سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 4 از 12

بعض لوگوں نے ہجرت حبشہ کے مسئلہ میں خواہ مخواہ ایک شبہ پیدا کر لیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ ہجرت حبشہ میں صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نہیں تھیں بلکہ رملہ بنت شیبہ تھی ۔

اس کے متعلق اتنا بیان کر دینا کافی ہے کہ جس مقام سے یہ اعتراض اخذ کیا گیا ہے وہیں اسکا جواب بھی موجود ہے یعنی اس روایت کو علماء نے دلائل کے ساتھ رد کر دیا ہے۔

وہ قول متروک ہے۔ صحیح واقعات کے خلاف پایا گیا ہے اور اقوال متروکہ کو قبول نہیں کیا جاتا۔ فلہٰذا صحیح چیز یہی ہے کہ ہجرت حبشہ میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا تھیں جیسا کہ جمہور شیعہ و سنی علماء کے حوالہ جات بالا میں نقل کیا گیا ہے۔

حبشہ سے واپسی

مہاجرین حبشہ نے حبشہ کے علاقہ میں ایک مدت گزاری پھر وہاں سے مکہ شریف کی طرف واپس ہوئے۔ ان حضرات میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ بھی اپنی اہلیہ (حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا) سمیت واپس ہوئے۔ اسی دوران نبی اقدسﷺ مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے جاچکے تھے ہجرت حبشہ کے بعد پھر حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ ہجرت مدینہ کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی اہلیہ (حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا) سمیت مدینہ شریف کی طرف دوسری ہجرت کی۔

والذي عليه أهل السيران عثمان رجع إلٰى مكة من حبشة مع من رجع ثم هاجر باهلهٖ الى المدينة 

(الاصابة لابن حجر صفحہ 298، جلد 4 تحت ذكر رقیهؓ)

(مجمع الزوائد للهيثمي صفحہ 217، جلد9 باب ما جاء في رقية بنت رسول اللّٰہﷺ)

(ذخائر العقبي ( للمحب الطبری) صفحہ 162 لاحمد بن عبد اللّٰہ الطبری تحت ذكر من تزوج رقية بنت رسولﷺ)

دو بار ہجرت کا اعزاز

اس سلسلہ میں یہ چیز قابل ذکر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ اپنی اہلیہ محترمہ سمیت دو ہجرتوں کے مہاجر ہیں یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنے راستے میں دین کی خاطر دوبار ہجرت نصیب فرمائی ایک بار انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی اور دوسری مرتبہ مکہ شریف سے مدینہ کی طرف مشہور ہجرت کا شرف حاصل ہوا، دوبار ہجرت کی فضیلت ایک بہت بڑا شرف ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو نصیب فرمایا۔ اس سلسلہ میں حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا بھی ان دو ہجرتوں سے مشرف ہوئیں اور ان کو یہ عظیم فضیلت حاصل ہوئی۔ دو بار ہجرت کی فضیلت اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں حضرت اسماء بنت عمیسؓ کا یہ واقعہ مذکور ہے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو کہہ دیا کہ ہم نے (مکہ سے مدینہ شریف) کی طرف ہجرت کرنے میں تم سے سبقت کی پس ہم رسول خداﷺ کے ساتھ تم سے زیادہ حقدار ہیں یہ سن کر حضرت اسماء غصہ میں آگئیں اور رسالت مآبﷺ کی خدمت اقدس میں جاکر شکایت کی کہ عمر بن خطابؓ نے یوں کہتے ہیں۔ تو آنجنابﷺ نے تسلی دلائی اور فر مایا کہ :

" له ولا صحابه هجرة واحدة ولكم انتم أهل السفينة هجرتان "

" یعنی اس کے اور اس کے ساتھیوں کے لئے ایک ہجرت ہے اور اہل السفینة“ تمہارے لئے دو عدد ہجرتیں ہیں تمہارے لئے دو گنا ثواب ہے ۔

