سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 4 از 17

جنگِ بدر میں جب اہلِ اسلام کو فتح ہو گئی تو جنگی قاعدہ کے مطابق شکست خور کفار کو اہلِ اسلام نے قید کر لیا اور قیدیوں کو حسبِ دستور مرکزِ اسلام مدینہ میں لایا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا جو لوگ بدر میں قید کر کے یہاں لائے گئے ہیں ان سے معقول معاوضہ لے کر انہیں رہا (آزاد) کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ابو العاصؓ ابن ربیع بھی مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو کر مدینہ میں آئے ہوئے تھے اور عباس بن عبد المطلب عمِّ نبوی بھی اس زمرہ میں قید ہو کر مدینہ شریف پہنچے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ جناب عباس بن عبد المطلب و ابو العاصؓ و غیرہما ایسے حضرات تھے جو اپنی قوم کی مجبوری کی بنا پر کفار کے ساتھ آ گئے تھے لیکن انہوں نے اہلِ اسلام میں سے کسی کو قتل نہیں کیا تھا تاہم ان کا شمار زمرہ مخالفین میں ہی تھا۔ پھر اہلِ مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کو خلاص اور واگزار کرانے کے لئے فدیے اور معاوضے بھی مدینہ طیبہ ارسال کیئے تھے۔ اس ضمن میں ابو العاصؓ کی رہائی کے لئے سیدہ زینبؓ نے اپنا وہ ہار جو ان کو ماں خدیجہؓ کی طرف سے عطا شدہ تھا، ابو العاصؓ کے فدیہ کے طور پر ارسال کیا۔ مدینہ شریف میں یہ فدیے اور معاوضے رسالت مآبﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیے گئے اور ابو العاصؓ کا معاوضہ سیدہ زینبؓ کی طرف سے ہار کی شکل میں پیش ہوا اور رسالت مآبﷺ نے اس پر نظر فرمائی تو آنجنابﷺ پر (بلا اختیار) رقت کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اور اس کو دیکھ کر سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔ نبی کریمﷺ کی اس کیفیت کے اثر میں تمام اہلِ مجلس متاثر ہوئے آنجنابﷺ نے اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ارشاد فرمایا اگر تم ابو العاصؓ کو رہا کرو اور زینبؓ کے اس ہار کو جو ان کے عوض میں انہوں نے ارسال کیا ہے واپس کر دو تو تم ایسا کر سکتے ہو اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ کا ارشاد درست ہے ہم ابو العاصؓ کو بلاعوض خلاص کرتے ہیں اور زینبؓ کے ہار کو واپس کرتے ہیں۔ اس موقع پر سردارِ دو جہاںﷺ نے ابو العاصؓ سے عہد لیا اور وعدہ لیا تھا کہ جب آپ مکہ میں واپس پہنچیں تو سیدہ زینبؓ کو ہمارے ہاں پہنچنے کی اجازت دے دیں۔ ابو العاصؓ نے یہ عہد کر لیا چنانچہ ابو العاصؓ کو بلا معاوضہ رہا کر دیا گیا۔ اور سیدہ خدیجہؓ والے ہار کو بھی سیدہ زینبؓ کی طرف واپس بہیج دیا گیا یہ واقعہ متعدد کبار محدثین اور مشہور اہلِ سیرت وتاریخ نے اپنے اپنے انداز میں ذکر کیا ہے۔ یہاں چند حوالہ جات نقل کیئے جاتے ہیں پہلے سنی علماء کے حوالہ جات درج ہیں پھر ساتھ ہی شیعہ علماء کی عبارت بطور تائید کے نقل کر دی ہے۔

"عن عائشةرضی اللہ عنہا قالت لما بعث اهل مكة في فداء اسرائهم بعثت زينب في فداء إبى العاص بمال وبعثت فيه بقلادة كانت خديجةؓ ادخلتها بها على أبي العاص حين بنا عليها فلما رأها رسول اللهﷺ رق لها رقة شديدةً وقال ان رأيتم ان تطلقوا لها أسيرها و تردوا عليها الذي لها فافعلوا! قالوا نعم يا رسول الله فأطلقوه وردوا عليها الذي لها وكان رسول اللهﷺ قد اخذ عليه اووعد رسولﷺ ان يخلى زينب اليه"

