سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 5 از 17

 بیٹی سوتیلی ہو تو اسے رشتہ اور میکہ داری کا تعلق بیوی (اس کی ماں) کی زندگی تک ہوتا ہے مذکورہ واقعہ اس دور کا ہے جب سیدہ خدیجہؓ وفات پا چکی تھی اس کے بعد حضورﷺ وطن بھی چھوڑ چکے تھے اب اس حال میں سیدہ زینبؓ کی واپسی اور مدینہ میں ان کی طلب ماں کی مامتا کے وراء باپ کا جذبہ شفقت پدری ہے اگر زینبؓ سیدہ خدیجہؓ کے پہلے خاوند کی بیٹی ہوتیں تو حضور انہیں ان بدلے حالات میں ہر گز مدینہ میں طلب نہ فرماتے۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہجرت کا واقعہ اور ہبار بن اسود کی ایذا رسانی

ابو العاصؓ بن ربیع رہا ہو کر جب مکہ پہنچ گئے سیدہ زینبؓ کو تمام احوال ذکر کیئے اس وقت ابو العاصؓ نے سیدہ زینبؓ کو بطبیبِ خاطر کہ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے آپ بخوشی اپنے والد شریف کے ہاں جا سکتی ہیں۔ سیدہ زینبؓ سفرِ ہجرت کی تیاری میں لگ گئیں۔ جب تیاری سے فارغ ہوئیں اور وعدہ کے ایام بھی آ گئے تو ابو العاصؓ نے اپنے بھائی کنانہ بن ربیع کی نگرانی میں ان کو رخصت کیا سیدہ زینبؓ اونٹ پر سوار ہوئیں اور کنانہ نے اپنی قوس اور فردکش وغیرہ کو بھی ساتھ کیا کنانہ آگے آگے ساتھ چل رہا تھا اور سواری کو کھنچے لئے جارہا تھا سیدہ زینبؓ سواری کے اوپر کجاوہ میں فروکش تھیں اس دوران اہلِ مکہ کو اطلاع ہو گئی کہ زینبؓ ہجرت کیئے جا رہی ہیں (یہ دن کا واقعہ تھا، جب وادی ذی طویٰ کے پاس سیدہ زینبؓ پہنچی ہیں تو مکہ والے پیچھے سے معارضہ کے لئے آ پہنچے۔ پہلا وہ شخص جو سبقت کرتے ایذاء پہنچانے کے لئے درپے ہوا۔ ہبار بن اسود تھا۔ اس نے نیزہ لگایا سیدہ زینبؓ ہودج (کجاوہ) میں تھیں اور امید سے تھیں۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ سیدہ زینبؓ کو سواری سے گرا دیا گیا۔ آپ چٹان پر گر گئیں۔ سخت چوٹ آنے کی وجہ سے خون جاری ہو گیا اور بہت مجروح ہو گئیں۔ اس وقت کنانہ نے اپنا ترکش کھول دیا اور معارضہ کرنے والوں پر تیر اندازی شروع کر دی۔ اور کہا جو بھی قریب آئے گا۔ اس کو تیروں سے پرو دیا جائے گا۔ تب وہ کہیں معارضہ سے نرم پڑے اور ہٹنے لگے۔ 

وكان أول من سبق اليها هبار بن الاسود بن المطلب بن اسد ابنِ العزىٰ الفهري فروعها هبار بالرمح وهي في الهودج وكانت حاملا فيما يزعمون فطرحت برك حموها كنانة ونثر كنانة ثم قال والله لايد نوا منى رجل الا وضعت فيه سهما فتكر كر الناس عنه

ہباربن اسود کے متعلق حافظ ابنِ حجرؒ نے الاصابہ میں لکھا ہے کہ ہبار نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور توحید ورسالت کا اقرار کیا اس کے بعد اس نے اپنے سابقہ جرائم اور معاصی کی بھی معذرت پیش کی اور اپنی جہالتوں کا اقرار کر کے معافی طلب کی۔ جناب نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ۔

 قد عفوت عنك وقد احسن اليك حيث هداك الى الاسلام والاسلام يجب ما قبله

 (الاصابة صفحہ 566جلد3 تحت ہباربن اسود)

