سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 1 از 12

سوانح سیده رقیہ رضی اللہ عنہا

سردار دوعالمﷺ کی صاجزادی سیده رقیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے بعد ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا تولد

صاجزادی رقیہ رضی اللہ عنہا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے چھوٹی ہیں ان کی والدہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد ہیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ رقیہ رضی اللہ عنہا اپنی بڑی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے تین برس بعد پیدا ہوئیں اس وقت سردار دو عالمﷺ کی عمر مبارک قریباً تینتیس (33) برس تھی ۔

(تاريخ الخميس للشيخ حسين الديار البكرى جلد، 1 صفحہ، 274)

تربیت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہنوں کے ساتھ اپنے والد شریفﷺ کی نگرانی میں تربیت پائی اور اپنے سَن شعور کو پہنچیں۔

 ان کے والدین شریفین کی تربیت اکسیر اعظم تھی جو ان کے آئندہ کمالاتِ زندگی کا باعث بنی ۔

اسلام لانا اور بیعت کرنا

 خواتین میں سب سے پہلے اسلام لانے والی خاتون سیدہ خديجہ الكبریٰ رضی اللہ عنہا ہیں ان کے ساتھ آپ کی صاحبزادیاں اسلام لانے میں پیش پیش ہیں جس وقت ان کی والدہ محترمہ اسلام لائیں تو ان کے ساتھ یہ صاحبزادیاں بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں اور بیعت نبویﷺ کے ساتھ شرف عزّت حاصل کیا۔

"واسلمت حین اسلمت امها خديجة بنت خويلد و بایعت رسول اللّٰہﷺ هی واخواتها حين بايعه النساء "

(طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 24، تحت رقیه بنت رسول اللّٰہﷺ)

(الاصابته لابن حجر جلد 4 صفحہ 297، تحت رقیہ بنت رسول اللّٰہﷺ)

(تفسير القرطبي جلد 14 صفحہ 242، تحت آیته قل الازواجك وبناتك)

" یعنی جب سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللّٰہ عنہا اسلام لائیں تو سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نے بھی اسلام قبول کیا اور جب دوسری عورتوں نے بیعت کی تو سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا نے اور ان کی بہنوں نے بھی جناب رسول خداﷺ کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔"

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

اسلام سے قبل اس دور کے دستور کے مطابق دو جہاںﷺ نے اپنی دونوں صاحبزادیوں سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح بالترتیب اپنے چچا ابولہب کے دونوں لڑکوں عتبہ اور عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا۔ یہ صرف انتسابِ نکاح تھا اور رخصتی نہیں ہوئی تھی اور شادی و بیاہ کی نوبت نہیں آئی تھی ۔

پھر اسلام کا دور شروع ہوا آنجنابﷺ پر وحی نازل ہونے لگی توحید کی آیات اتریں ۔ شرک و کفر کی مذمت بر ملا کی گئی حتیٰ کہ سورۃ تبت یدا ابی لهب وتب....الخ  ابو لہب کے نام کے ساتھ نازل ہوئی۔

اس پر کفار مکہ کی عداوت اہل اسلام کے ساتھ انتہا کو پہنچ گئی اور ابولہب کا غیض و غضب حدود اخلاق سے متجاوز ہو گیا۔ 

ابو لہب نے اپنے دونوں لڑکوں عتبہ اور عتیبہ کو حکم دیا کہ اگر تم "محمد بن عبد اللّٰہ" کی بیٹیوں کو طلاق نہ دو گے تو میں تم کو منہ نہیں لگاؤں گا اور تمہارا چہرہ تک نہیں دیکھوں گا ۔ یہ طلاق اس وقت ان دختران نبی کا غیبی اعزاز تھا تقدیر الٰہی نے فیصلہ کیا کہ یہ پاک صاحبزادیاں عتبہ اور عتیبہ کے ہاں نہ جا سکیں، باپ کے کہنے پر عتبہ اور عتیبہ نے دونوں معصوم دختران نبیﷺ (یعنی سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا) کو طلاق دے دی اور یہ رشتہ صرف اسلام کے ساتھ عداوت کی بنا پر منقطع کر دیا گیا۔

"فلما بعث رسول اللّٰہ و انزل اللّٰہ "تبت يدا أبي لهب" قال له ابوه ابو لهب رأسى من راسك حرام ان لم ان تتطلق ابنتهٗ فقارقها ولم يكن دخل بها "

(الطبقات لابن سعد جلد 8 صفحہ 24، تحت رقيہ بنت رسول اللّٰہﷺ)

(تفسیر القرطبی جلد 14 صفحہ 242، تحت آيتہ قل لا زواجك وبناتك۔۔۔الخ)

(الاصابة لابن حجر جلد 4 صفحہ 297، تحت رقية بنت سید البشرﷺ)

(تاريخ الخميس جلد1 صفحہ 274، تحت رقیۃ بنت رسول اللّٰہﷺ)

 ان دونوں صاحبزادیوں (سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا) کا کوئی قصور اور عیب نہ تھا محض رسول خداﷺ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کو یہ اذیت پہنچائی گئی۔ اور کسی عورت کو بلا وجہ طلاق دیا جانا اس کے حق میں نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ اس کے فطری احساسات مجروح ہوتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ان معصومات طاہرات نے دینِ اسلام کی خاطر بر داشت کیا ۔ گو اس طلاق میں ان کا اپنا ہی اعزاز اور کفار کے ہاں جانے سے ایک عملی احتراز تھا۔ (رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما)

مسئلہ ہذا شیعہ کے نزدیک

اہل سنت کے علماء نے بھی اس واقعہ کو ذکر کیا ہے اور شیعہ کے اکابر علماء نے بھی اس واقعہ کو مزید تفصیل سے یوں لکھا ہے کہ :

"حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو عتبہ بن ابی لہب نے نکاح میں لیا پھر اس نے شادی ہونے سے قبل رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو طلاق دے دی ۔ اس طریق کار کی وجہ سے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کو عقبہ کی وجہ سے نہایت تکلیف پہنچی تو نبی اقدسﷺ نے عتبہ کے حق میں بد دعا فرمائی اور فرمایا یا اللّٰہ! اپنے درندوں میں سے ایک ، درندہ عتبہ پر مسلط فرما دے ( جو اس کو چیر پھاڑ ڈالے ) نبی کریمﷺ کی یہ دعا منظور ہو گئی ۔ ایک موقعہ پر عتبہ اپنے ساتھیوں میں موجود تھا کہ ایک شیر نے آکر عتبہ بن ابی لہب کو پکڑ کر پھاڑ ڈالا۔

واما رقية فتزوجها عتبة بن أبي لهب فطلقها قبل ان يدخل بها ولحقها منه اذى فقال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم " اللهم سلط على عتبة كلبا من كلابك فتناوله الأسد من بين اصحابه"

(الانوار النعمانية جلد 1، صفحہ 367 تحت نور مولودی للشیخ نعمت اللّٰہ الجزائري الشيعي)

(الانوار النعمانية للشيخ نعمت اللّٰہ الجزائری جلد1، صفحہ 80تحت نور مولودی)

(قولہ علی عتبة کلبا)

اس بات کی وضاحت اس مقام پر ضروری سمجھی گئی ہے کہ ابو لہب کا کونسا بیٹا تھا جسے ایک درندے نے پھاڑ ڈالا۔ تو ہمارے علماء نے مندرجہ ذیل چیزیں ذکر کی ہیں ان سے اس مسئلہ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 

صفحہ 1 از 12