سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 3 از 17

مختصر یہ کہ نبی اقدسﷺ اور دیگر محصور حضرات بنی ہاشم کے حق میں ابوالعاصؓ بن ربیع نے اس مشکل ترین دور میں خصوصی اعانت کی تھی اور حق قرابت داری کو بطریقہ احسن سرانجام دیا تھا۔ یہ چیز ابوالعاصؓ کے اخلاص اور اعلیٰ کردار کی دلیل ہے اور مواساة و جذبہ غم خواری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس واقعہ کو ابو العاصؓ کے خصوصی کارناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 اسی مضمون کو شیعہ کے مشہور عالم ملا باقر مجلسی نے اپنی تصنیف "مرأة العقول" شرح اصول صفحہ 183 جلد خامس5 میں تحت باب مولد النبیﷺ (طبع تہران) درج کیا ہے۔

شعب ابی طالب میں حکیم بن حزامؓ کا تعاون

 اس مضمون کو ابنِ کثیرؒ نے البدایہ والنہایة کے صفحہ 68 جلد ثامن تحت حکیم بن حزامؓ سن54 ہجری (طبع مصر) بعبارت ذیل نقل کیا ہے :

" كان حكيم بن حزام ، يقبل بالعير يقدم من الشام فيشتريها بكما لها بها ثم یذھب بھافيضرب ادبارها حتى يلج الشعب يحمل الطعام و الكسوة تكرمة الرسول اللهﷺ ولعمته خدیجة بنت خویلد"

 قوم کی طرف سے طلاق دلانے کا منصوبہ اور ابو العاصؓ کا صاف انکار

 نبی اقدسﷺ نے مکی زندگی میں بڑے ابتلا اور آزمائش کا دور گزارا ہے سب اہلِ مکہ اور مضافات کے قبائل سب اسلامی تعلیم کے خلاف تھے۔ توحید اور رسالت کے مسائل سننے اور سمجھنے کے لئے یہ معاشرہ ہرگز تیار نہ تھا۔ اور اپنے پرائے جو اسلام میں داخل نہیں ہوتے تھے، مسلمانوں سے سب انتہائی بغض رکھتے تھے) اسلام اور اہلِ اسلام کے ساتھ عداوت انتہاء تک پہنچی ہوئی تھی اس انتہائی مشکل ترین دور میں جہاں آنجنابﷺ نے اسلامی تعلیم کی مساعی جاری رکھیں اور ترویج دین کی کوشش فرماتے رہے وہاں آپ معاشرتی مسائل کو بھی نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہے۔ آنجنابﷺ نے عرب کے عام دستور کے مطابق اپنی صاحبزادیوں کے نکاح اپنی قوم اور قبیلہ میں کر دیئے تھے۔ اہلِ مکہ کی اسلام کے ساتھ مخالفت انہوں نے ہر معاملے میں مشکلات کھڑے کرنے کا نصب العین بنا لیا حتیٰ کے ازواجی مسائل میں بھی انہوں نے مخالفت کی راہ اختیار کی اور نبی کریمﷺ کی صاحبزادیوں کے نکاح جن لوگوں سے ہو چکے تھے ان سے نکاح ختم کروانے اور طلاق دلوانے کا عزم کر لیا۔

 نبی اکرمﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کا نکاح ابو العاصؓ بن ربیع سے ہو چکا تھا۔ زعماء قوم قریش نے ابو العاصؓ کو اس سلسلہ میں جاکر مجبور کیا کہ آپ زینبؓ بنتِ محمدﷺ کو طلاق دے دیں اور قبیلہ قریش میں سے جس عورت کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں ہم وہ عورت پیش کر سکتے ہیں۔ ابو العاصؓ نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی زینبؓ کو طلاق دے کر اپنے سے جدا نہیں کر سکتا اور اس کے عوض میں قریش کی کسی عورت کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی قریش کی کوئی عورت اس کے عوض میں مجھے مطلوب ہے۔

" فلما نادى قريشاً بامر الله تعالى اتوا ابا العاص بن ربيع فقالوا فارق صاحبتك ونحن نتزوجك بای امراة شئت من قريش فقال لا والله لا افارق صاحبتي وما يسرني ان لى بأمراتى افضل امرأة من قريش"

(ذخائر العقبٰی صفحہ 157 تحت ذکر تزویجها زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ)

