر بنات رسولﷺ)

(تاريخ الخميس للديار البكري صفحہ 275، جلد1 تحت ذكر رقیهؓ)

 اس تمام واقعہ میں نبی کریمﷺ شریک غم تھے اور اپنے سامنے اپنے نواسے کے حق میں ہدایات فرمائیں اور ان کے موافق یہ سارے انتظامات مکمل ہوئے۔

انسان کا اپنی اولاد سے فطری طور پر قلبی تعلق ہوتا ہے ۔ جب بھی اولاد پر مصیبت آتی ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے پھر صبر و سکون کرنے سے ہی یہ مرحلہ طے ہوتا ہے اس موقعہ پر اسی طرح کیا گیا۔

اُمِّ عیاش کا ذکر

سردار دو عالمﷺ کی ایک خادمہ تھیں ان کو اُمِ عیاش کہتے تھے۔ نبی اقدسﷺ کی خدمت گزاریں میں لگی رہتی تھیں اور خانگی امور سر انجام دیتی تھیں ۔ اُمِ عیاش خود کہتی ہیں کہ میں بعض اوقات نبی اقدسﷺ کو وضو کراتی تھی در آنحالیکہ میں کھڑی ہوتی تھی اور آنجنابﷺ بیٹھے ہوتے تھے۔

"قالت كنت اوضی رسول اللّٰہﷺ وانا قائمة وهو قاعد" اخرجها الثلاثة

(اسد الغابه لابن اثیر الجزری صفحہ 607، جلد 5 تحت ام عیاش)

ام عیاش کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ رسالت مآبﷺ نے اُمِ عیاش بطور ہدیہ کے اپنی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو عنایت فرمائی تھی۔ ام عیاش حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی خدمت گزاری کیلئے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے گھر رہتی تھیں اورحضرت رسالت مآبﷺ کی طرف سے خاص عنایت کریمانہ تھی کہ ایک خادمہ خصوصی طور پر حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو عنایت فرما دی تھی تاکہ صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کیلیے خانگی کام کاج میں سہولت رہے۔

بعثها مع ابنته الى عثمان رضی اللّٰہ عنہ

(اسد الغابه لابن اثیر الجزری صفحہ 607، جلد 5 تحت ام عیاش)

آنجنابﷺ کی طرف سے ھدیه ارسال کیا جانا

سردار دو جہاںﷺ کے ایک خادم اسامہ بن زیدؓ تھے جو زید بن حارثہ کے لڑکے تھے اور آنجنابﷺ کے خاص خدام میں شمار ہوتے تھے۔ اسامہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سردار دو عالمﷺنے مجھے ایک بار گوشت کا پیالہ بھر کر عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کے گھر پہنچا دیں پس میں یہ ہدیہ لے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے گھر پہنچا۔ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ اور رقیہ رضی اللّٰہ عنہا وہاں تشریف فرما تھے میں نے وہ ہدیہ حضرت رسالت مآبﷺ کی طرف سے ان دونوں کی خدمت میں پیش کیا۔ اور اسامہؓ کہتے ہیں میں نے ایسا عمدہ جوڑا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میاں بیوی دونوں حسن و جمال میں بڑے فائق تھے ۔ 

عن اسامة بن زيد قال بعثني رسول اللّٰہﷺ بصحفة فيها لحم إلى عثمان قدخلت عليه فاذا هو جالس مع رقية ما رايت زوجا احسن منها (اخرجه البغوى في معجمهٖ)

(ذخائر العقبي لاحمد بن عبد اللّٰہ المحب الطبرى صفحہ162 تحت ذکر من تزوجها رقیه بنت رسول اللّٰہﷺ)

(كنز العمال صفحہ 380، جلد6(بحواله اللغوى - كر) طبع اول تحت فضائل ذی النورین عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک ہدیہ

اسی طرح ایک دوسرے موقعہ پر حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے شہد اور نقی سے مرکب عمدہ طعام تیار کیا (جس کو عربی میں الخبیص کہتے تھے)

 قولہ الخبیص

 بعض اہل لغة کہتے ہیں کہ کھجور اور گھی سے مرکب ایک طعام تیار کیا جاتا تھا۔ (منہ)

وہ آپ رضی اللّٰہ عنہ نے آنجنابﷺ کی خدمت اقدس میں ارسال کیا۔ اس وقت آنجنابﷺ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر پر قیام فرما تھے ۔جس وقت یہ ہدیہ پہنچا تو آنجنابﷺ گھر میں موجود نہیں تھے جب آپﷺ خانہ اقدس میں تشریف لائے تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا نے وہ ہدیہ پیش کیا۔ آنحضرتﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ ہدیہ کس نے ارسال کیا ہے؟ تو اہل خانہ نے عرض کیا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی طرف سے یہ پہنچا ہے۔ ام المومنین حضرت سلمہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس وقت آنجنابﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی کہ اے اللّٰہ ! عثمان رضی اللّٰہ عنہ تجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو بھی ان سے راضی ہو۔

وقال ليث بن ابی سلیم : اول من خبص الخبيص عثمان خلط بين العسل والنقى ثم بعث بلهم الى رسول اللّٰہﷺ إلى منزل أم سلمة فلم يصادفه فلما جاء وضعوه بين يديه فقال من بعث هذا ؟ قالوا عثمان : قالت فرفع يديه إلى السماء فقال اللهم ان عثمان يترضاك فارض عنه۔

(البدايه لابن كثير صفحہ 212،جلد 7 تحت روایات فضائل عثمانؓ)

خادمہ کا عنایت فرمانا اور ہدایا کا باہمی ارسال کیا جانا وغیرہ کے واقعات بتلا رہے ہیں کہ آنجنابﷺ کی توجہات کریمانہ اپنی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور اپنے داماد کی طرف مبذول رہتی تھیں اور یہ شائستہ تعلقات دائما قائم تھے۔

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی اپنے خاوند کی خدمت گزاری

سردار دو جہاںﷺ اپنی صاحبزادی کے ہاں بعض اوقات تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان کے احوال کی خیریت دریافت فرماتے تھے۔

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنجنابﷺ اپنی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اس وقت وہ اپنے زوج حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے سر کو دھو رہی تھیں ۔ تو آنجنابﷺ نے اس خدمت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا "اے بیٹی! اپنے خاوند عثمانؓ کے ساتھ اچھا سلوک رکھا کریں اور حسن معاملہ کے ساتھ زندگی گزاریں۔ عثمانؓ میرے اصحاب میں سے خلق اخلاق میں میرے ساتھ زیادہ مشابہ ہیں" ۔ 

يا بنية احسنى الٰى ابي عبد اللّٰہ فانه اشبه اصحابی بی خلقا (طب عن عبد الرحمٰن بن عثمان القرشي) ان رسول اللّٰہﷺ دخل علٰى ابنتہ وھی تغسل رأس عثمان رضی اللّٰہ عنہ

صفحہ 5 از 12