سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 7 از 17

ابو العاصؓ جب تک اسلام نہیں لائے تھے مکہ میں مقیم رہے اور سیدہ زینبؓ اپنے والد شریف کے ہاں مدینہ میں مقیم رہیں۔ مکہ معظمہ والے تجارت کے سلسلہ میں شام کی طرف سفر کیا کرتے تھے ایک تجارتی قافلہ شام کی طرف روانہ ہوا اس قافلہ میں ابو العاصؓ بن ربیع بھی تجارتی مقصد کے لئے شریکِ سفر تھے۔ اور قریش کے اموال تجارت ان کے پاس تھے۔ ملک شام سے جب یہ تجارتی قافلہ تجارت کرنے کے بعد واپس ہوا تو مسلمانوں کو ان کی واپسی کا علم ہو گیا انہوں نے اس قافلہ کو جمادی الاولیٰ سن 6 ہجرى میں گرفتار کر لیا اور ان کے اموال کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور ابو العاصؓ قافلہ والوں سے گریز کرتے ہوئے قافلہ سے قبل مدینہ طیبہ پہنچ گئے اور سیدہ زینبؓ کے ہاں پناہ لی سیدہ زینبؓ نے ان کو پناہ دے دی باقی قافلہ والے مدینہ شریف بعد میں پہنچے۔ عام مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع تھی جب صبح کی نماز نبی اقدسﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کی صفوں میں سے سیدہ زینبؓ نے آواز دی کہ اسے مسلمانو! میں نے ابو العاصؓ بن الربیع کو پناہ دے دی ہے نبی اقدسﷺ نے جب یہ سنا تو آنجنابﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا جو کچھ میں نے سنا تم نے بھی سن لیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں ۔ یا رسول اللہﷺ! اس کے بعد آپ نے بطورِ حلف کلام فرمایا کہ مجھے بھی پہلے اس بات کا علم نہیں تھا اور جب مسلمانوں کا ایک ادنیٰ شخص کسی کو پناہ دے دے تو اس کی پناہ اسلام میں منظور کی جاتی ہے اور اس کا پناہ دینا درست ہوتا ہے ( لہٰذا زینبؓ کا ابو العاص كو پناہ دینا صحیح قرار دیا جاتا ہے اس کو مسلمان ملحوظ رکھیں۔ اس کے بعد نبی کریمﷺ اپنی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے گھر تشریف لائے اور زینبؓ کو ارشاد فرمایا اے پیاری بیٹی! اكرمی مثواه ان کی خاطر داری اچھی کرنا اور ان کو باعزت رکھنا ، اور ازدواجی تعلق سے پرہیز رکھنا اس کے بعد سردار دو عالمﷺ نے ان صحابہ کرامؓ کی طرف آدمی بھیجا جنہوں نے ابو العاصؓ کے اموال کو ضبط کر لیا تھا اور اپنی نگرانی میں لیئے ہوتے تھے۔ حضورﷺ کا حکم ہوا کہ ابو العاصؓ کے تمام اموال اس کی طرف واپس کر دیئے جائیں اور ان میں سے کوئی چیز روک نہ رکھی جائے چنانچہ ابو العاصؓ نے اپنا تمام مال وصول کر لیا اور مکہ شریف واپس آ گئے مکہ معظمہ میں پہنچنے کے بعد جن لوگوں کے مال ابو العاصؓ کے پاس تھے ان تمام کو بلوایا اور ان کے اموال انہیں واپس کر دیئے اس کے بعد ان سے کہا کہ اے قریش کی جماعت! کسی ایک کے لئے میرے پاس مال باقی رہ گیا ہے؟ یا تم نے وصول کر لیا سب نے کہا کہ اب ہمارا کسی کا کوئی مال تمہارے پاس نہیں۔ فجزاك الله خيرا و قد وجدناك وقياً کریما یعنی اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر عطاء فرمائے ہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا۔ اس کے بعد جماعتِ قریش کے سامنے ابو العاصؓ نے اعلان کیا انی اشهد ان لا اله الا الله وأن محمدا عبدہ و رسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی پرستش کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسولﷺ ہیں۔ اللہ کی قسم ! مدینہ شریف میں اسلام لانے سے صرف یہ چیز مجھے مانع رہی کہ کہیں تم لوگ یہ گمان کرنے لگیں کہ میں نے تمہارے اموال کو کھا جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف تمہارے اموال واپس کر دیئے اور میں ان سے فارغ گیا تو اب میں اسلام لایا ہوں اس کے بعد ابو العاصؓ بن ربیع مکہ سے نکل پڑے اور نبی اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور پھر ان کا اسلام بڑا عمدہ اور پختہ ہو گیا اور نبی اقدسﷺ نے سیدہ زینبؓ کو نکاحِ اوّل پر ہى ابو العاصؓ بن الربيع كى طرف واپس کر دیا۔

