سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 2 از 17

سردارِ دوعالم ﷺنے قوم کو جب دعوتِ دین دینا شروع کی اور قومِ قریش کو اسلام کی طرف بلایا تو وہ لوگ سخت برہم ہوئے اسلام کی دعوت زبان سے سننے کے لیے وہ ہر گز آمادہ نہیں تھے اور آنجنابﷺ کی ایذاء رسانی میں پیش پیش تھے۔ چنانچہ اس دور کا ایک واقعہ حدیث شریف کی کتابوں میں منقول ہے جس سے سیدہ زینب کی خدمات نمایاں ہوتی ہیں۔ 

علامہ الہیثمی نے طبرانی کے حوالہ سے الحارث بن الحارث کی زبانی نقل کیا ہے کہ وہ اپنے باپ حارث کے ساتھ ایک دفعہ مکہ شریف میں پہنچا۔ لوگ ایک شخص کے گرد جمع تھے جس کو وہ ”صابی" (نیا دین اختیار کرنے والا) کہتے تھے۔ یہ صاحبِ رسول خداﷺ تھے جو لوگوں کو توحید اور ایمان باللہ کی دعوت دے رہے تھے لیکن لوگ آنجنابﷺ کی بات کو رد کر رہے تھے اور آپﷺ کو ایذاء دینے کے درپے تھے یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہا حتیٰ کہ لوگ آپﷺ سے جدا ہونے لگے اس وقت ایک نو عمر خاتون آئیں جو پریشانی میں دو پٹہ پیچھے ڈالے ہوئے تھیں۔ پانی کا بڑا پیالہ اور ایک رومال اٹھائے ہوئے تھیں یہ چیزیں اس نے آنجنابﷺ کی خدمت میں پیش کیں تو آپﷺ نے پانی نوش فرمایا اور ہاتھ منہ صاف کیا۔ پھر آنجنابﷺ نے نظر اٹھا کر ارشاد فرمایا بیٹی یا دوپٹہ کو سینے پر ڈال لو اور ان حالات میں اپنے والد پر (ہلاکت کا کوئی خوف نہ کرنا ۔(اللہ تعالیٰ حافظ و ناصر ہیں)۔

ہم نے کہا یہ کون خاتون ہیں لوگوں نے جواب دیاکہ یہ آنجنابﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ ہیں۔ 

اس مقام میں واقعہ ہذا کے متعلق حدیث شریف میں متعدد روایات منقول ہیں ان میں سے ایک درست روایت کی اصل عبارت ذیل میں پیش کی جاتی ہے تاکہ اہلِ علم تسلی کر سکیں۔

 عن الحارث بن الحارث قال قلت لابي ما هٰذه الجماعة قال هؤلاء القوم الذين اجتمعوا على صابی لهم قال فنزلنا فاذا رسولﷺ يدعوا الناس إلى توحيد الله عز وجل والايمان وهم يردون عليه ويؤذونهٗ حتىٰ انتصف النهار وانصرع الناس عنه اقبلت امراءةً قد بد انحرها تحمل قدحاً ومنذيلاً فتناوله منها فشرب وتوضاً ثم رفع رأسه فقال يا بنيهٰ خمرى عليك نحرك ولا تنحا فين على ابيكِ قلنا من هذهٖ؟ قالوا هذهٖ زينب بنته

 "رواه الطبرانی ورجالہ ثقات"

(مجمع الزوائد للہیثمی صفحہ 21جلد سادس كتاب المغازی والسير باب تبلیغ النبیﷺ مارسل بهٖ وصبره علیٰ ذالك)

 واقعہ ہذا سے درج ذیل چیزیں مستفاد ہو رہی ہیں:

دین و اسلام کی ابتدائی مشکلات میں صاحبزادی سیدہ زینبؓ اپنے والد شریف کی معاونت میں ہمہ تن مصروف رہتی تھیں۔ اور اپنی استطاعت کے مطابق مقدور بھر خدمات سرانجام دیتی تھیں۔ اس دور میں پیغمبر اسلامﷺ کے ساتھ ادنیٰ تعاون بھی کوئی سہل کام نہ تھا، بلکہ اپنی جان کو خطرات میں ڈالنا تھا ۔

