سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 10 از 12
  1. صاحبزادی حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا حضرت سیدہ زینب رضی اللّٰہ عنہا سے تین برس بعد میں پیدا ہوئیں ۔
  2. اپنے والد شریفﷺ اور خدیجہ الکبریٰ رضی اللّٰہ عنہا کے زیرِ نگرانی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نے تربیت پائی اور جوان ہوئیں ۔
  3.  اپنی والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللّٰہ عنہا کے ساتھ ایمان لائیں اور بیعت نبویﷺ ان کو نصیب ہوئی۔
  4.  نو عمری میں ابولہب کے لڑکے "عتبہ" کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ پھر اسلام کے ساتھ عناد کی وجہ سے رخصتی سے قبل اس نے طلاق دے دی۔
  5. اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح ہوا۔ اور امر الٰہی کے تحت نبی کریمﷺ نے یہ نکاح کر دیا ۔
  6.  قریش کی عورتوں نے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حسن و جمال کی تعریف کی۔
  7. ہجرت حبشہ کی فضیلت حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ دونوں کو نصیب ہوئی۔ خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھا کر اولین مہاجرین میں شمار ہوئے اور آخرت میں ثواب و اجر کے مستحق ہوئے۔ 
  8.  اس دوران سید عالمﷺ ان کے احوال کی دریافت کرتے اور کلمات دعا فرماتے تھے کہ "اللّٰہ تعالیٰ ان کا ساتھی ہو"۔
  9.  ایک مدت کے بعد "ہجرت حبشہ" سے واپسی ہوئی پھر اس کے بعد "ہجرت مدینہ" ان کو حاصل ہوئی گویا دو ہجرتوں سے میاں بیوی دونوں مشرف ہوئے۔
  10. حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی اولاد ہوئی ۔ "عبداللّٰہ" پیدا ہوتے پھر چند برس کے بعد 4ہجری میں مدینہ طیبہ میں عبد اللّٰہ کی وفات ہوئی غسل کفن دفن وغیرہ جناب رسالت مآبﷺ کی نگرانی میں اتمام پذیر ہوا۔
  11.  خادمہ (ام عیاش) آنجنابﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو ہدیہ عنایت فرمائی۔
  12.  آنجنابﷺ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر پختہ طعام بطور ہدیہ کے ارسال فرماتے تھے۔ اور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی جانب سے بھی آنجناب کی خدمت اقدس میں ہدیہ طعام پیش کیا جاتا تھا۔
  13. حضرت رقیہ اپنے خاوند کی بہت خدمت گزار خاتون تھیں اس مسئلہ پر ان کے والد شریف نے انہیں خاص ہدایت فرمائی ۔
  14.  2ہجری ایام بدر میں حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا بیمار ہوئیں آنجنابﷺ غزوہ ہذا میں تشریف لے گئے اور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو ان کی تیمار داری کے لئے مقرر فرما کر ٹھہرایا۔ اور عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو اجر و ثواب بدری صحابہ کے برابر حاصل ہوا۔ غنائم بدر سے بھی ان کو دیگر حضرات کے مساوی حصہ عنایت فرمایا گیا۔
  15. حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے حق میں بدر میں غیر حاضری کی ایسی ہی نوعیت تھی جیسا کہ غزوہ تبوک میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی غیر حاضری۔
  16. سیدہ رقیہ رضی عنہا اسی دوران فوت ہو گئیں ۔ ہجرت مدینہ کے سترہ روز گزرنے کے بعد 2ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ 
  17.  ان کی وفات کے بعد رسالت مآبﷺ قبر رقیہ رضی اللّٰہ عنہا پر تشریف لے گئے ساتھ مدینہ کی عورتیں بھی تھیں ان کو واویلا کرنے اور بین و نوحہ کرنے سے منع فرما دیا۔
  18. حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللّٰہ عنہا اپنی بہن کی قبر پر حاضر ہوئیں اور گریہ کرنے لگیں۔
  19.  اس موقعہ پر جناب رسالت مآبﷺ نے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حق میں ارشاد فرمایا کہ "تم ہمارے سلف صالح عثمان بن مظعونؓ کے ساتھ لاحق ہو" ۔
  20. حضرت رقیه رضی اللّٰہ عنہا پر درود و صلوات بھیجنے کا مسئلہ (یہ صرف شیعہ کتب سے منقول ہے۔)