( البدايه لابن كثير صفحہ311 جلد 3 فصل في وصول خبر مصائب اہلِ بدر)

 (تاريخ الخميس للديار السكرى صفحہ 273 جلد1 تحت ذکر زینبؓ)

 ابو العاصؓ کا قرابتداری میں کامل اخلاص اور آنجنابﷺ کی طرف سے انکی قدردانی

 ابو العاصؓ بن ربیع نے اس موقع پر اپنی ثابت قدمی کا پورا مظاہرہ کیا اور قریش نے بھی نبی اقدسﷺ کے ساتھ اس رشتے کو ختم کرانے کے لئے پوری قوت صرف کی ابو العاصؓ قابل صد مبارکباد ہیں کہ وہ ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے اور انہیں قومِ قریش کے مسلک پر تھے اس کے باوجود جب قوم نے مسئلہ طلاق اور تفریق بین الزوجین پر زور دیا تو آپ نے رسالت مآبﷺ کے ساتھ رشتہ داری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ جواب دیا :

 قال لا والله اذن لا افارق صاحبتي له

(البدایہ لابن کثیر صفحہ 311,312جلد 3 تحت فصل وصول خبر مصائب لاہلِ بدر)

 یعنی اللہ کی قسم میں اپنی بیوی سیدہ زینبؓ سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتا"

 ابو العاصؓ کا یہ استقلال بہت قابلِ قدر ہے۔ اور رسالتِ مآبﷺ کی ابو العاصؓ نے نہایت قدردانی کی ہے اور آنجنابﷺ کے ساتھ برادرانہ قرابتداری کو خلوص کے ساتھ قائم رکھا ہے۔ اور سردارِ دو عالمﷺ نے بھی اس مسئلہ میں اس کی شکر گزاری اور قدر دانی کو عمدہ الفاظ کے ساتھ سراہا ہے اور اس مسئلہ میں ابو العاصؓ کے حق میں ثناء خیر بیان فرمائی آنجنابﷺ سے یہ فرمودات اسی موقع پر صادر ہوئے تھے جب قریش نے سیدہ زینبؓ کی طلاق طلب کی تھی اور ابو العاصؓ نے ان کو طلاق دینے اور اپنے سے جدا کر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ علمائے سیرة نگار اس موقع پر ابو العاصؓ کے حق میں لکھتے ہیں: 

 "وكان ابو العاص بن ربيع مواخيا لرسول الله ﷺ مصافيا له وكان ﷺ قد شكر مصاهرة واثنى خيرا حين ابی ان يطلق زينب لما سألته قريش ذالك"

(ذخائر العقبة منها تحت ذكر السلام زوجها ابى العاصؓ)

(البدايه والنہايه لابن كثير صفحہ311، 312 جلد3 تحت فصل وصول خبر مصائب اہلِ بدر)

 مکّی زندگی کا آزمائشی دور

 اہلِ مکہ کی طرف سے جب مسلمانوں کے حق میں عداوت شدت اختیار کر گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی اقدسﷺ کے اذن سے مسلمان مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اور حسبِ اتفاقات، یہ ہجرت جاری رہی پھر فرمان الہٰی نبی کریمﷺ نے بھی ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے بعد اسلام کا ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ مدینہ شریف پہنچ کر مالک کریم کی طرف سے کفار کے ساتھ قتال کرنے کی اجازت مل گئی مدنی زندگی میں اسلام اور کفر میں بڑا مقابلہ رہا بڑی بڑی جنگیں لڑیں گئیں۔ ایک مشہور جنگ غزوۂ بدر کے نام سے معروف ہے۔ اس میں قریشِ مکہ اپنی پوری تیاری سے اہلِ اسلام کے مقابلے کے لئے بدر میں پہنچے تھے اور ادھر اہلِ اسلام مدینہ شریف سے سردارِ دو عالمﷺ کی قیادت میں تھے میدانِ جہاد پہنچے غزوۂ ہذا (بدر ) کی تفصیلات عام اہلِ علم کو معلوم ہیں یہاں ان کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اس جگہ صرف ایک واقعہ جو ابو العاصؓ اور سیدہ زینبؓ سے متعلق ہے وہ ذکر کیا جاتا ہے۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہار کا واقعہ

صفحہ 3 از 17