سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 8 از 17

 یعنی اسی طرح ابتداء اسلام میں مؤمنہ کی تزویج کافر کے ساتھ جائز تھی تحقیق نبی کریمﷺ نے اپنی صاحبزادی زینبؓ کا نکاح ابو العاصؓ بن الربیع سے اسلام لانے سے پہلے کر دیا اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہوا تھا۔

(تفسیر مجمع البيان للطبرسی صفحہ 573 جلد1 طبع قدیم تحت آيت قال يقوم هؤلاء بناتي ھن أطهر لكم الخ)

 ملا باقر مجلسی اپنی کتاب حیات القلوب میں لکھتا ہے کہ:

دختران آنحضرت چهار نفر بودند و همه از حضرت خدیجهؓ را بوجود آمدند. اول زینبؓ حضرت پیش از بعثت و حرام شدن دختر بکافران داندن اور ابابی العاص بن ربیعؓ تزویج نمود و امامهؓ دختر بن ابی العاص ازا و بوجود آمد و حضرت امیرالمومنین بعد از حضرت فاطمہؓ بمقتضائے وصیت آنحضرت امامه را بنکاح خود در آورد .

 (حیات القلوب از ملا باقر مجلسی صفحہ718 جلد 2 باب51 تحت ذکراولاد امجاد آنحضرتﷺ طبع نول کشور لکھنؤ)

 شیخ عباس قمی کتاب منتہیٰ الآمال میں لکھتے ہیں:

 تزویج زینبؓ با بی العاص پیش از بعثت و حرام شدن دختر بکافراں بود و از زینبؓ امامه دختر ابی العاص بوجود آمد و حضرت امیر المؤمنین علیه السلام بعد از فاطمہ سلام اللہ علیہا بمقتضائے وصیت آں مخدرہ اورا تزویج فرمود

(حواشى منتہٰى الآمال صفحہ108جلد1 فصل ہشتم در بیان احوال اولاد امجاد آنحضرت است)

 عبارات مندرجہ بالا کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اقدسﷺ کی سیدہ خدیجہؓ سے چار صاحبزادیاں تھیں پہلی زینبؓ تھیں۔ آنجنابﷺ نے بعثت سے پہلے اور کفار کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کے نکاح حرام قرار دیئے جانے سے قبل سیدہ زینبؓ کو ابو العاصؓ بن ربیع کے ساتھ تزویج کر دیا۔ ابو العاصؓ سے امامہ نامی دختر پیدا ہوئی سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی وصیت کے مطابق ان کے بعد امامہ بنت ابی العاصؓ سے نکاح کیا۔

شیعہ مورخین کی جانب سے واقعات ہذا کی تائید

شیعہ سیرت نگاروں نے بھی اس طرح لکھا ہے کہ جب مسلمانوں نے قریش کے قافلے پر گرفت کی اور ان کے اموال کو اپنی تحویل میں لے لیا تو اس وقت ابو العاصؓ بن الربيع مدینہ شریف میں داخل ہوئے اور صاحبزادی زینبؓ کے پاس انہوں نے پناہ لی۔ جب صبح کی نماز رسولِ خداﷺ پڑھا چکے تو صاحبزادی زینبؓ نے آواز دی کہ میں نے ابو العاصؓ بن الربیع کو پناہ دی ہے تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا اے حاضرین جماعت! سن لیا ؟ تو سب نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہﷺ سن لیا ہے پھر جناب نے فرمایا کہ میں نے اس کو پناہ دے دی جس کو میری بیٹی زینبؓ نے پناہ دی ہے اہلِ اسلام میں سے اگر کوئی چھوٹا آدمی بھی پناہ دے تو وہ دے سکتا ہے پھر آپ مسجد سے اُٹھ کر باہر تشریف لائے اور زینبؓ و ابو العاصؓ کے پاس تشریف فرما ہوئے آپﷺ نے فرمایا اے زینبؓ! ان کی خدمت میں کوتاہی نہ کرنا اوران کو عزت و احترام سے رکھنا اور جو ابوالعاصؓ کا مال لیا گیا تھا آپﷺ نے اس کو واپس فرما دیا اس کے بعد ابو العاصؓ مکہ کو واپس چلے گئے اور جن لوگوں کا مالی حق ان کے پاس تھا سب کو واپس لوٹا دیا پھر اسلام لے آئے اور رسول اللہﷺ کی طرف مدینہ منورہ چلے آئے نبی کریمﷺ نے صاحبزادی زینبؓ کو نکاح اول کے ساتھ ابو العاصؓ کی طرف رخصت کر دیا ۔