  1. ہجرت حبشہ میں کشتیوں پر سواری پیش آئی تھی۔ کشتیوں کے بغیر اس زمانہ میں ارضِ حبشہ کی طرف سفر نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے مہاجرین حبشہ کہ " اہل سفینہ " سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
  2. مسلم شریف جلد ثانی صفحہ 304، جلد 2 باب فضائل جعفر و اسماء بنت عمیسؓ۔

اولاد رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا ذِکر

یہاں اب حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی اولاد کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ علماء نے لکھا ہے کہ حبشہ میں ان کے ہاں ایک نا تمام بچہ پیدا ہوا تھا پھرا س کے بعد ان کا دوسرا بچہ حبشہ ہی میں ہوا جس کا نام "عبداللّٰہ" رکھا گیا اور اسی نام کی نسبت سے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی کنیت "ابو عبد اللّٰہ" مشہور ہوئی۔ اپنے والدین کے ساتھ نواسہ رسول عبداللّٰہ مدینہ شریف پہنچے۔

 اہل سیر لکھتے ہیں کہ عبداللّٰہ جب قریباً چھ برس کی عمر کو پہنچے تو ان کی آنکھ میں ایک مرغ نے ٹھونگ لگا کر زخم کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کا چہرہ متورم ہو گیا تھا پھر وہ ٹھیک نہ ہو سکا اسی حالت میں وہ انتقال کر گئے ۔

یہ اپنی والدہ کے بعد جمادی الاولٰی سن 40ہجری میں مدینہ طیبہ میں فوت ہوئی۔ اس کے بغیر حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی کوئی اور اولاد نہیں ہوئی۔

وكانت قد اسقطت من عثمان سقطا ثم ولدت بعد ذالك عبد اللّٰہ وكان عثمان يكنى به في الاسلام و بلغ سنين فنقره ديك في وجهه فمات ولم تلد له شيئا بعد ذالك 

 (تفسير القرطبي صفحہ 242، جلد140 طبع مصر تحت آيتة قل لا زواجك وبناتك۔۔۔۔ الخ)

(اسد الغابة صفحہ 456، جلد5 تحت ذكر رقيهؓ)

(طبقات ابن سعد صفحہ 24، جلد8 تحت رقیهؓ)

 (البدایة صفحہ 308، جلد 5 فصل اولاد نبوی ﷺ)

(طبقات ابن سعد صفحہ 37، جلد3 تحت عثمان بن عفانؓ)

اور شیعہ علماء نے بھی حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے لڑکے عبد اللّٰہ (جو حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا سے متولد تھے) کے متعلق اسی طرح تحریر کیا ہے کہ وہ صغير السن تھے کہ ایک مرغ نے اس کی آنکھوں میں چونچ سے زخم کر ڈالا اس کی وجہ سے وہ بیمار پڑ گئے حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی۔

شیخ نعمة اللّٰہ الجزائری شیعی مجتہد لکھتا ہے کہ:

"فولدت له عبد اللّٰہ ومات صغيرا نقره ديك على عينيه فمرض ومات" ۔۔۔۔ الخ

(الانوار النعمانية للشيخ نعمه اللّٰہ الجزائری صفحہ 80،جلد1 تحت نور مرتضوی)

(الانوار النعمانية صفحہ367، جلد1 تحت نور مولودی)

اور مشہور مورخ مسعودی شیعی نے یہاں اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ عثمان رضی اللّٰہ عنہ بن عفان کے لئے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا سے دو عدد لڑکے تھے ایک لڑکے کو عبد اللّٰہ اکبر کہتے تھے اور دوسرے کو عبداللّٰہ اصغر دونوں کی والدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا تھیں۔

"وكان له من الولد عبد اللّٰہ الاكبر و عبد اللّٰہ الاصغر امها رقية بنت رسول اللہﷺ"

(مروج الذهب للمسعودي صفحہ 341، جلد2 تحت ذكر عثمان ذكر نسبه ولمع من اخبارهٖ وسيرهٖ)

صاحبزادہ عبداللّٰہ کا جنازہ اور دفن

صفحہ 4 از 12