اور ان جاں گداز مراحل میں ہلاکتِ نفس کے خطرات سے آنجنابﷺ عزیزو کو بڑی شفقتوں کے ساتھ تسلی دلاتے کے ہمیں اس کا کوئی خوف و ہراس نہیں اللہ تعالیٰ ہمارا حافظ و ناصر ہے دین کے دشمن لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یہ دور جس طرح خدا کے آخری رسولﷺ کے لیے دشوار تر اسی طرح ان کی اولاد شریف اور دخترانِ عزیز کے حق میں بھی مشکل ترین تھا۔

 نامساعد حالات میں بھی دینِ حق کی حمایت میں ان معصومات طاہراتؓ کا کوشاں رہنا اور اسلام کے فروغ میں معاونت جاری رکھنا، ان کے دینی معیار و کردار کا اعلیٰ نمونہ ہے جو تمام امت کی مسلم خواتین کے لیے قابل رشک مغل اور لائق تقلید عمل ہے ۔ 

یاد رہے کہ اسی نوعیت کا ایک واقعہ سیدہ فاطمہؓ کے متعلق بھی محدثین نے ذکر کیا ہے ۔ جو اپؓ کے حالات میں ان شاء اللہ تعالیٰ درج کیا جائے گا ۔

 واقعہ شعب ابی طالب میں جناب ابو العاصؓ کی مخلصانہ خدمات ( شیعہ کی کتاب سے)

 سیرت نگار علماء نے شعب ابی طالب کے واقعات کے تحت لکھا ہے کہ: ابو العاصؓ بن ربیع، جو آنحضرتﷺ کے داماد تھے ، گھاٹی میں محصور حضرات کے فقروفاقہ کی تنگی کے موقعہ پر ان کی نصرت اور امداد کے لیے گندم اور خرما سے لدے ہوئے شتر لاتے تھے اور انہیں گھاٹی کے دہانہ پر ایک آواز دے کر چھوڑ دیتے تھے۔ تا کہ وہ گھاٹی میں داخل ہو سکیں اور خود وہاں سے واپس آجاتے تھے ۔ اسی طرح محصور حضرات کی جناب ابو العاصؓ خیر خواہی کرتے تھے اور خوراک پہنچانے کا انتظام کرتے تھے۔ اسی بنا پر سردارِ دوجہاںﷺ فرماتے تھے ابو العاصؓ نے ہماری دامادی کی بہترین رعایت کی ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔ اس واقعہ کو شیعہ کے متعدد علماء نے اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے۔ ذیل میں ملا باقر مجلسی کی تصنیف "حیات القلوب" سے اس واقعہ کی اصل عبارت پیش کی جاتی ہے۔

"و ابو العاص بن ربیع که داماد رسولﷺ بود بردر شعب اشترمےآورد که گندم وخرمابر آنها بار کرده بود صدامیزد برآن شتراں که داخل وره میشدند و برمے گشتند. لہٰذا حضرت فرمود کہ ابوالعاص حق دامای مارا نیکورعایت کرو"

 (حیات القلوب صفحہ337 جلد ثانی فارسی مطبوعہ نول کشور لکھنؤ تحت باب بست وششم (26) دربیان دخول شعب ابی طالب)

اسی طرح شیخ عباس قمی نے اس واقعہ کو بعارت ذیل نقل کیا ہے: 

"واز کسانیکہ گاہے برائے آنہا خوردنی مے فرستاد ابوالعاص بن الربیع داماد پیغمبرﷺ و ہشام بن عمرو و حکیم بن حزام بن خویلد برادرزاده خدیجه بود و نقل شده که ابوالعاص شتران از گندم و خرما حمل داده بشعب مے بردور ہامے کرد۔ و ازینجا است که حضرت پیغمبرﷺ فرموده که ابو العاص حق دامادی ما بگذاشت "

(منتهی الآمال از شیخ عباس القمی صفحہ 49 جلد 1 و طبع تہران تحت احوال شعب ابی طالب)

 یعنی شیخ عباس قمی نے حوالہ مذکورہ بالا میں مزید یہ بات واضح کردی کہ شعب ابی طالب میں محصور حضرات کے لیے خوراک پہنچانے کا انتظام کرنے والوں میں ایک ابو العاصؓ بن ربیع بھی تھے جو دامادِ پیغمبرﷺ ہیں۔ دوسرے ہشام بن عمروؓ تھے اور تیسرے شخص حکیم ابنِ حزام بن خویلد تھے جو سیدہ خدیجہ الکبریٰ کے برادرزاہ تھے - 

صفحہ 2 از 17