 (تاريخ يعقوبي الشيعي صفحہ 71 جلد2 تحت الامراء على السرايا: طبع بيروت)

 اہلِ علم کی تسلی کے لئے یعقوبی شیعی کی بلفظه عبارت نقل کی جاتی ہے:

 واقبل ابو العاص بن الربيع حتىٰ دخل المدينة فاستجار بزينب بنت رسول اللهﷺ فلما صلى رسول اللهﷺ الغداة نادت زينب الا اني قد اجرت ابا العاص بن الربيع فقال رسول الله حسين انصرف اسمعتم ؟ قالوا نعم قال قد اجرت من اجارت ان أدنى المؤمنين يجير اقصاهم وقام فدخل عليهما فقال لا يقوتنك أكرمى مثواه۔ ورد عليه ما أخذ له ترجع الى مكه فرد الى كل ذي حق حقه ثم اسلم ورجع الى رسول الله فرد عليه زينب بالنكاح الأول

(تاريخ يعقوبي الشيعی صفحہ 71 جلد 2طبع بیروت تحت الامراء على السرايا والجيوش)

 اس مقام کے متعلق چند فوائد

 سیدہ زینبؓ اور ان کے زوج ابو العاصؓ بن الربیع دونوں کے حق میں مذکورہ بالا واقعہ اسلامی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

  1. ابو العاصؓ بن الربیع مسلمانوں کی گرفت سے بچتے ہوئے زینبؓ کے ہاں پناہ لیتے ہیں ۔
  2.  صاحبزادی زینبؓ ان کو پناہ دے دیتی ہیں اور یہ پناہ دینا رسالت مآبﷺ کی خدمت اقدس میں ذکر کر دیا جاتا ہے۔
  3. آنجنابﷺ بھی اس پناہ کو منظور فرما لیتے ہیں۔
  4. اس کے بعد رسالت مآبﷺ سیدہ زینبؓ اور ابو العاصؓ کے ہاں تشریف لاتے ہیں اور حسبِ موقع ان کو ہدایات فرماتے ہیں۔
  5.  ابو العاصؓ کی خاطر داری کرنے اور اس کے وقار کو ملحوظ رکھنے کا سیدہ زینبؓ کو حکم دیتے ہیں۔ 
  6. ابو العاصؓ کے جتنے اموال تھے ان کی واپسی کا حکم صادر فرماتے ہیں۔
  7.  ابو العاصؓ مکہ میں جا کہ اہلِ حق کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ اسلام لاتے ہیں۔ اور رسالت مابﷺ کے حضور ان کا اسلام مقبول ٹھہرتا ہے۔ 
  8. پھر ان کو مزید شرف بخشا جاتا ہے کہ صاحبزادی زینبؓ کو سردار دو عالمﷺ ان کے حق میں علی اختلاف الاقوال نکاح اوّل یا ثانی پر واپس کر دیتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں سیدہ زینبؓ اور ابو العاصؓ کے حق میں بہت بڑی عنایات کریمانہ ہیں جو آنجنابﷺ کی خدمت سے ان کو نصیب ہوئیں۔ ان فضائل و عنایات سے انکار کرنا۔ نبی کریمﷺ کی اولاد شریف کے ساتھ عناد کی بناء پر ہی ہو سکتا ہے ورنہ یہ چیزیں آنجنابﷺ کی طرف سے تمام امت میں مشہور و معروف طریقہ سے منقول چلی آرہی ہیں اور ہر دور کے علماء و مصنفین ان کو ذکر کر رہے ہیں۔ 

قیمتی لباس کا استعمال

 صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے متعلق حدیث اور روایات کی کتابوں میں یہ چیز دستیاب ہوتی ہے کہ بعض اوقات آنمحترمہؓ نے قیمتی کپڑے بھی استعمال فرمائے ہیں اور عورت کے لئے اسلام میں اس قسم کا قیمتی لباس استعمال کرنا جائز ہے۔ چنانچہ خادم نبویﷺ انس ابن مالکؓ ایک بار کا ذکر کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ پر ایک قمیض دھاری دار حریہ سے بنی ہوئی دیکھی وہ اس کو زیبِ تن کیئے ہوتے تھیں قمیص اور بعض روایات کے اعتبار سے قمیص کی بجائے چادر ریشمی کا استعمال کرنا آتا ہے۔ روایت کے الفاظ اس طرح منقول ہیں۔ 

عن انس ابن مالكؓ قال رأيت على زينب بنتِ رسول اللهﷺ قميص حرير سيراء

صفحہ 8 از 17