سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 2 از 12

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللّٰہ اور دیگر علماء نے لکھا ہے کہ فتح مکہ کے روز عتبہ بن ابی لہب اور اور اس کا بھائی معتب بن ابی لہب خوفزدہ ہو کر مکہ سے بھاگ کر کسی دوسرے مقام پر چلے گئے تھے۔ نبی اقدسﷺ نے حضرت عباس ابن عبد المطلب سے دریافت فرمایا کہ تیرے بھتیجے کہاں ہیں تو حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللّٰہ ! وہ خوف زدہ ہو کر کسی دوسری جگہ نکل گئے ہیں تو آنجنابﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو بلا لاؤ چنانچہ حضرت عباس تشریف لے گئے اور عتبہ اور معتب دونوں کو بلا لائے۔ وہ دونوں آنجنابﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے اور یہ بھی ساتھ لکھا ہے کہ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین میں یہ دونوں بھائی شریک ہوئے اور غنائم سے حصہ پایا۔

نیز علماء فرماتے ہیں کہ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو غزوہِ حنین میں ثابت قدم رہے تھے۔ اور اس کے بعد وہ دونوں بھائی مکہ شریف میں مقیم رہے۔

 (الاصابه جلد 2، صفحہ 448،449 تحت عتبہ بن ابی لہب)

(الاصابه جلد ثالث صفحہ 422،423 تحت معتب بن ابي لهب)

یہاں سے معلوم ہوا کہ درندہ کے پھاڑ ڈالنے کا اگر واقعہ صحیح ہے (جیسا کہ بعض علماء نے ذکر کیا ہے ) تو یہ عتیبہ (مصغر) کے حق میں واقعہ ہو گا۔ جو فتح مکہ سے پہلے مر گیا تھا اور ایمان نہیں لایا تھا ۔ 

عتبہ (مکبر) کے حق میں یہ واقعہ صحیح نہیں (واللّٰہ اعلم بالصواب) 

حقیقت میں رقیہؓ کے دل کے یہ وہ احساسات تھے جو نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے بددعا کی شکل میں ظاہر ہوئے اور قدرت کاملہ کی طرف سے وہ منظوری پا گئے

صاحبزادی سیده رقیہ رضی اللہ عنہا کا حضرت عثمان (رضی اللّٰہ عنہما) کے ساتھ نکاح

جب ابولہب کے لڑکوں نے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کو طلاق دے دی تو اس کے بعد نبی اقدسﷺ نے اپنی صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح مکہ شریف میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ کر دیا ۔ 

اور اس سلسلہ میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے فضائل کے تحت علماء نے بعض روایات نقل کی ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

ایک روایت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ اور دوسری حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے۔

عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ نقل کرتےہیں کہ نبی اقدسﷺ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی عزیزہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ کر دوں ۔چنانچہ نبی کریمﷺ نے رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ مکہ شریف میں کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی کر دی اور یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ سردار دو جہاںﷺ نے اپنی دونوں صاحبزادیاں حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کے نکاح میں دے دی تھیں پہلے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا عقد کر دیا تھا یہ کہ مکہ شریف میں ہوا تھا اور ہجرت مدینہ سے پہلے ہوا تھا پھر حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی وفات کے بعد ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح ہوا۔ جس کی تفصیلات آئندہ ذکر کی جارہی ہیں ۔

(كنز العمال جلد 6، صفحہ 378 تحت فضائل ذی النورین عثمان رضی اللّٰہ عنہ)

(ذخائر العقبي للمحب الطبري صفحہ 162،163 تحت ذكر من تزوجها رقیه بنت رسول اللّٰہﷺ)

(تاریخ الخمیس للحسین الدیار البکری صفحہ 275 جلد 1 تحت ذکر رقیہ بنت رسولﷺ۔( اخرجه الطبرانی فی معجمهٖ)

دوسری روایت میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے حق میں ذکر کرتے ہیں کہ نبی اقدسﷺ نے عثمان رضی اللّٰہ عنہ ابن عفان کو ایک صاحبزادی نکاح کر کے دی (اس کے انتقال کے بعد) پھر اپنی دوسری صاحبزادی ان کے نکاح میں دے دی نکاح یکے بعد دیگرے منعقد ہوئے ۔

"و زوجه رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم واحدة بعد واحدة "

(کنزالعمال جلد 6، صفحہ 379، بحوالہ عساکر طبع اول حیدرآباد دکن روایت 5875 باب فضائل ذی النورین رضی اللّٰہ عنہ)

 نبی اقدسﷺ کا حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ ان صاحبزادیوں کا نکاح کر دینا حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے لئے بہت بڑی سعادت مندی ہے اور خوش بختی ہے جو ان کو نصیب ہوئی حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ حضورﷺ سے دامادی کا شرف پا گئے۔ 

نیز یہ چیز بھی قابل قدر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے یہ تعلقات نبی اقدسﷺ کے ساتھ مدت العمر خوشگوار رہے اور کسی ناخوشگواری کی نوبت نہیں آئی اور اسی صورت حالی پر خاتمہ بالخیر ہوا۔

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تعریف نساء قریش کی زبانی

علماء تاریخ نے ذکر کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو حُسن اور جمال کے وصف سے خوب نوازا تھا۔ صاحب " تاریخ الخمیس" اپنی تاریخ میں اور محب الطبری اپنی کتاب " ذخائر العقبیٰ " میں اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں :

"وکانت ذات جمال رائع "

 " یعنی حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نہایت عمدہ جمال کی حامل تھیں۔"

(تاریخ الخميس جلد1، صفحہ 274 ج1 تحت رقیہؓ)

(ذخائر العقبیٰ صفحہ 162تحت حالات رقیہؓ)

جس وقت حضرت عثمانؓ کے ساتھ ان کی شادی اور بیاہ ہوا ہے تو اس دور کے قریش کی عورتیں ان زوجین پر رشک کرتی تھیں اور دونوں کے حسن و جمال کو مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ تعبیر کرتی تھیں۔

 " وتزوجها عثمان بن عفان وكانت نساء قريش يقلن حين تزوجها عثمان رضی اللّٰہ عنہ احسن شخصین رای انسان رقية وبعلها عثمانؓ

 "یعنی قریش کی عورتیں کہتی تھیں کہ انسان نے جو حسین ترین جوڑا دیکھا ہے وہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور ان کے خاوند عثمان رضی اللّٰہ عنہ ہیں۔"

(تفسیر القرطبی جلد14، صفحہ 242 تحت آیت قل لازواجك وبناتك ۔۔۔الخ (سورة احزاب)

اسی نوع کا ایک اور واقعہ "ارسال ہدیہ" کے عنوان کے تحت آئندہ درج ہو گا۔ (ان شاءاللّٰہ تعالٰی)

ہجرتِ حبشہ

اسلام کا یہ ابتدائی دور تھا اور مسلمانوں پر مختلف قسم کے دباؤ ڈالے جا رہے تھے اور کئی قسم کے مصائب کا اہل اسلام کو سامنا کرنا پڑتا تھا۔ 

صفحہ 2 از 12