 (دلائل النبوة للبيهقى صفحہ 423 ،424,جلد2  تحت باب ما جاء فى زينبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

 (مسند احمد بن حنبل صفحہ 276, جلد6 ( سادس) تحت مسندات عائشہؓ)

(ابو داؤد شریف صفحہ 367 جلد 2 طبع مجتبائی دہلی باب فی قداء الاسير بالمال)

 (مشکٰوة شريف صفحہ 346 عن عائشهؓ باب حکم الاسراء الفصل الثانی بحوالہ احمد وابی داؤد)

(البدايه والنہايه لابن كثير صفحہ 312 جلد 3 فصل في وصول خبر مصائب اہلِ بدر)

 اور شیعہ علماء لکھتے ہیں

 " ابو العاص در جنگ، بدر اسیر شد و زینبؓ قلاده که حضرت خدیجه رضی اللہ عنہا باد داده بود بنیز دحضرت رسول اللہﷺ فرستاد برائے فدائے شوہر خود چوں حضرت، نظرش بر قلاده افتاد خدیجه رضی اللّٰہ عنہا را یا نمود و رقت کرد و از صحابه طلب نمود که فدائے او را بخشند و ابو العاص را بے فدا رہا کنند. صحابه چنین کردند۔ حضرت از ابو العاص شرط گرفت که چوں بمکه برگرد و زینب رضی اللہ عنہارا بخدمت آنحضرت فرستد - او شرط خود و فا نمود زینبؓ را فرستد بعد ازاں خود بمدینه آمد و مسلمان شد(1)"

(حواشی منتهی الآمال طبع طہران صفحہ 108 جلد1 فصل ہشتم از شیخ عباس القمی در بیان احوال اولاد امجاد آنحضرتﷺ است)

ترجمہ

ابو العاصؓ غزوۂ بدر میں قید ہو گئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر (ابو العاصؓ) کے فدیہ میں اپنے والد ماجد رسول مقبولﷺ کی خدمت میں وہ ہار بھیجا جو انہیں ان کی والدہ سیدہ خدیجہؓ نے عطا فرمایا تھا۔ حضورﷺ نے ہار دیکھا تو خدیجہؓ کی یاد تازہ ہو گئی اور جسم اطہر پر رقت کی کیفیت طاری ہو گئی آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خواہش ظاہر کی کہ وہ ابو العاصؓ کو بغیر فدیہ کے رہا کر دیں چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسے ہی کیا ۔ آپﷺ نے ابو العاصؓ سے عہد لیا کہ وہ مکہ جا کر سیدہ زینب رضی اللّٰہ عنہا کو آپﷺ کے پاس مدینہ منورہ میں بہیج دیں گے۔ ابو العاصؓ نے اس شرط کو پورا کیا۔ مکہ جا کہ زینبؓ کو بھیج دیا بعد میں خود بھی مدینہ پہنچ کر مسلمان ہو گئے۔ اب یہ صورت پیش آئی کہ ابو العاصؓ کو مذکورہ وعدہ لینے کے بعد رہا کر دیا گیا اور ساتھ ہی سیدہ زینبؓ کے ہار کو واپس کر دیا گیا۔ چند ایام کے بعد سیدہ زینبؓ کو لانے کے لئے سردارِ دو عالمﷺ نے زید بن حارثہؓ اور ایک انصاری کو روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ فلاں وادی کے فلاں مقام میں جا کر انتظار کرنا بعض محدثین کہتے ہیں کہ اس وادی کا نام یأجج تھا۔ان کو فرمان تھا کہ اس وادی کے پاس زینبؓ پہنچیں گی تم ان کے ساتھ ہو لینا اور یہاں مدینہ میں لا کر ہمارے ہاں پہنچا دینا۔

 و بعث رسولﷺ زيد بن حارثة و رجلاً من انصار فقال كونا ببطن يأجج حتٰى تمربكما زينبؓ فتصحباها حتٰى تاتيا بها 

(ابو داؤد شریف صفحہ 367 جلد2 تحت في نداء الاسير بمال)

 (طبقات ابنِ سعد صفحہ 20 جلد81 تحت ذکر زینبؓ)

 مقامِ غور

صفحہ 4 از 17