روافض کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم…

روافض کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم


سوال:* جب رافضی مؤذن اپنی اذان میں علی ولی الله وصى رسول الله وخليفۃ بلا فصل: کہے تو کیا اہل سنت سامعین کو یہ سن کر لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلىَ الْکٰذِبیِْنَ کہنا درست ہے یا نہیں؟ نیز ایک رافضی کا جنازہ اہل سنت امام نے پڑھایا ہے، ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اس کا نکاح ٹوٹ گیا یا اسے اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔ کیا صحیح ہے؟

جواب: روافض دراصل یہود و مجوس کی مشترکہ سازش کی پیداوار ہیں، انہوں نے عقائد و نظریات اور عبادات و معاملات کے متعلق ایک ایسا متوازی دین قائم کر رکھا ہے جو دینِ اسلام کے بالکل متصادم ہے۔ اذان میں على ولى الله وصى رسول الله وخليفۃ بلا فصل: جیسے کلمات کا اضافہ ان کے ہاں رائج متوازی دین کی ایک مثال ہے۔ یہ اضافہ خلافِ اسلام ہے بلکہ صحابہ کرامؓ بالخصوص خلیفہ راشد سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے بغض و عداوت کی ایک بدترین مثال ہے۔ ایمانی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ اس طرح کے جھوٹ پر مبنی کلمات سن کر لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلىَ الْکٰذِبیِْنَ کہا جائے۔

صورت مسئولہ میں اگر اس قسم کے جھوٹے کلمات سننے والا اکیلا ہے یا چند ایک ہم ذہن ہیں تو اس لعنت کا برملا اظہار کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر مخاطب سامنے ہے تو دل میں کہہ دیا جائے تاکہ وہ ہمارے اکابر ( صحابہ کرامؓ) کے متعلق و بدزبانی نہ کریں۔

اگر کسی اہل سنت امام نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے رافضی کی نماز جنازہ پڑھائی ہے تو اسے معذور تصور کیا جائے، اور اگر دانسۃ طور پر ایسا کام کیا ہے تو وہ بہت بڑے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ افہام و تفہیم کے ذریعے اس جرم کی سنگینی کا اسے احساس دلایا جائے، ہنگامہ درست نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے نکاح ٹوٹتا ہے۔

اگر امام کو اس فعل پر ندامت نہ ہو بلکہ وہ اپنے فعل کے صحیح ہونے پر اصرار کرتا ہے تو ایسے امام کو امامت سے معزول کر دیا جائے کیونکہ درپردہ وہ روافض کا حمایتی ہے۔ 

(فتاویٰ اصحاب الحديث: جلد 1 صفحہ 478)