سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 11 از 12

3_ تیسری چیز یہ ذکر کیا کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر بڑے مظالم کئے ان کو زد و کوب کیا اور ان کو سخت ایذائیں پہنچائیں حتیٰ کہ ان کا انہیں حالات میں انتقال ہو گیا۔ اور اسی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر یہ لوگ لعن و طعن کرتے ہیں۔ 

ناظرین کرام ! حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر مظالم کی یہ داستان سراسر بہتان اور بے اصل ہے اور واقعہ کے برخلاف ہے۔ کوئی بھی عقل مند آدمی اس کو صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ:

  1.  نبی اقدسﷺ نے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو غنائم بدر سے باقی اہل بدر کے ساتھ مساوی حصہ عطا فرمایا تھا اور اجر وثواب میں بھی ان کو شریک ٹھہرایا۔ اور حضرت رقیہؓ کا ان ہی ایام میں انتقال ہو چکا تھا۔ اگر حضرت رقیہؓ کا انتقال حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی ایذا رسانی کی وجہ سے ہوا تھا تو پھر یہ غنائم بدر سے حصہ دینا اور اجر و ثواب میں شریک ٹھہرانا کیسے درست ہوا ؟؟
  2. حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی وفات کے بعد جناب رسالت مآبﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کو حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے نکاح میں دے دیا جیسا کہ عنقریب حضرت ام کلثومؓ کے سوانح میں اس کا مفصل ذکر آرہا ہے۔) قابل غور بات یہ ہے کہ اگر پہلی صاحبزادی کے ساتھ ایذا رسانی کی گئی اور مظالم کیے گئے جن کی وجہ سے وہ وفات پا گئیں تو دوسری صاحبزادی کو ایسے ظالم داماد کے نکاح میں دے دینا عقل و عادت کے بر خلاف ہے اور معززین شرفاء کے طریقہ کے برعکس ہے۔
  3.  نیز حضرت رسالت مآبﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے حق میں بے شمار مقامات میں مدائح اور فضائل ذکر فرمائے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پر رضا مندی کا اظہار دواماّ فرمایا ہے۔ اس کے متعلق چند چیزیں یہاں درج کی جاتی ہیں مثلاً فرمایا کہ :

1" ان لكل نبي رفيقًا وان رفيقي في الجنة عثمان "

(مشکوة شریف صفحہ 561 باب مناقب عثمان رضی اللّٰہ عنہ الفصل الثاني، طبع نور محمدی ، دھلی)

(كنز العمال صفحہ 151،جلد6 تحت فضائل عثمان ذی النورینؓ روایت 2473 ، 2474، طبع اول دکن)

 یعنی ہر نبی کے لئے ایک رفیق ہوتا ہے اور میرے رفیق جنت میں عثمانؓ ہیں ۔

نیز ارشاد فرمایا کہ:

 " عن عبد الرحمن ابن عوف ان النبيﷺ قال ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلى في الجنة.۔۔۔ الخ "

(مشكوة شريف بحوالہ ترمذی و ابن ماجه صفحہ 566 طبع نور محمدی باب المناقب العشرة المبشرة - الفصل الثاني)

 یعنی فرمایا کہ ابو بکرؓ جنت میں ہوں گے۔ عمرؓ جنت میں ہونگے عثمانؓ جنت میں ہوں گے۔ علیؓ جنت میں ہوں گے ...... الخ

یہ چند مرفوع روایات ہیں جو اوپر پیش کی گئی ہیں ان میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا آنجنابﷺ کا جنت میں رفیق ہونا بتلایا گیا ہے اور جنت وہ مقام ہے جو مومن کو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا مندی کے ثمرہ میں حاصل ہوتا ہے تو نبی اقدسﷺ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر رضا مند تھے تب ہی تو ان کو جنت میں رفاقت کی بشارت دی گئی ۔

اور اگر حضرت رسالت مآبﷺ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر کسی وجہ سے ناراض تھے تو حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو یہ بشارت نہیں نصیب ہو سکتی تھی۔ نیز حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے بھی رضا مندی کا یہ مسئلہ مروی ہے وہ ملاحظہ فرمادیں ۔

"عن عمر رضى اللّٰہ عنه قال ما احد احق بهذا الامر من هؤلاء النفر الذين توفی رسول اللّٰہﷺ وهو عنهم راضٍ فسمى عليا وعثمان والزبير و طلحة وسعد وعبد الرحمٰن (رواہ البخاری)"

(مشكوة شريف صفحہ 565 باب مناقب العشرةؓ من الفسل الأول)

(طبقات ابن سعد صفحہ 42، جلد3 تذکره عثمانؓ تحت ذكر الشورىٰ وما كان من أمرهم - طبع ليدن)

"یعنی حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ خلافت کا ان لوگوں سے زیادہ کوئی حقدار نہیں جن لوگوں سے نبی اقدسﷺ رضا مند ہو کر اس عالم سے رخصت ہوئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ان کے نام ذکر کیئے وہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ، عثمان رضی اللّٰہ عنہ، زبیر رضی اللّٰہ عنہ، طلحہ رضی اللّٰہ عنہ، سعد رضی اللّٰہ عنہ ، اور عبدالرحمٰن رضی اللّٰہ عنہ ابن عوف تھے۔

اور خود حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے متعلق ذکر فرمایا ہے کہ :

"و توفى رسول اللّٰہﷺ وهو عنى راضٍ"

(كنز العمال صفحہ 371، جلد 6طبع اول دکن ، تحت فضائل ذی النورینؓ)

(بحوالہ حم - خ - و ابو نعيم في المعرفة)

" اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اقدسﷺ کا اس عالم سے انتقال ہوا ۔ در آنحال کہ آنجنابﷺ مجھ سے راضی اور خوش تھے"۔ 

مختصر یہ ہے کہ مندرجات بالا کے ذریعہ واضح ہو گیا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر رسالت مآبﷺ راضی تھے آپﷺ سے کسی قسم کی ناراضگی اور ناچاکی پیش نہیں آئی تھی ۔ اور مدت العمر حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ آنجنابﷺ کے تعلقات شائستہ رہے اور اسی پر خاتمہ بالخیر ہوا ۔

اگر ان صاحبزادیاں (رقیه رضی اللّٰہ عنہا و ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا) کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے برا سلوک کیا تھا اور ان کے حق میں اس قدر ایذا رسانی کی تھی کہ ان کی موت واقع ہو گئی۔ تو اس کا احساس نبی اقدسﷺ کو ضرور ہونا چاہئے تھا اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کو یقیناً اس کا صدمہ پہنچنا چاہیے تھا۔

اگر ایسا ہوتا تو اس کی پاداش میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ سزا کے مستحق ہوتے۔ اور کچھ بھی نہ ہوتا تو کم از کم زبانی کلامی سرزنش اور عتاب تو ضرور کیا جاتا۔ اور باہمی تعلقات نا خوشگوار ہو جاتے اور روابط ختم کر لئے جاتے ۔

لیکن ان تمام چیزوں کے بر خلاف یہاں تو آپس میں رضامندی ہے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے مدائح و فضائل بیان ہوتے ہیں انکے کردار و اعمال بشارتیں دی جاتی ہیں جو ان کی قبولیت کی علامت ہیں ۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صاحبزادیوں کو ایذارسانی کے قصے تصنیف شدہ ہیں۔ جو حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے حق میں سئوظنی نشر کرنے کے لئے مرتب کئے گئے ہیں۔ ان میں حبّہ بھر صداقت نہیں ہے ۔

ایک اور قابل غور چیز

صفحہ 11 از 12