اس کے بعد ازالہ شبہات کا عنوان پیش خدمت ہے۔

ازالہ شبہات 

شیعہ کی طرف سے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے حق میں کئی شبہات ذکر کئے جاتے ہیں ۔ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے سوانح ذکر کرنے کے بعد اب ان شبہات کا ازالہ کر دینا مناسب خیال کیا گیا ہے

1_ ایک تو یہ کہا جاتا ہے کہ صاحبزادی رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نبی اقدسﷺ کی حقیقی صاحبزادی نہیں بلکہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کے سابق ازواج کی اولاد ہیں اور بعض دفعہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کی خواہرزادہ ہیں ۔

معترضین کی یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں ۔

قبل ازیں ہم نے یہ بحث ابتدائے کتاب ہذا میں مفصل ذکر کر دی ہے یعنی حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کے سابق ازواج سے اولاد کی بحث اور نبی کریمﷺ سے جو خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کی اولاد ہوئی ان دونوں امور کو پوری تفصیل کے ساتھ وہاں بیان کر دیا گیا ہے اور دونوں فریق کی کتابوں سے اس مسئلہ کو مدلل کیا گیا ہے اور اس شبہ کا جواب تمام کر دیا ہے دوبارہ ذکر کرنے کی یہاں حاجت نہیں ۔ ابتدائی مباحث کی طرف رجوع کر لیں تشقی ہو جائے گی۔

2_ دوسری یہ چیز ذکر کرتے ہیں کہ حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے لئے کوئی "فضیلت" اسلامی کتب میں مذکور نہیں نہ کسی شیعہ کتاب میں فضیلت پائی جاتی ہے نہ کسی سنی کتاب میں درج ہے ۔

یہ چیز بالکل خلاف واقعہ ہے اور محض عناد کی بنا پر اس کو نشر کیا جاتا ہے۔ ورنہ حقیقت حال یہ ہے کہ جناب رسالتﷺ کی حقیقی اولاد مبارک ہونے کا انہیں شرف حاصل ہے۔ ان کے سوانح جو ماقبل میں ہم نے مفصل ذکر کئے ہیں وہ اس بات پر شاہد عادل ہیں۔

حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے سوانح کا ایک ایک عنوان آپ ایک دفعہ پھر ملاحظہ فرما دیں (جو کم و بیش بیس عدد ذکر کئے گئے ہیں) تو آپ کو یقین آ جائے گا کہ عدم ذکر فضیلت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا جو اعتراض ذکر کیا جاتا ہے وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اور لطف یہ ہے کہ ہم نے بیشتر مقامات میں شیعہ احباب کی معتبر کتابوں سے بھی حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے احوال وسوانح درج کیے ہیں تا کہ کسی فریق کو کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ تمام سوانح مذکورہ مندرجہ ملاحظہ کرنے کی فرصت نہ ہو تو صرف "سوانح حضرت رقیہ کا اجمالی خاکہ" پر نظر کر لیں جو ان کے حالات کے آخر میں مندرج ہے تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کے لئے کوئی فضیلت کتابوں میں نہیں ملتی۔۔ الخ۔"

انہوں نے یہ کتنا قدر " بابرکت جھوٹ " بولا ہے اور عوام کو دھوکہ میں ڈالا ہے۔ اور اپنے نبی مقدسﷺ کی اولاد شریف پر کس قدر افترا کیا ہے ۔ اور تاریخ اسلامی کو کس طرح مسخ کر ڈالا ہے ؟ 

صفحہ 10 از 12