سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 3 از 12

 اس دوران نبی اقدسﷺ نے ان لوگوں کو جو مسلمان ہو چکے تھے یہ مشورہ دیا کہ حبشہ کی ولایت کی طرف اگر تم سفر اختیار کر لو تو بہتر رہے گا۔ اسلئے کہ ارضِ حبشہ کا بادشاہ ایسا شخص ہے جو کسی پر ظلم نہیں کرتا وہاں لوگ آرام و سکون سے زندگی بسر کر سکیں گے وہاں لوگوں پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی اور وہ پُرامن علاقہ ہے۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی کشادگی کی صورت فرما دیں گے۔

 اس وقت نبی کریمﷺ کے اصحاب میں سے چند لوگ حبشہ کی ولایت کی طرف ہجرت کے ارادہ سے نکل پڑے ۔ یہ لوگ اہل مکہ کے فتنہ سے بچنا چاہتے تھے اور اللّٰہ کے دین کو بچانے کے لئے گھر سے نکل پڑے تھے اور یہ اسلام میں پہلی ہجرت تھی جو اہل اسلام کو پیش آئی ۔

 قرآن مجید میں مہاجرین کے حق میں بہت سی فضیلت کی آیات آئی ہیں ان میں سے ایک یہاں درج کی جاتی ہے۔

والذين هاجروا في اللّٰہ من بعد ما ظلموالنبؤنهم في الدنيا حسنة والاجرالاخر اکبر۔۔۔ الخ پاره 14 قریب نصف

”یعنی جن لوگوں نے ستم رسیدہ ہونے کے بعد اللّٰہ کے راستے میں ہجرت کی اور ترک وطن کیا ان لوگوں کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ......... الخ“

 یہ آیاتِ قرآنی عام ہیں اور ہر اس ہجرت کو شامل ہیں جو دین کی خاطر ہو۔ سو مہاجرین حبشہ بھی ان کا مصداق ہیں اور وہ ان فضیلتوں کے حامل ہیں جو مالک کریم نے مصائب و شدائد پر مرتب فرمائیں اور انہیں بڑے انعامات سے نوازا۔ 

اور جو حضرات اس ہجرت میں مکہ شریف سے نکلے تھے ان میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقية رضی اللّٰہ عنہا بنت رسولﷺ بھی تھیں مسلمانوں میں اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کا یہ پہلا قافلہ تھا اور نبوت کے پانچویں سال میں ہجرت حبشہ کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اس مفہوم کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ نے مندرجہ الفاظ میں ذکر کیا ہے:

" قال لهم لو خرجتم إلى الارض الجثة أن بها ملكا لا يظلم عنده احد وهي أرض صدقٍ حتى يجعل اللّٰہ لكم فرجاً مما انتم فيه فخرج عند ذالك المسلون من اصحاب رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم الى ارض الحبشة مخافة الفتنة وفرارا إلى اللّٰہ بدينهم فكانت أول هجرة كانت في الاسلام فكان أول من خرج من المسلمين عثمان بن عفان وزوجته رقية بنت رسول صلى اللّٰہ عليه وسلم ۔

(البداية والنهاية لابن كثير جلد 3، صفحہ 66 تحت باب الهجرة من هاجر....... من مكة إلى أرض الحبشة)

 (تفسير القرطبي جلد 14، صفحہ 242 تحت آیتہ قل لازواجک وبناتک۔۔۔۔۔۔الخ)

سردار دو جہاںﷺ کی صاجزادیوں میں سے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو ہجرت حبشہ کا شرف پہلے حاصل ہوا۔ ان کو اپنے خاوند کی معیت میں یہ سعادت نصیب ہوئی۔ دین کی حفاظت کی خاطر سفر کے مصائب برداشت کرنا کوئی معمولی شرف نہیں ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے۔

