سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 6 از 17

دوسری روایت کا مطلب یہ ہے کہ آنجنابﷺ نے بنی عبد الشمس کے ساتھ اپنے رشتہ (دامادی) کا ذکر فرمایا دامادی کے حق میں اس کی ثنائے خیر فرمائی اور اس کے عمدہ معاملہ کی تحسین فرمائی نیز فرمایا کہ اس نے میرے ساتھ کلام کیا ہے اور سچ کہا ہے اور اس نے میرے ساتھ وعدہ کیا اور اس کو ٹھیک طور پر پورا کر دکھایا۔ مختصر یہ ہے کہ نبی کریمﷺ ابو العاصؓ کے داماد ہونے میں اس کی تعریف فرمایا کرتے تھے اور اس کے ایفائے عہد کی تحسین فرماتے یہ ابو العاصؓ کے حق میں اس کے عملی کردار کی بہت بڑی توثیق اور تصدیق کا پایا جانا کوئی معمولی بات نہیں یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور اس کے عمدہ کردار کی ترجمانی کرتی ہے۔ 

(البداية لابن كثير صفحہ 354جلد6 تحت ابی العاصؓ بن الربيع 2 ہجری)

صاحبزادی سیدہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ایک عمدہ فضیلت

  جس طرح مسلمان مردوں نے سفرِ ہجرت میں بڑی بڑی اذیتیں اٹھائیں اسی طرح اہلِ اسلام کی عورتیں نے بھی ہجرت کے واقعہ میں مختلف تکالیف برداشت کیں۔ عورت چونکہ صنفِ نازک ہے اور مردوں کی نسبت فطرتاً کمزور اور ضعیف واقع ہوتی ہے وہ معمولی تکلیف میں بھی نہایت پریشان اور خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ نبی اقدسﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے سفرِ ہجرت کے درد ناک واقعات اوپر ذکر ہو چکے ہیں ان معصومہ نے یہ مصائب صرف دین کی خاطر برداشت کیئے اور نبی اقدسﷺ کی صاحبزادی ہونے کی وجہ سے ان کو یہ جان گریزاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہجرت کرتے ہوئے انہیں راستے میں جا کر روکنا اور غیر معمول تشدد کرنا صرف اس لئے تھا کہ آپؓ حضور اکرمﷺ کی صاحبزادی تھیں ورنہ ان معصومہ کا کوئی قصور نہیں تھا نہ ہی وہ کسی جرم کی مرتکب تھیں ان کی یاد اس وقت بنتِ خدیجہؓ کی حیثیت سے نہ تھی بنتِ رسول کی حیثیت سے ان سب مشکلات کا باعث تھی۔ تاہم سیدہ زینبؓ نے یہ تمام مشکل مراحل گزار کر اور مصائب برداشت کر کے جب دربار رسالتﷺ میں پہنچیں اور تمام واقعات گوش گزار کیئے تو نبی کریمﷺ نے اپنی پیاری صاحبزادی کے بارے میں ارشاد فرمایا ۔ 

 هي خير بناتی أصيبت في اور بعض روایات کے اعتبار سے هي افضل بناتی أصببت في

 (مجمع الزوائد للهيثمی صفحی213 جلد9 باب ما جاء في فضل زينبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

(دلائل النبوة للبيہقى صفحہ 426 جلد 2 باب ما جاء في زينبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

یعنی میری بیٹیوں میں زینبؓ سب سے افضل ہے۔ جو میری وجہ سے مصیبت زدہ ہوئیں اور انہیں اذیت دی گئی۔ آنجنابﷺ کا یہ ارشاد گرامی سیدہ زینبؓ کے سفرِ ہجرت سے بعد کا ہے اور متعدد علماء نے اس کو اپنی تصانیف میں نقل کیا ہے ہم نے بطور اختصار کے صرف دو مصنفین کا حوالہ دیا ہے اطمینان کے لئے اس قدر کافی ہے اس میں آنجنابﷺ نے صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے حق میں ایک بڑی فضیلت کا اظہار فرمایا ہے۔ دینِ اسلام کے معاملہ میں ایمان اور یقین کے اعتبار سے سیدہ زینبؓ کا مقام بہت اونچا ہے جس کی خبر انہیں دربار نبوتﷺ سے بطور خوشخبری کے دی گئی

ناظرین کرام! کی خدمت میں یہ وضاحت ذکر کی جاتی ہے کہ یہ فضیلت جو سیدہ زینبؓ کے لئے رسالت مآبﷺ کی زبان مبارک سے ذکر کی گئی ہے یہ تحمل مصائب اور شدائد کے برداشت کرنے کے پیش نظر ہے۔ اور سیدہ فاطمہؓ کی فضیلت عظیمہ جو زبانِ نبوتﷺ سے ثابت ہے وہ "سیادت" کے بارے میں ہے۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ باپ اپنی جگہ موجود ہے بیٹے سے افضل بھی ہے مگر بعض دوسرے وجوہ کے باعث بیٹا قوم کا سردار ہوتا ہے۔ افضل ہونا اور بات ہے اور سراہنا اور بات ہے آپﷺ کی دونوں بیٹوں کی شان اپنی جگہ مسلم ہے ان کا آپس میں تقابل پیدا کرنا مقصود نہیں۔ "انزلوا الناس على قدر منازلهم" قول مشہور ہے سو اس کے موافق معاملہ کرنا ہر پہلو سے درست ہے۔

 نیز یہ توجیہ بھی ہو سکتی ہے کہ سیدہ زینبؓ کے حق میں جو الفاظ فضیلت فرمائے گئے ہیں وہ جزوی فضیلت ہے جو آنجنابﷺ کی دیرینہ رفاقت آپؓ کو حاصل رہی اور سیدہ فاطمہؓ کے حق میں جو الفاظ مروی ہیں وہ فضیلتِ عامہ کے اعتبار سے ہیں کہ یہی بیٹی آنجنابﷺ کے بعد زندہ رہی اور آنجنابﷺ نے اپنی اولاد میں سے اس کو باقی چھوڑا ۔ لہٰذا اس معاملہ میں کوئی باہمی منافات نہیں ۔ اس پر سیدہ فاطمہؓ کے سوانح کے تحت ان شاء اللہ تعالیٰ مزید گفتگو ہوگی۔

تنبیہ

اس مقام میں عروہؓ اور سیدنا زین العابدینؓ کے درمیان جو مکالمہ پایا جاتا ہے وہ بعض راویوں کی طرف سے مدرج ہے اور ان کا اپنا بیان قرینہ یہ ہے کہ دورِ نبوتﷺ میں اور دورِ صحابہ کرامؓ میں انتقاص حق فاطمہؓ کا یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک اہم دور گزر جانے کے بعد یہ مسئلہ پیدا کیا گیا اور اکابر کی طرف اس کی نسبت کر دی گئی۔ روایت میں الفاظ کے اوراج کو پہچاننا حاذق محدثین کا کام ہے مسئلہ میں افراط تفریط کا پہلو اختیار نہ کیا جائے۔ تو مسئلہ از خود صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا ہے۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے پناہ دینے کا واقعہ پھر اس کے بعد ابو العاصؓ کا اسلام لانا

صفحہ 6 از 17