یعنی میں نے تجھ کو معاف کر دیا تحقیق اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ عمدہ معاملہ کیا ہے اس طور پر کہ اس نے تجھے اسلام کی ہدایت دی ہے اور اسلام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ 

(البدايه والنہايه صفحہ 330 جلد، 3)

 فصل فی قدوم زینبؓ بنتِ رسول اللهﷺ مہاجرة من مكه الى مدينة

 (مجمع الزوائد للهيثمى صفحہ 215 ،216 جلد9 باب ما جاء في فضل في زينبؓ بنتِ رسول الله)

 (نسبِ قریش صفحہ 219 تذکرہ بن ہبار بن اسود)

 (المنتخب من ذيل المذيل من تاريخ الصحابه والتابعين از محمد بن جریر الطبری صفحہ3 تحت حالات زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ)

اس موقعہ پر سخت مقابلہ پیش آنے کی وجہ سے سیدہ زینبؓ کو واپس ہونا پڑا او کفارِ مکہ سیدہ زینبؓ کے برملا سفرِ ہجرت کو گورا نہیں کر سکتے تھے۔ اس وجہ سے چند راتیں سیدہ زینبؓ اس پیش قدمی سے خاموش ہو گئیں۔ جب اس واقعہ کا چرچا فرد ہو گیا تو سیدہ زینبؓ رات کو اپنے دیور کے ساتھ مکہ سے باہر تشریف لے گئیں ۔ اور زید بن حارثہؓ اپنے ساتھی سمیت جو اس کام کے لئے مستقل طور پر مدینہ منورہ سے آئے ہوئے تھے اور وہ ان کے منتظر تھے ان کے پاس پہنچا دیا گیا پس وہ دونوں سیدہ زینبؓ کو لے کر نبی کریمﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گئے اور امانت داروں نے آنجنابﷺ کی امانت کو بڑی عزت اور احترام کے ساتھ پہنچا دیا۔

  فاقامت ليال حتى اذا هدأت الاصوات خرج بها ليلا حتى أسلمها إلى زيد بن حارثه وصاحبه فقد ما بها على رسول اللهﷺ

 (البدايه والنہايہ صفحہ330، 331جلد 3 فصل في قدوم زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ مہاجرة من مكة إلى المدينه)

یعنی زید بن حارثہؓ اور ان کے ساتھی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللّٰہ عنہا کو لے کر آنجنابﷺ کی خدمت میں بخیریت پہنچ گئے۔ اس مقام میں یہ چیز واضح کر دینا مناسب ہے کہ نبی اقدسﷺ نے جب ابو العاصؓ کو بدر کے قیدیوں سے رہا فرمایا تھا اور خدیجہؓ کا ہار بھی واپس کر دیا تھا تو اس وقت ابوالعاصؓ سے وعدہ لیا تھا کہ جب آپ مکہ شریف پہنچیں تو میری لڑکی زینبؓ کو ہمارے ہاں مدینہ طیبہ بھیج دینا۔ ابو العاصؓ نے آپﷺ کی خدمت میں اس وعدہ کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا۔ جب ابو العاصؓ مکہ شریف میں پہنچے تو اسی وعدہ کے مطابق وہاں جا کر سیدہ زینبؓ کو مدینہ روانہ کر دیا۔ اس بنا پر نبی اکرمﷺ فرمایا کرتے تھے۔ 

"اني انكحت ابا العاص بن الربيع فحدثنی وصدقنی »

ابنِ شہاب کی روایت میں اس طرح ہے کہ مسور کہتا ہے:

سمعت النبيﷺ ذكر صهرً اله من بنى عبد الشمس فأثنى عليه في مصاهرته اياه فأحسن قال حدثني وصدقني ووعد فی فوقى لى

(بخاری شریف صفحہ 438جلد1 باب ما ذكر من درع النبيﷺ)

 (بخاری شریف صفحہ 527جلد1 کتاب المناقب تحت اصہار النبیﷺ)

 (مسند احمد صفحہ 326جلد 4 تحت روایات مسور بن مخرمه)

 مفہوم: عبارت یہ ہے کہ رسول خداﷺ فرماتے تھے کہ ابو العاصؓ ابنِ ربیع کو میں نے نکاح کر دیا اس نے میرے ساتھ گفتگو کی اور راست گوئی کی۔ 

صفحہ 5 از 17