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے احوال کی دریافت

ہجرت حبشہ کے بعد ان ہجرت کرنے والوں کی خیر وعافیت کے احوال ایک مدت تک معلوم نہ ہو سکے۔ نبی اقدسﷺ کو ان کے متعلق پریشانی لاحق تھی۔ اسی دوران قریش کی ایک عورت حبشہ کے علاقہ سے مکہ شریف پہنچی نبی کریمﷺ نے اس سے ہجرت کرنے والوں کے حال احوال دریافت فرمائے تو اس نے بتلایا کہ اے محمدﷺ ! آپ کے داماد اور آپ کی دختر کو میں نے دیکھا ہے۔ تو رسالت مآبﷺ نے فرمایا کہ کیسی حالت پر دیکھا ہے؟ تو اس نے ذکر کیا کہ عثمان رضی اللّٰہ عنہ اپنی بیوی کو ایک سواری پر سوار کیئے ہوئے لے جا رہے تھے اور خود سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے تو اس وقت نبی اقدسﷺ نے جملہ دعائیہ فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان دونوں کا مصاحب اور ساتھی ہو !! حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ ان لوگوں میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی ۔

خرج عثمان بن عفان و معه امراته رقیه بنت رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم الى ارض الحبشة فأبطا على رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خبر هما فقدمت امرأة من قريش فقالت : : يا محمد ! قدرايت ختنك معہ امراته قال : علی ای حال رائيتها ؟ قالت رايته قد حمل امراته على حمار من هذه الدبابه وهو يسوقها فقال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم ان عثمان اول من هاجر بأهله بعد لوط عليه السلام۔

(البداية لابن كثير صفحہ66، 67جلد ثالث)

(تحت باب هجرة - من هاجر ....... من مكة إلى أرض الحبشة)

(اسد الغابة لابن اثیر جزری صفحہ 457، جلد5 تحت ذكر رقيہؓ)

 (ذخائر العقبي للمحب الطبرى صفحہ 63، تحت ذكر هجرتها)

(شرح مواهب الدنية للزرقاني صفحہ 198، جلد 3 تحت رقیہؓ)

(تاريخ الخميس صفحہ 275، جلد1 تحت رقیہ بنت رسول اللّٰہﷺ)

(كنز العمال صفحہ 381 ، جلد6 روایت 5885 بحوالہ طب۔ ق - فی - کو) طبع اول تحت فضائل عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ)

شیعہ علماء کی طرف سے تائید

شیعہ علماء نے ہجرت حبشہ کا واقعہ اس طرح تحریر کیا ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں کفار مکہ سے روپوش ہو کہ یہ حضرات حبشہ کی طرف روانہ ہو گئے تھے ان میں (حضرت) عثمان بن عفانؓ بھی تھے اور ان کی اہلیہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا بنت رسول خداﷺ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

" پس یازده مرد و چهار زن خفیه از اہل کفر گریختند و بجانب حبشہ رواں شدنداز جمله آنها عثمان بودورقیه دختر حضرت رسول که زن او بود "

(حیات القلوب از ملا باقر مجلسی صفحہ 330 جلد 2 باب 25 در بیان ہجرت حبشہ)

 (الأنوار النعمانية صفحہ 367، جلد1 باب1، تحت نور مولودی)

 اسلام کے ابتدائی دور میں اہل اسلام پر بڑی بڑی آزمائشیں آئی تھیں ان میں ہجرت حبشہ بھی ایک مستقل آزمائش تھی۔ مہاجرین حبشہ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کا بمع اپنی اہلیہ (حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا) کے شمار ہونا مسلمات میں سے ہے۔ شیعہ و سنی علماء نے اس مسئلہ کو اپنے اپنے انداز میں بصراحت درج کیا ہے چنانچہ چند ایک حوالہ جات ہم نے دونوں جانب سے پیش کر دیے ہیں تاکہ دونوں فریق کو تسلی ہو سکے ۔

تنبيہ

صفحہ 3 از 12