اہل حدیث مسلک کے علماء فضيلۃ الشيخ ابو محمد حافظ عبدالستار…

اہل حدیث مسلک کے علماء فضيلۃ الشيخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد كا فتوىٰ


گستاخ رسول عبداللہ اور گستاخ صحابہؓ کو مسجد کا ممبر بنانا

سوال:ایک شخص حدیث اور کتبِ حدیث پر اس طرح تنقید کرتا ہے کہ ان کی توہین کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، نیز وہ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی صحابیت کا بھی منکر ہے، اس کے علاوہ وہ کہتا ہے کہ اسلام میں پہلا اختلاف حضرت علیؓ نے ڈالا۔ کیا اس طرح کے عقائد رکھنے والے کو مسجد کا ممبر بنایا جا سکتا ہے، بالخصوص جبکہ اندیشہ ہو کہ یہ اپنے فاسد عقائد و نظریات دوسرے نمازیوں میں بھی پھیلائے گا؟ ایسے شخص کے ساتھ تعلقات رکھنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا ایسے شخص کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا درست ہے؟ کیا ایسے شخص کو زندیق کہا جا سکتا ہے؟ نیز زندیق کی شرعی طور پر سزا کیا ہے؟

*جواب:* واضح ہو کہ دین اسلام کی بنیاد قرآن کریم اور اس کے بیان (حدیث) پر ہے، بیان قرآن کریم کے لیے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حضور اکرمﷺ کو مبعوث فرمایا ہے، آپﷺ نے اپنے فرمودات و ارشادات اور سیرت و کردار سے قرآن کریم کی وضاحت اور تشریح کی ہے جو ہمارے پاس کتب حدیث کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن دورِ حاضر کے متجددین کتب حدیث کو ہدف تنقید بنا کر نہ صرف ان دفاتر حدیث کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ حضور اکرمﷺ سے وہ اعزاز بھی چھیننا چاہتے ہیں جو خود اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حضور اکرمﷺ کو عطا فرمایا ہے۔

دراصل بات یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کے فرمودات کے ذریعہ قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل اور اطلاق کی تقلید ان معتزلہ کو گوارا نہیں، وہ صرف اپنی عقل عیار کو بنیاد بنا کر قرآن کریم کی تشریح کرنا چاہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جلِ شانہ کی طرف سے نازل شدہ اس ضابطۂ حیات کو اپنی من مانی تاویلات کی بھینٹ چڑھایا جا سکے۔ ان کے نزدیک حدیث اور کتب حدیث ایک عجمی سازش کا حصہ ہیں۔ (معاذ اللہ)

صورت مسئولہ میں ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا ہے جو توہینِ رسالت کے علاوہ صحابہ کرامؓ کو بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ حضرت علیؓ کو تشتت و اختلاف کا موجب گردانتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں تاآنکہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔

ایسے شخص کو کسی مسجد یا دینی جماعت کا ممبر بنانا جائز نہیں۔ اس کے ساتھ تعلقات اصلاح احوال کے لیے تو رکھے جا سکتے ہیں لیکن جب اس قسم کے گندے جراثیم آگے منتقل ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسے عضو کو کاٹ دینا ہی بہتر ہے، یعنی ایسے شخص سے روابط ختم کر لیے جائیں۔ ایسے شخص کو سلام کرنے میں ابتداء نہیں کرنی چاہیے، البتہ اگر وہ سلام کہتا ہے تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ایسا انسان زندیق اور ملحد ہے اور اسلامی حکومت میں ایسے شخص کی سزا قتل ہے اور اس قسم کی سزا بھی اسلامی حکومت کا کام ہے۔ 

(فتاویٰ اصحاب الحديث: جلد 1 صفحہ 439)