سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 9 از 17

 (السنن للنسائى صفحہ252 طبع دہلی، تحت ذكر الرخصة للنساء في لبس السيراء)

 (كتاب المعرفة والتاريخ لابي يوسف يعقوب ابنِ سفيان البسوی صفحہ163، 164 جلد، 3)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 22 جلد 8 تحت ذکر زینبؓ بنتِ رسول اللهﷺ طبع بیروت)

 سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی اولاد کا ذکر خیر

 سیده زینبؓ کی متعدد اولاد ابو العاصؓ بن الربیع سے ہوئی۔ ان میں ایک صاحبزادہ تھا جس کا نام علی تھا۔ اور ایک صاحبزادی ہوئی جس کا نام امامہ بنت ابی العاصؓ تھا۔ امامہؓ کا ذکرِ خیر ہم عنقریب کر رہے ہیں، ان کے ماسوا ایک اور بچہ ابو العاصؓ کا سیدہ زینبؓ سے ہوا تھا وہ صغیر سنی میں ہی فوت ہو گیا اس بچہ صغیر کے متعلق محدثین نے ایک واقعہ ذکر کیا ہے ہم ناظرین کی خدمت میں اسے پیش کرتے ہیں ۔

 اولادِ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضورﷺ کی محبت

 محدثىن فرماتے ہیں اسامہ بن زیدؓ سے منقول ہے کہ جناب رسالت مآبﷺ کی صاحبزادی کا ایک بچہ قریب المرگ ہو گیا انہوں نے آنجنابﷺ کی خدمت میں ایک آدمی بھیجا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں جناب نے جواب میں سلام فرمایا اور کہلا بھیجا کہ آپ صبر کریں جو اللہ تعالیٰ لے لیتے ہیں وہ بھی اللہ کے لئے ہے اور جو دیتے ہیں وہ بھی اس کے لئے ہے اور ہر شخص کے انتقال کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت مقررہ ہے ہر حالت میں تم کو صبر کر نا چاہیے محترمہ زینبؓ پریشانی کے عالم میں تھیں پھر انہوں نے آنجنابﷺ کی خدمت میں قسم دے کہ آدمی بھیجا کہ آنجنابﷺ ضرور تشریف لائیں تو اُٹھ کھڑے ہوئے آپﷺ کے ساتھ سعد بن عبادہؓ معاذ بن جبلؓ، ابی بن کعبؓ اور زید بن ثابتؓ وغیرہ وغیرہ صحابہؓ کی جماعت بھی چل پڑی اور آپﷺ بچے کے پاس پہنچے وہ قریب المرگ تھا آنجنابﷺ کی گود میں پیش کیا گیا و نفسه تتقعقع یعنی بچہ کے آخری سانس تھے اور وہ فوت ہو رہا تھا یہ حالت ملاحظہ فرما کر نبی کریمﷺ کے آنسو مبارک جاری ہو گئے تو سعد بن عبادہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا ہے؟ آپﷺ آنسو بھی بہا رہے ہیں تو آنجنابﷺ نے فرمایا یہ تو رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ دی ہے۔ 

فانما يرحم الله من عباده الرحماء

 (مشکٰوة شریف صفحہ 150 باب البكاء و على الميت الفصل الأول طبع نور محمدی دہلی(بحوالہ بخاری و مسلم)  

(ابوداؤد شریف جلد2 صفحہ90 باب البكاء وعلى الميت:طبع مجتبائی دہلی)

یعنی اپنے نرم دل بندوں پر ہی اللہ تعالیٰ رحمت فرماتے ہیں "ناظرین کرام! مطلع رہیں کہ واقعہ مذکورہ بالا جس میں سیدہ زینبؓ کے بچے کی مرض الموت پر بمع صحابہؓ آنجنابﷺ کا تشریف لانا ازراه شفقت و ترخم اس حالت میں گریہ فرمانا الله ما اعطٰى والله ما اخذ۔۔الخ کی تلقین فرمانا وغیرہ وغیرہ مذکور ہے۔ 

یہی واقعہ اپنی تفصیلات کے ساتھ شیعہ کے اکابر علماء نے بھی اپنی اسناد کے ساتھ سیدہ علی المرتضیٰؓ سے نقل کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