 (البدايه والنہایه صفحہ 333 جلد 3 فصل فی قدوم زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ مہاجرة من مكه الى مدینہ)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 21، 22 جلد 8 تحت ذکر زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ)

(ذخائر عقبیٰ صفحہ 159 في مناقب ذوى القربیٰ لاحمد بن عبد الله المحب الطبری تحت ذکر اسلام زوجها ابی العاصؓ)

(الاصابه لابن حجر صفحہ 306جلد 4 تحت ذکر من اسمها زینبؓ بنتِ سید ولد آدم)

 (الفتح الربانی ترتیب مسند احمد بن حنبل صفحہ98، جلد22 روایت 892 طبع مصر)

(المصنف لعبد الرزاق صفحہ 171، 172جلد 7 باب متی ادرک الاسلام من نکاح اوطلاق)

ناظرین کرام! کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ابتداء اسلام میں زوجین کا آپس میں مسلمان ہونا نکاح کے لئے ضروری نہیں تھا۔ اور ابتداء اسلام میں بہت سے ایسے نکاح قائم رہے جن میں زوج یا زوجہ میں سے ایک مسلمان ہوتا تھا تو دوسرا کفر پر ہوتا تھا۔ اس دستور مروجہ کی بنا پر سیدہ زینبؓ ابو العاصؓ کے نکاح میں رہیں مدینہ شریف سن 6 ہجری صلح حدیبیہ کے سال میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو مشرکین پر حرام کر دیا۔

 انما حرم الله المسلمات على المشركين عام الحديبية سنة ست من الهجرة

(البدايه لابن کثیر صفحہ311 جلد3 فصل في وصول غير مصائب اہلِ بدر)

 ابو العاصؓ جس وقت اسلام لا کر مدینہ منورہ پہنچے تو بعض علماء کہتے ہیں کہ سیدہ زینبؓ کو نکاح جدید اور مہر جدید کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ نکاح اول پر ہی ان کو ابو العاصؓ کی طرف روانہ کیا گیا۔ مندرجات بالا کی روشنی میں بعض لوگوں کا یہ اعتراض کرنا بے جا ہے کہ ابو العاصؓ تو غیر مسلم تھے ان کی زوجیت میں سیدہ زینبؓ کا رہنا کس طرح صحیح ہوا وجہ یہ ہے کہ فریقین کے کبار علماء نے تصریح کر دی ہے کہ مسلم و مشرک کے درمیان ابتداء اسلام میں مناکحت جائز تھی بعد میں منع ہوتی ہے اور قبل از منع یہ ازدواجی تعلقات درست تھے ان میں کوئی حرج نہیں تھا۔ ذیل میں علماء کے بیانات ملاحظہ فرمائیں اور ہم نے شیعہ علماء کے بیانات نقل کرنے پر اکتفاء کی ہے ہمارے علماء تو اس چیز کے بلا اختلاف قائل ہیں شیعہ کے مشہور عالم شیخ ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی اپنی تفسیر مجمع البیان میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی لڑکیوں کے واقعے کے کے تحت لکھتے ہیں۔ 

 وكذا كان يجوز ایضاً في منتداء الاسلام وقد زوج النبیﷺ بنته من ابی العاص بن الربيع قبل ان يسلم ثم نسخ ذالك.

صفحہ 7 از 17