(الجعفريات او الاشعثياب لأبی العباس عبد الله بن جعفر الحميری208 باب الرخصة في البكاء من غير نياحة (مطبوعه طهران)

اس واقعہ سے سردارِ دو جہاںﷺ کی اپنی دختر سیدہ زینبؓ اور اس کی اولاد کے ساتھ شفقت وعنایت حد درجہ کی ثابت ہوتی ہے اور مشفقانه تعلقات کمال درجہ کے عیاں ہوتے ہیں۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے علی بن ابی العاصؓ کا مختصر حال

ان کا نام علی بن ابی العاص بن الربيع بن عبد العزیٰ بن عبد شمس ہے ان کی والدہ محترمہ سیدہ زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ ہیں یہ امامہ بنتِ ابی العاصؓ کا بھائی ہے اس کو قبیلہ بنی غاضرہ میں استرضاع یعنی دودھ پینے کے لئے بھیجا گیا تھا شیر خوارگی سے فارغ ہونے کے بعد سرکار دوعالمﷺ نے اس کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور ابو العاصؓ ابھی تک مکہ میں مقیم تھے۔ اسلام نہیں لائے تھے۔ فكان على مترضعاً في بنی غاضره فضمه رسولﷺ اليه

 علی بن ابی العاصؓ نبی کریمﷺ کی نگرانی میں ہی پرورش پاتے رہے اور جناب کی تربیت ان کو حاصل رہی جب فتح مکہ ہوئی ہے تو سردار عالمﷺ نے ان کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آنجنابﷺ کی زندگی میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ بعض کے نزدیک یہ قریب البلوغ ہو کر فوت ہوئے۔

(اسد الغابه لابن اثیر صفحہ 41 جلد 4 -تحت علی بن ابی العاصؓ الاصابه لابن)

(حجر عسقلانی صفحہ 503 جلد 2 تحت علی بن ابی العاصؓ)

(کتاب نسبِ قریش صفحہ 22 تحت ولد عبد اللہ بن عبد المطلب)

امامہ بنتِ ابی العاصؓ متعلقات

 اس کا نام امامہ بنت ابی العاصؓ بن ربیع ہے، اور اس کی والدہ سیدہ زینبؓ بنتِ رسول خداﷺ ہیں۔ 

1_ رسالت مآبﷺ کے مبارک دور میں ان کی ولادت ہوئی نبی اقدسﷺ کے خانہ مبارک میں پرورش پاتی رہیں اور یہاں شیعہ علماء نے بھی لکھا ہے کہ آنجنابﷺ امامہؓ کے ساتھ حد درجہ کا پیار اور محبت فرمایا کرتے تھے۔

(تنقيح المقال ما مقانی صفحہ 29 جلد3 فصل النساء - الفصل الرابع )

 ابوقتادہ انصاریؓ ذکر کرتے ہیں کہ سردارِ دو عالمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاصؓ آپﷺ کے دوش مبارک پر تھی آپﷺ نماز ادا فرماتے رہے جب آپ رکوع فرماتے تو اس کو زمین پر بٹھا دیتے اور جب آپ کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھا لیتے تھے امامہ کو محبت کے ساتھ اٹھانے کے واقعات حدیث میں متعدد بار مذکور ہوئے ہیں اور حدیث کی کتابوں میں یہ واقعات دستیاب ہیں کہ جنابِ رسولِ خداﷺ اس صغیرہ بچی کے ساتھ غایت درجہ کی محبت اور شفقت فرمایا کرتے تھے مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں۔

(بخاری شریف صفحہ74 جلد1 باب اذا حمل جارية صغيرة عنقه في الصلوة)

(بخاری شریف صفحہ887 جلد 2 باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته)

(مسلم شریف صفحہ205 جلد 1 کتاب الصلوٰة باب جواز حمل الصبيان في الصلٰوة)

(مسند ابوداؤد طیالسی حدیث زید بن ثابت طبع اول)

(ابو داؤد شریف صفحہ 132 جلد1 باب العمل في الصلوٰة)

(صحیح ابنِ حبان صفحہ 313 جلد2 ذكر الجزال على نفی ايجاب الوضو من الملامسة)

 (المصنف لعبد الرزاق صفحہ 33، 34 جلد ثانی باب يقطع الصلوة.)

صفحہ 9 از 17